انسداد ہراسانی کی محتسب نے بھی ہراسانی کا دعویٰ کر دیا


وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی کشمالہ طارق نے اب یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں خود بھی زندگی میں کئی مرتبہ جنسی ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سماء ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کشمالہ طارق نے کہا کہ انہیں بطور محتسب برائے انسداد پراسانی بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد ان سے استعفے لینے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ مجھے کئی مرتبہ ہراساں کیا گیا۔ اس عہدے پر بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے دور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے دور میں خواتین کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیسز میں سات گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
کشمالہ کا دعویٰ ہے کہ جنسی ہراسانی کے کیسز میں دلیرانہ فیصلے کرنے کی وجہ سے ان کی مسلسل کردار کشی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کی جانب سے بھی ان سے استعفیٰ لینے کے لئے بارہا دباؤ ڈالا گیا تاہم وہ ان تمام ہتھکنڈے ناکام بنا کر ڈٹی ہوئی ہیں۔ کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ یے کہ خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے کیسز میں اچھے بھلے پڑھے لکھے بیورو کریٹ اور 22 گریڈ کے افسر بھی شامل ہیں جن کے خلاف میں نے کوئی رعایت کئے بغیر ایکشن لیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور میں بینکوں اور بڑے بڑے آرگنائزیشن کے ہیڈز کو جنسی ہراسانی کے الزام ثابت ہونے پر استعفی دینا پڑا۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر مہذب ممالک کی طرح خواتین کو آزادانہ طور پر ہراسانی کے خوف کے بغیر کام کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ہر عورت کا حق ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2021 میں کشمالہ طارق نے خاتون ملازمہ کو ہراساں کرنے کے کیس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے ایک سینئر عہدیدارا کو عہدے سے برطرف کرنے اور 20 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ کشمالہ طارق نے اپنے حکم میں لکھا کہ جنوری 2020 میں پیمرا کے اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والی خاتون نے ڈی جی پیمرا حاجی آدم کے خلاف جنسی ہراسانی کی آن لائن درخواست دائر کی تھی۔
حکم میں کہا گیا کہ ’شکایت کنندہ نے پیمرا عہدیدار کے خلاف تمام ثبوت پیش کیے اور ثابت کیا کہ حاجی آدم نے کام کی جگہ پر خاتون کو 11 نومبر 2019 کو جنسی طور۔پر ہراساں کیا‘۔ دوسری جانب حاجی آدم اپنے اس مؤقف کو ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ انہیں شکایت کنندہ کے ذریعے کسی اور کے اکسانے پر بطور سازش اس کیس میں جھوٹا پھنسایا گیا۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ حاجی آدم کے خلاف کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کے قانون 2010 کے تحت کارروائی کے بعد۔پیمرا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ انہیں سروس سے برطرف کیا جائے اور وہ متاثرہ خاتون کو 20 لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کریں۔ اسکے علاوہ کشمالہ نے بطور محتسب حاجی آدم کا شریک جرم ثابت ہونے پر ایک اور اعلی سطحی پیمرا عہدیدار فخرالدین مغل کی تنزلی کرنے اور۔انہیں 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ حکمنامے میں پیمرا چئیرمین کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات ختم کرنے کے لیے دفتر میں کیمرے نصب کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات سننے کے لیے مستقل کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

Back to top button