زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانے کی ترمیم منظور

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا جس میں زینب الرٹ بل اور معذور افراد سے متعلق بل کا جائزہ لیا گیا۔ زینب الرٹ بل کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھانے سے متعلق ترمیم کی منظوری دے دی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بتایا کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے زینب بل میں ترامیم پر رضا مندی ظاہر کی ہے، کوشش ہوگی کہ دونوں بل غور کے بعد منظور کرلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کے اندر کچھ خامیوں کو ٹھیک کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ مذکورہ بل اسلام آباد تک محدود ہو یا پورے ملک تک دائرہ کار بڑھایا جائے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ بچے کے لاپتہ ہونے کے بعد فرسٹ انفارمیشن (ایف آئی آر) کے اندراج میں تاخیر ہوتی ہے اور پولیس والوں کو یہ پتہ تک نہیں ہوتا کہ ایف آئی آر کیسے درج کی جائے۔ انہوں نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ ترمیم کرلیں تو پورے ملک میں ایک تبدیلی آجائے گی۔ سینیٹر کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی کے کیسز خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں اور اس مقصد کے لیے خصوصی عدالتیں پورے ملک میں قائم کی جائیں جو 3ماہ کے اندر کیسز نمٹانے کی پابند ہوں۔
بعدازاں کمیٹی نے زینب الرٹ بل کا دائرہ کار ملک بھر تک بڑھانے کی ترمیم منظور کرلی، واضح رہے کہ اس سے قبل زینب الرٹ بل کا اطلاق صرف اسلام آباد تک محدود تھا۔
بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سینیٹر قرۃالعین مری نے یہ کہہ کر ترمیم کی مخالفت کی کہ بل کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھانا اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی ہوگی۔
واضح رہے کہ ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی قصور کی کمسن زینب انصاری کی لاش کے ملنے کے ٹھیک 2 سال بعد رواں برس 10 جنوری کو قومی اسمبلی نے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019 متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔
مذکورہ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے جون 2019 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ منظور کردہ بل کے مطابق ‘بچوں کے خلاف جرائم پر عمر قید، کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال سزا دی جاسکے گی جبکہ 10 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا’۔
علاوہ ازیں لاپتہ بچوں کی رپورٹ کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی اور 18 سال سے کم عمر بچوں کا اغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لیے زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایجنسی بھی قائم کی جائے گی۔
بل میں کہا گیا تھا کہ ‘جو افسر بچے کے خلاف جرائم پر دو گھنٹے میں ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی’۔ بل کی منظوری کے وقت کہا گیا تھا کہ قانون صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لاگو ہوگا تاہم آج سینیٹ قائمہ کمیٹی نے اس کا دائرہ کار پورے ملک تک وسیع کرنے کی منظوری دے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button