سابق صدر آصف زرداری طبی ضمانت پر پمز ہسپتال سے رہا

احتساب عدالت سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمز سے رہا کردیا گیا۔ پمز ہسپتال سے روانگی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو بھی موجود تھی جبکہ جیالوں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر وہاں پر موجود تھی۔
قبل ازیں وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں آصف زرداری کے وکلا میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین کیس میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے پہنچے تھے۔اس موقع پر رب نواز اور سردار توقیر نے آصف زرداری کے ضمانتی مچلکے رجسٹرار احتساب عدالت کو پیش کیے، جس پر رجسٹرار نے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ منسلک دستاویز تصدیق کروانے کی ہدایت کر دی۔بعد ازاں تحصیل دار آفس سے دستاویز کی تصدیق کے بعد رب نواز اور سردار توقیر نے بطور ضامن ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروائے، اس دوران راجا صابر اور راجا زاہد نے ضمانتی مچلکوں سے متعلق گواہی دہی۔ اس موقع پر جج احتساب عدالت محمد اعظم خان نے پوچھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کس کیس میں ضامن بن رہے ہیں، جس پر رب نواز نے جواب دیا کہ جی معلوم ہے۔ جس کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے آصف زرداری کی رہائی کی روبکار سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے نام پر جاری کی۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی کراچی روانگی کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔آصف زرداری کی 12 دسمبر کو کراچی رانگی متوقع ہے۔ کراچی ایئر رپورٹ سے انھیں کلفٹن میں واقع ضیاالدین اسپتال لایا جائے گا،ضیاالدین اسپتال میں ان کے لیے علیحدہ سے وی آئی پی روم تیار کیا گیا ہے۔ جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انھیں اسپتال میں داخل کر لیا جائے گا۔ سابق صدرضیا الدین اسپتال کے وی آئی پی سوٹ2 چوتھے فلور میں زیر علاج رہیں گے ،سب سے پہلے ان کی انجیوگرافی کی جائے گی اور ضرروت پڑنے پر ان کی انجیوپلاسٹی بھی جائے گی۔ ڈاکٹر ندیم قمر زرداری صاحب کے کارڈیالوجی کنسلٹینٹ ہوں گے، ضیا الدین اسپتال میں زرداری صاحب کے داخل ہونے پر ان کے میڈیکل ٹیسٹ کرائیں جائیں گے جس کی روشنی میں علاج شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آصف زرداری کو دل کی بیماری کے ساتھ دیگر امراض بھی لاحق ہیں، ان کی ریڑھ کی ہڈی اسپائینل کوڈL5.S1 میں شدید پرابلم بتائی گئی ہے جبکہ نیورولوجی مسائل کا بھی سامنا ہے،NICVD کے سربراہ پروفیسر ندیم قمر ان کے میڈیکل بورڈ کے سربراہ ہوں گے میڈیکل بورڈ 6 رکنی ماہرین پر مشتمل ہے، کراچی کے ضیا الدین اسپتال میں ان کے سٹی اسکین سمیت انجیوکرافی اور انجیوپلاسٹی کا پلان ترتیب دیا جارہا ہے، معلوم ہوا ہے آصف زرداری کو ملٹی پل طبی مسائل کا سامنا ہے، ان کی ریڑھ کی ہڈیوں کے مہروں میں بھی پیچیدگیاں ہیں،
واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری طبیعت کی ناسازی کے باعث پاکستان انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز (پمز) میں زیر علاج تھے۔ 11 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔
عدالت عالیہ نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ آصف زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن الزامات جب تک ثابت نہیں ہوتے آصف زرداری معصوم اور بے گناہ ہیں، لہٰذا انہیں ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض طبی بنیادوں پر ضمانت دی جارہی۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن صرف کسی کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہونے پر اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے اور آصف زرداری کو بنیادی آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ضمانت نہ دینا آصف زرداری کے بنیادی حقوق کی خلاق ورزی ہو گی، قید میں ہوتے ہوئے آصف زرداری کا علاج قومی خزانے سے ہو رہا تھا لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد وہ اپنی مرضی اور اپنے خرچ سے علاج کرائیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں عدالت عالیہ میں سابق صدر کی جانب سے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں جعلی اکاؤنٹس اور پارک لین کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے لیے مالی معاونت میں غبن کے الزمات کا سامنا کررہے ہیں۔نیب کی جانب سے الزام ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے 3 ارب 77 کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو 10 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ابتدائی طور پر ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔بعد ازاں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار آصف زرداری کا عدالتی ریمانڈ دے دیا گیا تھا اور انہیں جیل منتقل کردیا تھا، جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں پمز منتقل کردیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button