گوگلی کی خبر درست ثابت، انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم منتخب

انوار الحق کاکڑ کی بطور وزیر اعظم تعیناتی سے گوگلی نیوز کی خبر درست ثابت ہوئی، 11اگست کو گوگلی نیوز نے خبر دی تھی کہ آئندہ منتخب ہونے والے نگران وزیر اعظم کی کنیت "کے” ہو گی اور اس کا تعلق پنجاب کی بجائے کے پی کے یا بلوچستان سے ہو گا۔ انوار الحق کاکڑ کے انتخاب نے گوگلی نیوز کی خبر سچ کر دکھائی کیونکہ نہ صرف ان کے نام کی کنیت "کے” سے شروع ہوتی ہے بلکہ ان کا تعلق بھی چھوٹے صوبے بلوچستان سے ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور وزیر اعظم ہاؤس نے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم بنائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے درمیان ملاقات میں نگران وزیراعظم کیلئے نام کا انتخاب ہوگیا۔ وزیراعظم شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے درمیان ملاقات میں انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں سبکدوش ہونے والے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے پاس نگراں وزیراعظم کا نام طے کرنے کا آج آخری روزتھا، نام فائنل نہ ہونے کی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جانا تھا تاہم اب انوار الحق کاکڑ کے انتخاب سے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے یا اس کو تحلیل کیے جانے کے بعد آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت دو سے تین ماہ کی مدت کے لیے صدر نگراں حکومت کے قیام کی منظوری دیتا ہے۔ یہ نگراں حکومت نئے انتخابات کرانے کی ذمے دار اور نئی حکومت کی تشکیل تک ملکی امور چلانے کی مجاز ہوتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں 1990 سے اب تک سات نگراں حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں آٹھویں نگراں حکومت قائم ہو گی۔پاکستان میں اب تک سات نگراں وزرائے اعظم مقرر ہو چکے ہیں۔جسٹس (ر) ناصر الملک یکم جون 18 اگست 2018 تک ملک کا انتظام سنبھالنے والی پاکستان کی ساتویں نگراں حکومت کے وزیرِ اعظم تھے۔
وہ 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے۔ یہیں کے ایک اسکول سے میٹرک کیا جب کہ گریجویشن کے لیے انہیں ایڈورڈز کالج پشاور جانا پڑا۔انہوں نے 1977 میں لندن سے بار ایٹ لا کیا تھا اور ہ واپس پشاور آکر وکالت شروع کر دی تھی۔وہ 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری منتخب ہوئے جس کے بعد دو مرتبہ 1991 اور 1993 میں بار کے صدر رہے۔انہیں چار جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد ترقی پا کر 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ بنائے گئے۔
میر ہزار خان کھوسو کا تعلق بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے تھا۔نگراں وزیرِ اعظم کے طور پر ان کا تقرر 25 مارچ 2013 کو عمل میں آیا اور پانچ جون 2013 کو وہ اپنے منصب سے سبکدوش ہوئے۔وہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔بلوچستان یونیورسٹی میں پروفیسر رہنے کے ساتھ ساتھ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ان سے ان کے عہدے کا حلف لیا تھا۔
محمد میاں سومرو 16 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008 تک نگراں وزیراعظم رہے۔محمد میاں سومرو ملک کے پانچویں نگراں وزیرِ اعظم تھے۔ انہوں نے چار ماہ اور آٹھ دن تک یہ فرائض نبھائے۔محمد میاں سومرو پیشے کے اعتبار سے بینکر تھے۔ وہ 2003 سے 2009 تک سینیٹ کے چیئرمین بھی رہے۔انہیں 25 نومبر 2000 کو اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے سندھ کا گورنر بنایا تھا۔انہیں شوکت عزیز کی وزارتِ اعظمیٰ کے خاتمے اور یوسف رضا گیلانی کے نئے وزیرِ اعظم بننے تک فرائض منصبی سونپے گئے تھے۔
ملک معراج خالد نے چھ نومبر 1996 سے 17 فروری 1997 تک بطور نگراں وزیرِ اعظم اپنے فرائض انجام دیے۔وہ سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کی جانب سے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیے جانے پر نگراں وزیرِ اعظم مقرر ہوئے۔معراج خالد کی زیرِ نگرانی عام انتخابات ہوئے جس کے بعد اقتدار کی باگ ڈور ایک مرتبہ پھر نواز شریف کے ہاتھوں میں آ گئی۔
معین الدین احمد قریشی 18 جولائی 1993 کو نگراں وزیرِ اعظم بنے اور 19 اکتوبر 1993ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔نگراں وزیرِ اعظم بننے سے قبل طویل عرصے سے بیرونِ ملک رہنے کے باعث ان کے پاس قومی شناختی کارڈ تک نہیں تھا۔ لہٰذا انتخابات سے قبل ان کا قومی شناختی کارڈ بنوایا گیا جس کے بعد انہوں نے ووٹ ڈالا۔معین قریشی نے نواز شریف کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد نگراں وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری نبھائی۔
آئینی طور پر نگراں وزیرِ اعظم کی مدت تین ماہ یا 90 دن ہوتی ہے لیکن بلخ شیر مزاری ایسے واحد نگراں وزیرِ اعظم ہیں جنہوں نے صرف 39 دن تک بطور نگراں وزیرِ اعظم اپنے فرائض انجام دیے کیوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت بحال ہونے کے بعد نگراں حکومت کالعدم ہوگئی تھی۔وہ 18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک ملک کے دوسرے نگراں وزیرِ اعظم رہے۔
غلام مصطفیٰ جتوئی ملک کے پہلے نگراں وزیرِ اعظم تھے۔ وہ چھ اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد تین ماہ کے لیے اس عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ان کے عہدے کی مدت چھ اگست 1990 سے شروع ہو کر چھ نومبر 1990ء کو ختم ہوئی تھی۔
