سری لنکن مینیجر نے مشینوں سے سٹیکرز کیوں اتروائے؟


معلوم ہوا ہے کہ سیالکوٹ میں شدت پسندوں کے ہاتھوں توہین مذہب کے نام پر مارے جانے والے سری لنکن فیکٹری منیجر نے کپڑے سینے والی مشینوں پر لگے ہوئے مذہبی اسٹیکرز اس لیے اتروائے تھے کہ اگلے چند روز میں ایک غیر ملکی آڈٹ ٹیم وہاں کا دورہ کرنے والی تھی اور مالکان نے مینجر کو مشینیں صاف کروانے اور فیکٹری میں پینٹ کروانے کی ہدایت کی تھی۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ برآمدات کے حوالے سے کراچی کی ٹکر کا شہر ہے۔ اگر پاکستان کھیلوں کا سامان برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو اسکا کریڈٹ بھی سیالکوٹ کو جاتا ہے کیونکہ اسکے علاوہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کھیلوں کا سامان نہیں بنتا۔ بتایا جاتا ہے پہ چند سال پہلے تک سیالکوٹ کی فیکٹریوں میں پروڈکشن روایتی طریقوں سے ہوا کرتی تھی۔ لیکن چونکہ خطے کے دیگر ممالک بشمول بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش پروڈکشن میں جدت کے حوالے سے پاکستان سے بہت آگے نکل چکے ہیں لہذا سیالکوٹ میں بھی یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ پروڈکشن کے طریقہ کار میں جدید طریقوں کا استعمال کر کے دنیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔
چونکہ سری لنکن اور بنگلہ دیشی اس میدان میں پاکستان سے بہت اگے نکل چکے ہیں اور وہاں پروڈکشن سائنسی بنیادوں پر شروع ہوچکی ہے لہٰذا سیالکوٹ کی بہت ساری کمپنیوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش، چین، کوریا اور جاپان سے ماہرین کو بلا کر ملازمتیں دیں اور اپنی فیکٹریوں کی پروڈکشن کا کام ان کے حوالے کردیا تاکہ کاروبار میں دنیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔
بتایا جاتا ہے کہ چونکہ سیالکوٹ میں بننے والا زیادہ تر سامان بیرون ملک ایکسپورٹ ہوتا ہے اس لیے امریکہ اور یورپ کے گاہک اکثر سیالکوٹ کی کسی نہ کسی کمپنی میں کاروبار کے سلسلے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے بڑے بڑے برانڈز سیالکوٹ میں اپنی پروڈکشن کرواتے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں سستی اور اچھی کوالٹی کی اشیا مل جاتی ہیں۔ سیالکوٹ کی جس فیکٹری میں سری لنکن پروڈکشن مینجر کو قتل کیا گیا وہ بھی ایک بین الاقوامی برینڈ ‘باس’ کے لیے سپورٹس کے ملبوسات تیار کرتی ہے۔ ایسے برانڈز چونکہ بین الاقوامی قوانین کی۔پاسداری کے پابند ہوتے ہیں اس لئے وہ پاکستانی کمپنیںوں کو بھی پروڈکشن شروع کروانے سے پہلے انہی قوانین کا پابند بناتے ہیں۔
ان قوانین میں مزدوروں کے حقوق اور انکی زندگی کا تحفظ، ان کے لیے صحت مندانہ ماحول فراہم کرنا، انہیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنا، قانون کے مطابق انکو مناسب معاوضہ دینا اور جبری مشقت اور چائلڈ لیبر سے پرہیز کرنا شامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے تمام بین الاقوامی برانڈز اپنے آڈیٹرز کے ذریعے سیالکوٹ میں ان کے لیے پروڈکشن کرنے والی فیکٹریوں کا باقاعدہ آڈٹ بھی کرواتی ہیں۔ جس کمپنی کی فیکٹری ان برانڈز کے آڈٹ کے معیار پر پورا اترتی ہے اسکے ساتھ پروڈکشن کے معاہدہ برقرار رہتے ہیں لیکن جو سٹینڈرڈز پر پوری نہ اترے اسکے ساتھ معاہدہ ختم کردیا جاتا ہے اور وہ کسی اور کمپنی یا کسی اور ملک کا رخ کر لیتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ جب سری لنکن مینجر کو بتایا گیا کہ غیرملکی آڈیٹرز فیکٹری کا دورہ کرنے والے ہیں تو کمارا نے فیکٹری کا جائزہ لیا۔ اس سے پہلے وزیرآباد میں تحریک لبیک کے 15 روزہ دھرنے کے دوران تحریک لبیک کے اسٹیکرز اور پوسٹرز فیکٹری کی دیواروں اور مشینوں پر آویزاں ہو چکے تھے۔ عام طور پر ان چیزوں پر توجہ نہیں دی جاتی لیکن چونکہ فیکٹری کا آڈٹ ہونے جارہا تھا اور مالکان نے مشینوں کی صفائی اور دیواروں پر پینٹ کروانے کا حکم دیا تھا چنانچہ کمارا نے ان کو ہٹانے کے لیے کہا تا کہ فیکٹری کا ماحول صاف ستھرا نظر آئے اور آڈٹ پاس ہو سکے۔ یہ ذمہ داری فیکٹری کے مینیجرز کی ہی ہوتی ہے۔ راجکو کمپنی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لیکن جب سری لنکن مینجر نے اپنی ڈیوٹی کے مطابق دیواوں سے پوسٹرز اور مشینوں سے سٹیکرز اتروانے کی کوشش کی تو اس پر توہین مذہب کا الزام عائد کرکے اسے نہ صرف قتل کر دیا گیا بلکہ اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔
راجکو کمپنی کے مالکان کے مطابق، سری لنکن مینجر کا صفائی کے معاملے پر سٹاف کے چند باریش مذہبی عناصر سے جھگڑا چل رہا تھا اور اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جس کو توہین مذہب کا رنگ دیا جا سکے۔ کمارا کئی سال سے اس کمپنی میں کام کر رہا تھا اور اپنی ڈیوٹی کے معاملے میں سخت تھا۔ ماتحت عملہ اکثر سخت مینجرز کو پسند نہیں کرتا اسکے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ اسکے قتل میں ذاتی عناد کا عنصر بھی موجود تھا۔ لہذا سری لنکن مینجر کمارا اسی ذاتی عناد کی وجہ سے توہین مذہب کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ تاہم اس کے بہیمانہ قتل سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ظاہر ہوں گے۔

Back to top button