TTP نے سیز فائر ختم کر کے دہشت گرد حملے تیز کر دئیے

تحریک طالبان کی جانب سے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ طور پر توڑ کر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافے کا بنیادی مقصد حکومت پاکستان پر اپنی شرائط تسلیم کروانے کے لیے دباؤ ڈالنا قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں حکومت پاکستان کے ساتھ سیز فائر ختم کرنے کا اعلان کرنے کے بعد تحریک طالبان نے قبائلی علاقہ جات میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیز فائر کا اعلان کرتے وقت تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ ایسا کرنے پر اس لیے مجبور ہوئے کہ حکومت پاکستان ان کے ساتھ طے شدہ کئی معاملات پر پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم حکومت اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب ٹی ٹی پی نے ایک ماہ کی جنگ بندی کے یکطرفہ خاتمے کے بعد سکیورٹی فورسز، پولیس اور انسداد پولیو ٹیم کے ساتھ تعینات اہلکاروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا شروع کر دی ہے تاکہ حکومت پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
کالعدم تنظیم کے ترجمان نے بڑی ڈھٹائی سے تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام حملے ِخیبر پختونخوا کے علاقوں میں کیے گئے ہیں۔ دو حملے باجوڑ، دو شمالی وزیرستان اور دو حملے ضلع ٹانک میں کیے گے ہیں۔ ان دہشت گرد حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے کئی اہلکارر مارے گے ہیں۔ ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں چاچا کلے کے مقام پر دو روز پہلے حملے میں دو سکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی۔
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دو روز پہلے پولیس موبائل گاڑی پر حملے میں پانچ اہلکار اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں انسداد پولیو مہم کے لیے تعینات ٹیم کے ساتھ سکیورٹی کی خدمات سرانجام دینے والے 2 اہل کاروں کو نامعلوم افراد نے دو مختلف حملوں میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
طالبان کی جانب سے جنگ بندی ختم کر کے سکیورٹی فورسز پر دوبارہ حملوں کے عمل نے ایک مرتبہ پھر ان دفاعی تجزیہ کاروں کو صحیح ثابت کیا ہے جو مزاکرات کے دوران ہی ان خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ دونوں فریقین کے مابین کوئی امن معاہدہ طے پانا نا ممکن ہے۔ یاد رہے کہ جنگ بندی کا اعلان 9 نومبر کو کیا گیا تھا جس دوران معاملات آگے بڑھائے جانے تھے لیکن طالبان نے 9 دسمبر کو جنگ بندی کے خاتمے کا یکطرفہ اعلان کر دیا۔ اس بارے میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مہینے کی جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین میں معاملات اس لئے آگے نہ بڑھ سکے کہ تحریک طالبان کی جانب سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری تھیں جب کہ معاہدے کے تحت ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک طالبان اگر قانون کے مطابق چلے گی تو ٹھیک ہے ورنہ حکومت ان کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں کر چکی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ فواد نے یہ مضحکہ خیز دعوے بھی کیے گئے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور حکومت کی رٹ بدستور برقرار ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا جائے گا تو جوابی کارروائی ضرور ہوگی۔
جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوری بعد تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان نے بامقصد مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور یہ ’شرعی سیاست کا حصہ ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلح جدوجہد جاری رہے گی اور مذاکرات اگر کامیاب ہوتے ہیں تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
طالبان کی جانب سے سیز فائر ختم کیے جانے کے بعد کی صورتحال میں مختلف اندازے سامنے آ رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر اس طرح کی تنظیموں کا واحد ہتھیار ان کی مسلح کارروائیاں ہی ہوتی ہیں جس سے وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان بھی جب امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے تو ان مذاکرات کے آخری دنوں میں تشدد کی کارروائیاں بڑھا دی گئی تھیں تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جائے اور وہ ان کے مطالبات تسلیم کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنگ بندی کا خاتمہ کر کے مسلح کارروائیاں شروع کرنے کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہو ہے۔ اس معاملے پر سابق پاکستانی سفیر ایاز وزیر کا کہنا ہے کہ انھیں ’زمینی حقائق کا علم نہیں ہے کہ مذاکرات کہاں ہو رہے ہیں، کون کر رہا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ضرور ہے۔ اگر افغانستان میں حالات بہتر ہوں گے اور وہاں امن ہوگا تو یہاں حالات بہتر ہو سکیں گے۔‘
یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن چند روز سے افغان طالبان کی جانب سے بھی پاکستان میں نظام حکومت کے بارے میں ایک بیان سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان ان کے زیر اثر نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بیان مفتی نور ولی کے اس بیان کے جواب میں دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کے زیر اثر ہے۔ بظاہر افغان طالبان اب خود کو تحریک طالبان سے علیحدہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات میں ثالثی کا کردار بھی افغان حکومت ہی ادا کر رہی تھی۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دراصل افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور مل جل کر پاکستانی حکام کو ماموں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
