سنا مکی کے استعمال سے گریز کیا جائے

اداکارہ صبا حمید کی لوگوں کو سنا مکی کے استعمال سے گریز کرنے کی اپیل، سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں اداکارہ نے کہا کہ کرونا وائرس کے مریض اس جڑی بوٹی کا کسی صورت استعمال نہ کریں ورنہ پانی کی کمی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کچھ روز سے سوشل میڈیا پر کرونا وائرس کے علاج کےلیے سنا مکی نامی جڑی بوٹی کے استعمال کے حوالے سے کافی باتیں وائرل ہوئیں۔
بنا کسی تحقیق کے کچھ عناصر نے یہ بات عام کر دی کہ سنا مکی کا استعمال ہی کرونا وائرس کا علاج ہے۔ تاہم ڈاکٹرز اور ماہرین نے ایسے تمام دعوے مسترد کر دیے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی طبی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ سنا مکی سے کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے۔ سنا مکی سے کرونا وائرس کا علاج تو ممکن نہیں، لیکن اس کے استعمال سے کرونا مریض کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
Covid patients should not use sana makki,it’s a laxative,it dehydrates the patient and he/she can die,only normal people can take it for constipation but that too once a day and little in quantity,there is no medical evidence that it’s a covid cure.
— Saba Hamid (@Sabhamid) June 14, 2020
اس حوالے سے اب معروف اداکارہ صبا حمید کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا گیا ہے:
اداکارہ کا کہنا ہے کہ کرونا مریضوں کےلیے سنا مکی کا استعمال خطرناک ہے۔ سنا مکی کے استعمال سے کرونا مریض پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس باعث ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ تندرست لوگ قبض کے علاج کےلیے سنا مکی کا استعمال کر سکتے ہیں، تاہم وہ بھی دن میں صرف ایک مرتبہ اور انتہائی کم مقدار میں۔
میڈیکل سائنس نے اب تک یہ بات ثابت نہیں کی کہ سنا مکی کرونا وائرس کا علاج ہے، بلکہ اس کا استعمال مسلسل موشن کے مسئلے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے قبل لاہور کے میو اسپتال میں زیر علاج ایک کرونا مریض کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا تھا جس میں اب کی جانب سے لوگوں کو تلقین کی گئی تھی کہ سنا مکی کا استعمال نہ کیا جائے۔ سنا مکی کے استعمال سے مسلسل موشن آتے ہیں اور انسان بیٹھنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔
