سابق امریکی صدر ٹرمپ دھوکہ دہی میں ملوث ہیں،عدالت کا فیصلہ

امریکی عدالت نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کو دھوکہ دہی میں ملوث قرار دیدیا۔جج آرتھر اینگورانے ریمارکس دیئے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ اوران کی کمپنی نے اپنے اثاثوں کی مالیت بڑھا چڑھا کر پیش کی تھی۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ ان کی ایک پراپرٹی کا خواہش مند خریدار سعودی عرب میں موجود ہے۔ عدالت میں جن پراپرٹیز کی مالیت بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ان میں مار اے لاگو، پارک ایونیو پر واقع عمارت، ٹرمپ ٹاور میں پینٹ ہاؤس اور ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں ایک اسٹیٹ شامل ہے۔

اٹارنی جنرل لٹیشیا جیمز نے الزام لگایا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اثاثوں کو2.2ارب ڈالر بڑھا کر پیش کیا تھا تاکہ وہ بہتر بزنس ڈیل کر سکیں۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ٹرمپ کے وکلا کا دعوی تھا کہ سابق صدر نے اثاثوں کی قیمت درست بتائی تھی اور یہ وہ مالیت ہے جو ٹرمپ نے بطور وژنری رئیل اسٹیٹ ڈیولپر سمجھی تھی۔جبکہ عدالت نے مقدمہ قابل سماعت نہ ہونے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست مسترد کردی تھی، سابق صدر ٹرمپ اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے خلاف کیس پیر سے

باجوہ رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے،شاہد خاقان کی ن لیگ پر تنقید

عدالت میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

Back to top button