سکردو: مسافر کوسٹر دریا برد، سوار تمام 25 افراد جاں بحق

راولپنڈی سے اسکردو آنے والی کوسٹردریا میں جا گری جس کے نتیجے میں 25 مسافرجاں بحق ہوگئے ہیں۔
راولپنڈی سے اسکردوآنے والی مسافرکوسٹردریا میں جاگری جس کے نتیجے میں 20 مسافرجاں بحق جبکہ 5 مسافرزخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ بھی جان کی بازی ہارگئے۔ جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی
ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق نے حادثے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے حادثے میں 4 افراد کے زخمی ہونے کا بتایا تھا جو بعدازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ ترجمان نے بتایا کہ اب تک 9 لاشیں دریا سے نکالی جاچکی ہیں اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثے کا شکار بدقسمت کوسٹر راولپنڈی سے اسکردو جارہی تھی جس میں 25 افراد سوار تھے۔ موڑ کاٹتے ہوئے کوسٹر بے قابو ہو کر دریا میں جاگری جبکہ 5 مسافر کوسٹر کے دریا میں گرنے سے قبل اس سے باہر گر کر شدید زخمی ہوئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ مذکورہ حادثہ علی الصبح پیش آیا، دریا میں بقیہ لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
اسکردو کے ڈپٹی کمشنر خرم پرویز نے بتایا کہ لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے جنہیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال شفٹ کیا جارہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حادثے کا شکار بدقسمت کوسٹر راولپنڈی سے اسکردو جارہی تھی جس میں 25 افراد سوار تھے۔
موڑ کاٹتے ہوئے کوسٹر بے قابو ہو کر دریا میں جاگری جبکہ 5 مسافر کوسٹر کے دریا میں گرنے سے قبل اس سے باہر گر کر شدید زخمی ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ مذکورہ حادثہ علی الصبح پیش آیا جس میں 9افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دریا میں بقیہ لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں موسم کی شدت کے باعث گلگت میں برفانی تودے گرنے سے 5 فوجی جوانوں سمیت کئی افرادجاں بحق ہوگئے تھے۔ اس سے قبل 22 ستمبر 2019 کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے بابوسر ٹاپ پر تیز رفتار بس کو حادثہ پیش آنے کے نتیجے میں 10 فوجی اہلکار سمیت 26 افراد جاں بحق ہوگئے۔ قبل ازیں 8 اگست کو گلگت کے علاقے جگلوٹ میں ایک ہی خاندان کی 5 خواتین کپڑے دھونے کے دوران دریائے سندھ میں ڈوب گئی تھیں۔ اس ضمن میں بتایا گیا تھا کہ ’خواتین دریا کے کنارے پر کپڑے دھو رہیں تھیں کہ اس دوران ایک خاتون کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں جا گریں‘، اس دوران دیگر رشتے دار خواتین نے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کی اور وہ تمام دریائے سندھ میں ڈوب گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button