سنتھیا کو سیاستدانوں کے خلاف بیانات دینے سے روک دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کو پاکستان کی سیاسی شخصیات کے خلاف بیانات دینے سے روکتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ سے بزنس ویزا پالیسی پر وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔
منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں رہیں ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پہلے تو عدالت کو بتایا گیا تھا کہ امریکی بلاگر پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ پراجیکٹس پر کام کر رہی تھیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ اس حوالے سے پالیسی کیا ہے؟ کیا بیرون ملک سے آ کر کوئی بھی یہاں کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا سنتھیا موجودہ حکومت کے خلاف بھی بیانات دیں تو کیا پالیسی یہی ہو گی؟
وزارت داخلہ کے نمائندے نے جب عدالت کے سامنے اس حوالے سے ایک آرڈر پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا یہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے؟ کیا کوئی قانون یا پالیسی نہیں ہے؟، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جو بتائے کہ غیر ملکیوں کےلیے پاکستان کی ویزا پالیسی کیا ہے؟ کل کوئی اور بزنس ویزے پر آ کر وزیراعظم کے خلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی شہری سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے کی درخواست سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما افتخار احمد نے دائر کر رکھی ہے۔
اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ امریکی شہری کے پاکستان میں ویزے کی میعاد نہ صرف ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جو ملک کے خلاف ہیں۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر سنتھیا ڈی رچی کے پاکستان میں قیام سے متعلق وزارت داخلہ کا بیان بھی عدالت میں پیش کیا۔ گزشتہ ماہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں جو کہ غیر قانونی یا ملک کے قانون کے خلاف ہو۔ وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سنتھیا رچی کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور ان کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔
گزشتہ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ وہ وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنچ کریں گے جس میں کہا گیا ہے امریکی بلاگر کا پاکستان میں قیام غیر قانونی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران یہ ثابت کریں گے کہ سنتھیا رچی کو ویزے میں دی جانے والی توسیع نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ وہ پاکستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اُن کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شکیل عباسی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر ایف آئی اے کو سنتھیا رچی کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ‘نازیبا’ ٹویٹس کرنے اور درخواست گزار کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر سنتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندارج کی استدعا کی تھی۔ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اور ایف آئی اے میں جاری تحقیقات کو رکوانے کے لیے سنتھیا رچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو کہ 22 جون کو مسترد کر دی گئی تھی۔
اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار سنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے ماتحت عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنامے کا ذکر کیا تو چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حکم میں تو ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو انکوائری کا مکمل اختیار ہے، ‘ایف آئی اے سے توقع ہے کہ وہ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر کارروائی کرے گی۔’
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد پولیس سنتھیا ڈی رچی کی طرف سے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کر چکی ہے۔
پولیس کا موقف ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے سابق وزیر داخلہ پر مبینہ جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button