سمیع ابراہیم، مریم ملک کو گرفتاری سے روک دیا گیا

ایف آئی اے کو اینکرپرسن سمیع ابراہیم اور پی ٹی آئی کی کارکن مریم ملک کی گرفتاری سے روک دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں حکم امتناعی جاری کر دیا ہے، پی ٹی آئی کارکن مریم ملک اور اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو اداروں کی تنقید کا نشانہ بنانے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مدعی کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان زینب حاضر مزاری عدالت میں پیش ہوئیں جو زیادہ تر اسے صحافیوں کے کیسز کی وکالت کر رہی ہیں، جن پر سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متنازعہ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) آرڈیننس اور ہتک عزت کو جرم قرار دینے والے پیکا کے سیکشن 20 کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
مریم ملک نے اس بات کا انکشاف سینئر جرنلسٹ مطیع اللہ جان کے وی لوگ کے دوران کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ایمان زینت حاضر مزاری پیکا آرڈیننس کے تحت درج ہونے والے کیسز کی ماہر وکیل ہیں اس لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وکلا نے بھی درخواست درج کروانے کے لیے ایمان زینب حاضر مزاری کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کے دوران ایمان زینب حاضر مزاری سے اس تبدیلی کی وجہ دریافت کی۔ عدالتی استفسار پر ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اس حکومت میں بھی شہریوں کو ہراساں کرنے کے عمل کو نہیں روکا، اور ادارہ مسلسل سوشل ایکٹیوسٹ کو نوٹس بھیج رہا ہےاس وجہ سے وہ تحقیقاتی ادارے کے خلاف پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کا دفاع کر رہی ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کی کہ ایف آئی اے نے مریم ملک کو نوٹس جاری کیا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار ان کے گھر بھی گئے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 31 مئی تک جواب طلب کیا ہے۔عدالت نے ایف آئی اے کو مریم ملک اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئےایف آئی اے کا نوٹس اگلی تاریخ تک روک دیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ایف کو 16 اپریل تک سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ (سی سی ڈبلیو) کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ایف آئی اے نے فوج اور عدلیہ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر ریاست مخالف ویڈیوز اور بیانات نشر کرنے کے الزام میں ابراہیم کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔
ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ سمیع ابراہیم ریاستی اداروں کے حوالے سے جعلی خبریں پھیلانے میں ملوث ہیں۔سمیع ابراہیم اس وقت امریکا میں ہیں، اس لیے ان کی والدہ نے ایڈووکیٹ راجا عامر عباس کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔جسٹس من اللہ نے سمیع ابراہیم کے وکیل سے استفسار کیا کہ تحقیقات شروع کرنے کی وجہ کیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بہت سے صحافی بظاہر منصفانہ صحافت نہیں کر رہے۔
سمیع ابراہیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل 16 مئی کو پاکستان واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے نوٹس میں کسی شکایت کنندہ یا ادارے کا نام نہیں لیا گیا، ان پر فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کا الزام لگایا تاہم عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کیس آئندہ سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی۔
