سعودی عرب نے تبلیغی جماعت پر پابندی کیوں لگائی؟

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے تبلیغی جماعت کو گمراہ اور دہشت گرد قرار دے کر نہ صرف اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے بلکہ علماء کو ہدایت کی گئی ہے کہ خطبہء جمعہ میں تبلیغی جماعت کے خلاف وعظ کیا جائے۔ جہاں ایک طرف سعودی حکومت کے اس فیصلے کو بعض لوگ جائز اور بروقت قرار دے رہے ہیں وہیں فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے اسے غیر منصفانہ اور انتہائی قابل اعتراض فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے وھابیت پھیلانے کے ساتھ ساتھ ملک میں مغربی کلچر کے فروغ کی جانب سفر سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ضعیف العمر سعودی فرمانروا شاہ سلیمان کے تمام اختیارات ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہیں جو ملک کو امریکہ کی طرح آزاد خیال بنانے کے لئے ایک طرف بھارتی فنکاروں کو ریاض میں کنسرٹ کروانے کے لئے بلواتے ہیں تو دوسری طرف فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والی تبلیغی جماعت کو گمراہ اور دہشت گرد جماعت قرار دے کر سعودی ملاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ پچھلے دنوں سعودی عرب کی وزارت اسلامی نے ایک اعلامیے کے ذریعے آئمہ مساجد کو ہدایت جاری کی کہ وہ اپنے جمعے کہ خطبوں میں لوگوں کو تبلیغی جماعت سے خبردار کریں اور لوگوں کو روکیں کہ وہ اس جماعت میں شامل ہوں اور بتایا جائے کہ اس جماعت پر پابندی لگ چکی ہے۔ اعلامیے میں تبلیغی جماعت کو ایک گمراہ اور دہشتگرد جماعت قرار دیا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت پر گمراہی کے الزام بارے جماعت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان پر گمراہی کا الزام لگانے والے لوگوں کو جماعت تبلیغ پر یہ اعتراض ہے کہ یہ ان علماء سے اعلان برات نہیں کرتی جو ان کے نزدیک اپنی کچھ عبارتوں کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج کر دیے گے۔ لہذا یہ گروہ جماعت تبلیغ کو بھی اسی دائرے میں رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ معترضین کو تبلیغی جماعت کی کتاب ”فضائل اعمال“ پر بھی تحفظات ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں ایسی چیزیں موجود ہیں جو ان کی تشریح کے مطابق انسان کو شرک و کفر کی طرف لے جاتیں ہیں۔ تبلیغی جماعت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سعودی علماء درحقیقت ”محمد بن عبد الوہاب نجدی“ کے افکار و نظریات سے متاثر ہیں اور انہیں ”شیخ الاسلام“ کا درجہ دیتے ہیں۔ سعودی فرمانروا اور آل شیخ کہلانے والی سلفی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کسی صورت دوسرے فقہ یا مسلک کو اسلام کی تشریح کی اجازت دینے کے حق میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں سلفی ازم پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ناقدین کے نزدیک محمد بن عبد الوہاب نجدی کے بارے متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ کسی کو لگتا ہے کہ وہ ایک عظیم مصلح تھے اور انہوں نے عقیدہ توحید کی خوب اشاعت کی لیکن وہیں پر دوسری طرف کئی ایسے علماء موجود ہیں جو کہ محمد بن عبدالوہاب کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں ”بد عقل“ سمجھتے تھے۔ خود محمد بن عبدالوہاب نجدی کو ان کے بھائی سلیمان بن عبد الوہاب کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑھا۔ اس کے علاوہ احناف کے جید علماء انہیں خارجی نظریات رکھنے والا قرار دیتے رہے ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کی شخصیت کو لے کر شدید اختلاف موجود ہے۔
دوسری جانب تبلیغی جماعت کے ناقد سعودی سلفی علماء جمعے کے خطبوں میں ان خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ سعودی عرب ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ سعودی شہریوں کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو سعودی عرب میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس جماعت کی اصل برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور نبی کریم کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے لہٰذا سعودی عرب کی فتویٰ دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں کیونکہ کہ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
مذہبی جماعتوں پر طویل عرصے سے رپورٹنگ کرنے والے پاکستانی صحافی سبوخ سید کے مطابق ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں کہ سعودی عرب میں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں القاعدہ اور الاخوان المسلمون وغیرہ کے لوگوں کے علاوہ فرقہ واریت میں ملوث تنظیموں کے لوگوں نے بھی کسی نہ کسی طرح تبلیغی جماعت کی صفوں میں شامل ہو کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رائے ہمیشہ سے رہی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستان اور دیگر ممالک کی تبلیغی جماعت کے مقابلے میں انڈیا کی تبلیغی جماعت کا زیادہ عمل دخل ہے۔ انڈیا میں بھی گذشتہ دنوں تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات موجود ہیں جن میں پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بظاہر تبلیغی جماعت کے ساتھ مصروف عمل لوگوں کو تبلیغ کے دوران گرفتار کیا تھا، جن میں کچھ سعودی شہری اور دیگر بھی شامل تھے جس کے بعد سے سعودی شہریوں کو تبلیغ کے نام پر کچھ عرصے سے ویزے جاری نہیں کیے جا رہے ہیں اور اس کی وجہ سعودی حکومت بھی ہو سکتی ہے۔ سبوخ سید کے مطابق بظاہر ایسے لگتا ہے کہ سعودی حکومت کو یہ شبہ ہے کہ اپنے ملک میں احباب کے نام سے مشہور تبلیغی جماعت کی صفوں میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جو موجودہ سعودی فرمانروا کے خلاف شدید جذبات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح شاید انھیں یہ بھی شبہ ہے کہ ایسی تنظیمیں جن پر سعودی عرب نے پابندی عائد کر رکھی ہے، وہ تبلیغی جماعت یا احباب کے نام سے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے سعودی عرب کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سبوخ سید کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سعودی عرب کے نظام کے تحت اسلام کی تشریح، اسلامی قوانین، دعوت و تبلیغ اور اسلامی معاملات میں فتویٰ وغیرہ دینے جیسے کاموں کی کسی بھی جماعت کو اجازت نہیں ہے بلکہ یہ سارے کام حکومت اپنی مختلف وزارتوں کی وساطت سے خود کرتی ہے۔ اس صورتحال میں بھی وہاں پر تبلیغی جماعت یا احباب کے کام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کی جانب سے حالیہ ٹویٹ اور جمعے کے خطبات میں تبلیغی جماعت کے حوالے سے ایک بار پھر بات کرنے کا مطلب تبلیغی جماعت یا احباب کے لوگوں کو وارننگ جاری کرنا ہو سکتا ہے جس میں ممکنہ طور پر اگر کوئی سرگرمی سعودی حکومت کے نوٹس میں آئی تو اس پر شدید کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ سبوخ سید کے خیال میں حکومت کے نزدیک ممکنہ طور پر تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے قدامت پسند ماحول پیدا ہو سکتا ہے اور دوبارہ وارننگ جاری کرنے کا مقصد قدامت پسند روایات کو ترک کرنے کی پالیسی بھی ہو سکتی ہے۔
