شہری نے ‘عہد وفا’ پر پابندی کےلیے عدالت سے رجوع کرلیا

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے اشتراک سے بننے والے ٹی وی ڈرامے پر جہاں سوشل میڈیا پر اس ڈرامے کو شائقین کا ملا جلا ردعمل موصول ہورہا ہے وہیں اب سیاستدانوں اور میڈیا کی کردار کشی کے الزام میں اس ڈرامے پر پابندی کےلیے لاہور کے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
‘عہد وفا’ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض بھی اٹھایا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کےلیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
محمد ذیشان نامی قانون کے طالب علم نے لاہور کے ہائی کورٹ میں ‘عہد وفا’ پر پابندی کےلیے درخواست دائر کی تھی۔ اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں سیاستدان، میڈیا، بیوروکریسی اور فوج کے کردار دکھائے گئے جبکہ سیاستدانوں اور میڈیا کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عہد وفا میں سیاستدانوں اور میڈیا کی کردار کشی سے دنیا میں پاکستان کا منفی تاثر جارہا ہے۔ محمد ذیشان نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس ڈرامے پر پابندی کا حکم دے۔
خیال رہے کہ اس ڈرامے کی کہانی 4 دوستوں پر مبنی ہے جو اسکول میں ہوئے ایک جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے دور تو ہوجاتے ہیں لیکن ہمشیہ ساتھ گزارے لمحات کو یاد کرتے ہیں۔ ڈرامے کی کہانی کے مطابق چاروں دوست لارنس کالج میں اکٹھا پڑھتے ہیں، تاہم قواعد کی خلاف ورزی پر 3 دوستوں کو کالج سے نکال دیا جاتا ہے جبکہ ایک دوست جس کا کردار احد رضا میر ادا کررہے ہیں وہ فوج کا افسر بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تین دوستوں میں سے ایک رکن اسمبلی، ایک صحافی اور ایک بیوروکریٹ بن جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے اشتراک سے بننے والے اس ڈرامے ‘عہد وفا’ کی ہدایات سیفی حسن دے رہے ہیں جب کہ اس کی کہانی مصطفیٰ آفریدی نے تحریر کی۔
