سعودی حکام کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کے قتل کی تردید

سعودی حکام نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ چند روز پیشتر بغاوت کی ایک ناکام کوشش کے دوران سعودی کنگ شاہ سلمان یا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا قتل ہو گیا تھا. سعودی حکام نے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سرکاری فرائض ادا کرتے ہوئے تصاویر جاری کرتے ہوئے ان کے زخمی یا قتل ہونے کی افواہوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور حسب معمول اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اس سے پہلے کچھ خلیجی ٹی وی چینلز نے انتہائی باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ حرمین شریفین کی بندش کا معاملہ کرونا وائرس سے نہیں بلکہ سعودی عرب میں ایک تازہ فوجی بغاوت سے جڑا ہوا ہے، جس کے تمام کردار گرفتار کیے جاچکے ہیں لیکن صرف تین افراد کے نام سامنے لائے گئے جن کا تعلق شاہی خاندان سے ہے جس میں سے ایک نام شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کا ہے جن کے اپنے بھائی سے برسوں پرانے اختلافات ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں شاہ سلمان کے بھتیجے یعنی شاہ عبدالعزیز کے صاحبزادے بھی شامل ہیں۔
خلیجی ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بغاوت کی شروعات شہزادہ محمد بن سلمان کو قتل کرنے کی کوشش سے ہوئی تھی جس کے بعد خانۂ کعبہ کے احاطے سے ایک نئی حکومت کا اعلان کیا جانا تھا تاہم یہ کوشش مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی۔ سعودی عرب میں مبینہ بغاوت کے شروع ہوتے ہی بحرین کے نیوز چینل پر شہزادہ محمد بن سلمان کے قتل کے ٹکرز چلنے شروع ہوگئے تھے لیکن سعودی حکام فوری حرکت میں آئے اور کچھ ہی دیر بعد وہ ٹکرز ٹی وی سے ہٹا دئیے گئے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ بزرگ سعودی حکمران شاہ سلمان کے بھائی احمد بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے شہزادہ محمد بن نائف کو بغاوت کے الزام میں جمعے کے روز ان کی رہائش گاہوں سے سیاہ نقاب پوش شاہی محافظوں نے گرفتار کیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس سے ریاست کے حقیقی حکمرانوں کی طاقت مزید مستحکم ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حراستوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مخالفت کے آخری راستوں کو مسدود کردیا ہے۔
امریکی اخبار نے بتایا کہ سعودی شاہی عدالت نے تخت کے ممکنہ دعویدار دونوں افراد پر ’شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو ہٹانے کے لیے بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے اور انہیں تا عمر قید اور سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے بھی باغی باپ اور بیٹےکو حراست میں لینے کی رپورٹ دی تھی جس میں بتایا گیا کہ شہزادہ محمد بن نائف کے والد اور چھوٹے بھائی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر سعودی حکام باقاعدہ کوئی تبصرہ کرنے سے انکاری ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان دونوں خیریت سے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ سعودیہ میں حالیہ حراستیں ولی عہد محمد بن سلمان کے کریک ڈاؤن کی تازہ کڑی ہیں جنہوں نے نمایاں مذہبی رہنماؤں اور ایکٹیویسٹس کے ساتھ ساتھ شہزادوں اور کاروباری افراد کو حراست میں لے کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
یاد رہے کہ شاہ سلمان کے باغی بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی عمر 70 برس ہے جو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے اسکینڈل کے بعد لندن سے واپس سعودی عرب آگئے تھے جسے ان کی جانب سے بادشاہت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔
اکتوبر 2018 میں لندن سے واپسی سے قبل وہ سعودی شاہی خاندان کے خلاف یمن کے تنازع پر ایک مظاہرے کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر تنازع کا شکار ہوگئے تھے۔ سوشل میڈیا پر اس بیان کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اس قتل سے سعودی خاندان کا کیا لینا دینا، اس کے ذمہ دار دو افراد ہیں یعنی بادشاہ اور ولی عہد‘۔
دوسری جانب جس شخص کو سعودی عرب میں بغاوت کی کوشش کا مرکزی سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے اس کا نام
شہزادہ محمد بن نائف ہے جو کہ سابق ولی عہد اور سابق وزیر داخلہ ہیں تاہم انہیں موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی بادشاہت کا جانشین بننے کے لیے کچھ برس پہلے نکال باہر کیا تھا۔ اس حوالے سے اس وقت مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ برطرف شہزادے کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے تاہم اس دعوے کو سعودی حکام نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
تاہم ابھی تک ان اطلاعات کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سعودی عرب میں تمام گورنر ہاوس اور شاہی محل کی سکیورٹی پاکستانی آرمی کےحوالےکر دی گئی ہے اور 20 کے قریب باغی شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خلیجی ذرائع ابلاغ نے یہ خبریں بھی چلائی تھیں کہ ریاض اورجدہ سمیت تمام شاہی محل پاکستان آرمی کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button