زلفی کی گاڑی 20 کروڑ کی تو باجوہ کی 30 لاکھ کی کیسے؟

چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی کے چیرمین اور سابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں سے متعلق ہیش ٹیگ ‘عاصم باجوہ منی ٹریل دو’ پاکستان میں ٹوئٹر پر اس وقت سب سے زیادہ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کی جانب سے اپنی قیمتی ترین لگژری گاڑی کی مالیت صرف تیس لاکھ روپے ظاہر کرنا ہے جب کہ مارکیٹ میں اس کی قیمت کروڑوں میں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے اثاثہ جات اور شہریت سے متعلق تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد سے سوشل میڈیا صارفین اس معاملے کی جان چھوڑنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ کپتان کے معاونین کی دہری شہریت سے لے کر پاکستان اور بیرون ملک انکی جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور کاروباری شراکت داریوں تک فراہم کی گئی ہر تفصیل پر مسلسل تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ان شخصیات میں سے چند کے زیر استعمال لگژری گاڑیاں بھی بہت سارے سوشل میڈیا صارفین کا دل لبھا رہی ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین ان مہنگی گاڑیوں کی بتائی گئی قیمتیں سن کر سکتے میں ہیں۔ بہت سارے صارفین ایسے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ معاونین اور مشیران کی جانب سے ان کی گاڑیوں کی بتائی گئی قیمتیں مارکیٹ ریٹ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتیں۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق مثال کے طور پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کی ’ٹیوٹا زیڈ ایکس‘ کو ہی لے لیجیے۔ ان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیل کے مطابق سنہ 2016 ماڈل کی اس لگژری گاڑی کی قیمت تیس لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔ عاصم باجوہ کی جانب سے یہ قیمت ظاہر کرنے کی دیر تھی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گاڑیوں کی منڈی سج گئی۔ کسی نے انھیں اس گاڑی کے ڈیڑھ کروڑ آفر کیے تو کسی نے ایک کروڑ۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو 50 لاکھ آفر کر رہے مگر ساتھ لکھ رہے ہیں کہ اس ماڈل کے ’یہ بھی کم ہیں۔‘
اسی طرح معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے ہونڈا وی ٹی آئی ماڈل 2015 کی قیمت 22 لاکھ جبکہ معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی، سید ذوالفقار عباس بخاری نے پاکستان میں اپنے زیر استعمال ٹیوٹا لینڈ کروزر 2012 کی قیمت 20 کروڑ بتائی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گِل کے اثاثوں کے مطابق ان کے پاس بینک لیز پر لی گئی بی ایم ڈبلیو ہے، جس کی قیمت 43 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے،اور اس کے علاوہ ان کے پاس کیمری کار ہے جس کی مالیت 22 لاکھ سے زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر اثاثوں کی تفصیل فراہم کرتے وقت ان کی مالیت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے اور اگر غلط تفصیلات فراہم کی جائیں تو سزا کس نوعیت کی ہوتی ہے۔
انکم ٹیکس کے مقدمات کی پیروی کرنے والے سینیئر وکیل محمد ادریس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی ٹرانسفر کے وقت اس کی جو قیمت بشمول ٹیکس و دیگر اخراجات آتی ہے وہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں لکھی جاتی ہے۔’سادہ زبان میں آپ کہہ لیجیے کہ گاڑی خریدتے وقت اس کی جو قیمت طے ہو کر کاغذات میں لکھی گئی ہو گی وہ ہی اس کی مالیت ہو گی اور ٹیکس معاملات اور کاغذات میں وہی قیمت درج کی جائے گی۔ یہ قیمت کسی بھی اثاثے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر ویلتھ سٹیٹمنٹ میں کسی بھی اثاثے کی مالیت درست نہ لکھی جائے تو یہ قابل سزا جرم ہے اور اگر ایسا ثابت ہو جائے تو اثاثے کی اصل قیمت اور بتائی گئی قیمت میں موجود فرق پر ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
لگژری گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے ایک کار ڈیلر تنویر عباسی کہتے ہیں کہ بعض اوقات اہم شخصیات بیرون ممالک سے مہنگی گاڑیاں منگواتی ہیں اور ان پر کسٹم سمیت بہت سے دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستانی مارکیٹ میں عاصم باجوہ کی ملکیتی ماڈل کی ’ٹیوٹا زیڈ ایکس‘ کی سنہ 2010 ماڈل کی قیمیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ توقیر عباسی کے مطابق اس ماڈل میں اگر ٹاپ آف دی لائن نہ بھی ہو تو بھی گاڑی کی قمیت دو کروڑ روپے کے قریب ہوتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ عام صارفین کو بیرون ملک سے گاڑی پاکستان لانے پر بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
جہاں حزب اختلاف کے بہت سے سیاستدان کابینہ کے غیر منتخب اراکین کی جانب سے اپنے اثاثوں کی غلط قیمت بتانے کے معاملے کو لے کر حکومت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں وہیں تحریک انصاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون میں مشیروں کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن وزیراعظم نے ایسا اقدام کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ تاہم اس معاملے پر وزیراعظم خود بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ ماضی میں عمران خان غیر ملکی شہریت رکھنے والوں کو کابینہ میں شامل کرنے کے سخت ناقد رہے ہیں۔ بطور اپوزیشن رہنما عمران خان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے کابینہ کا رکن بن کر پاکستان کے مفادات کی بجائے دوسرے ملک کے مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ شدید عوامی تنقید کے بعد عمران خان غیر ملکی شہریت رکھنے والوں کو اپنی کابینہ سے فارغ کرتے ہیں یا نہیں؟
