سائفر لیک، کیا عمران خان اب عمر بھر جیل میں سڑیں گے؟

امریکی ویب سائٹ "دی انٹرسیپٹ” پر امریکی اور پاکستانی سفارتکاروں کے درمیان گزشتہ سال ہونے والی گفتگو پر پاکستانی سفیر کے مبینہ ‘سائفر ‘کا متن شائع ہونے سے ایک بار پھر اس معاملے پر بحث چھڑ گئی ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ حکومت ہٹانے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے اور سائفر کے سامنے آنے کے بعد عمران خان کیلئے کیا مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سائفر کے منظر عام پر آنے سے عمران خان کے سیاسی امکانات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔اس کے برعکس،حکومت سائفر لیک کو عمران خان کے خلاف استعمال کر سکتی ہے جس سے ان کے لئے عدالتی انصاف کی کوششوں میں پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہیں۔مبینہ سائفر کی اشاعت سے پاکستانیوں میں امریکہ کے متعلق تاثر خراب ہو سکتا ہے لیکن یہ امریکہ اور پاکستان کے موجودہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی نیوز ویب سائٹ ‘دی انٹر سیپٹ’ نے دعوی کیا تھا کہ اس نے مارچ 2022 کو واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید اور ایک اعلی امریکی سفارتکار کے درمیان ہونے والی گفتگو کے متن کی کاپی پاکستانی فوج کےنامعلوم ذریعہ سے حاصل کی ہے۔انٹرسپٹ نے نو اگست کی اپنی اشاعت میں یہ دعوی کیا تھا کہ عمران خان نے جس سائفر کا تذکرہ کیا ہے، اس کی ایک کاپی ان کے پاس ہے۔ اس میگزین کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سات مارچ سن 2022 کی ایک میٹنگ میں پاکستان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کو یوکرین جنگ پہ ’جارحانہ غیر جانب داری کے نقطہ نظر‘ کی وجہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے اقتدار سے نکلنے سے پہلے عوامی جلسوں میں یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکہ نے ان کو اقتدار سے نکالنے کی ایک سازش تیار کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اس سازش کا الزام جنرل باجوہ، شہباز شریف اور محسن نقوی پر لگایا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر ذوالفقار علی بخاری نے بتایا کہ عمران خان شروع سے ہی یہ کہہ رہے تھے جو اب انکشاف میگزین میں ہوا ہے۔اسلام اباد سے تعلق رکھنے والی صحافی فریحہ ادریس کا کہنا ہے کہ اگر اس اشاعت کے مندرجات صحیح ہیں تو پھر یہ وہی بات ہے جو عمران خان کافی عرصے سے کہہ رہے تھے۔’اس انکشاف کے بعد ایک پیچیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جو کچھ عمران خان کہہ رہے تھے وہ صیح ہو۔ تاہم اس کا حل یہ ہے کہ اس سارے معاملے کی انکوائری کی جائے۔فریحہ ادریس بھی تسلیم کرتی ہیں کہ اس انکشاف کے مندرجات سے سازش کا کوئی تاثر نہیں ملتا، ”عمران خان کا اصل دعوی یہی تھا کہ امریکہ نے سازش کی ہے۔ لیکن ان مندرجات سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکہ نے ایسی کوئی سازش کی تھی۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ عمران خان نے سازش کے حوالے سے اپنا دعوی واپس بھی لے لیا تھا۔‘‘

تاہم کچھ دوسرے مبصرین کے خیال میں اس سے عمران خان کی کہیں سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ پاکستان کے سابق سفیر برائے امریکہ حسین حقانی نے اس حوالے سےبتایا، ”اس مسئلے کے حوالے سے جو انٹرسیپٹ نے شہہ سرخی لگائی ہے، وہ گمراہ کن ہے۔ اگر ایک امریکی سفیر پاکستانی سفیر کو یہ بتاتا ہے کہ اس کی حکومت پاکستانی وزیر اعظم کو پسند نہیں کرتی اور یہ کہ تعلقات ایک دفعہ پھر بہتر ہو سکتے ہیں اگر وہ وزیراعظم چلا جائے، تواس سے کہیں بھی دباؤ کا تاثر نہیں جاتا اور نہ ہی کسی دھمکی کا عندیہ ملتا ہے۔‘‘

جہاں پاکستان میں کئی حلقے اس انکشاف کے مندرجات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، وہیں مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ماضی میں کہا تھا کہ ان کے پاس سائفر تھا وہ اور وہ گم ہو گیا تھا، ”سائفر کے معاملے کی تحقیقات ہونا چاہیے اور یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ یہ ڈاکومنٹ مستند ہے کہ نہیں۔‘‘ اگر اس حوالے سے خان گنہگار ٹھہرتا ہے، تو اس پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج، شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہےکہ سائفر کا یوں شائع ہونا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس میں جو لوگ ملوث ہیں ان کے لیے بہت سنجیدہ نوعیت کے نتائج ہو سکتے ہیں اور ان کو قانون کے تحت عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بات صرف یہ نہیں رہ گئی کہ جس طرح عمران خان نے کہا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا ہے، ظاہر ہے جو گم ہو گیا ہے وہی شاید کسی تک پہنچا ہے یا پہنچایا گیا ہے اور وہ لوگ جو یہاں سے بھاگ کر گئے ہیں شہباز گل یا معید پیرزادہ یا اور اس طرح کے لوگ، ظاہر ہے وہی لے کر گئے ہیں اور اگر پہلے اس کی تحقیقات نہیں کی گئیں تو اب کھلا کھلا تحقیقات کا جواز پیدا ہو گیا ہے۔اس لیک کے بہت سنجیدہ نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ کی پوری سیکیورٹی جو کورڈ ورڈز میں ہوتی ہے اس کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

Back to top button