سنجرانی ناکام: کیا جام کمال استعفیٰ دینے جا رہے ہیں؟


معلوم ہوا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کے خلاف دائر تحریک عدم اعتماد واپس دلوانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں جس کے بعد اکثریت کھو دینے کے خوف کا شکار جام کمال استعفی دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت جس مشکل سے دوچار ہے اسکے خاتمے کے لیے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے تھے اور پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور اختلاف نے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ گراﺅنڈ ورک مکمل کرنے کے بعد انھوں نے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے جس کی کامیابی یقینی ہے بلکہ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے حکومتی صفوں میں ناراضی زیادہ ہونے کی وجہ سے شاید تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے ہی وزیر اعلیٰ جام کمال۔خان کو مستعفی ہونا پڑے۔
سیاسی مبصرین کی یہ رائے ہے کہ اگر تمام ناراض اراکین یا ان کی اکثریت کو دوبارہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی حمایت پر قائل نہیں کیا جاسکا تو وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک کی کامیابی کے امکانات قوی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے لیکن وزیر اعلیٰ کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اس پر 16 اراکین کے دستخط ہیں۔بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 65 ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اراکین کی تعداد 42 ہے۔65 کے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے سادہ اکثریت یعنی 33 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔
حزب اختلاف کے رکن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نصراللہ زیرے نے بتایا کہ حکومتی اتحاد میں بہت سارے لوگ ناراض ہیں اس لیے وہ بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں اراکین کی ناراضی کے باعث ہوسکتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے ہی وزیر اعلیٰ خود مستعفی ہو جائیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما ملک نصیر شاہوانی کا کہنا تھاکہ انھوں نے ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔ حزب اختلاف کے لوگ ویسے ہی وزیر اعلیٰ سے ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جام کمال بلوچستان کو نہ تو صحیح گورننس دے سکے اور نہ ہی انہون نے ترقیاتی بجٹ کو منصفانہ تقسیم کیا۔ظلم یہ کہ ترقیاتی بجٹ کے 13 ارب روپے وزیر اعلیٰ اپنے ضلع میں اپنے ہی حلقے میں لگائے اور حزب اختلاف کے حلقوں کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد جب صورتحال گھمبیر ہوئی تو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے دیگر رہنما کوئٹہ پہنچ گئے۔انھوں نے پہلے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی جہاں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین اسمبلی کی بہت بڑی تعداد موجود نہیں تھی۔
یاد رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں وزیر اعلیٰ کے خلاف ناراض اراکین کے گروپ میں جو اراکین فرنٹ پر ہیں ان میں سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبد القدوس بزنجو اور سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں۔قدوس بزنجو وزیر اعلیٰ جام کمال کو اعلانیہ شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا یہ موقف ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال حکومت کو چلا سکے اور نہ ہی بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ حیثیت سے پارٹی کو۔
سردار محمد صالح بھوتانی سے اختلاف اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ وزیر اعلیٰ نے ان سے بلدیات کا محکمہ واپس لے لیا تھا جس پر انھوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد چیئرمین سینٹ کی قیادت میں پارٹی کے رہنما جب قدوس بزنجو کے گھر گئے توبلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی اکثریت موجود تھی۔ قدوس بزنجو کے گھر پر مجموعی طور پر 17 اراکین تھے جن میں سے 15کا تعلق وزیر اعلیٰ کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا۔ان کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے پارلیمانی رہنما اسد بلوچ اور کابینہ سے برطرف کیے جانے والے تحریک انصاف کے رکن میر نصیب اللہ مری بھی وہاں موجود تھے۔
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار رشید بلوچ نے یہ دعوی کیا ہے کہ اسمبلی میں اکثریت کھونے کے بعد وزیر اعلی جام کمال خان استعفی دینے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکمران جماعت باپ میں دو گروپ بنے ہیں۔ ایک کی سربراہی سپیکر عبدالقدوس بزنجو اور دوسری کی جام کمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جنہوں نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے انکا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 23 اراکین کے علاوہ 13 حکومتی اراکین اسمبلی کی یقین دہانی بھی موجود ہے اور اسی لیے وہ اس تحریک کو کامیاب ہوتا دیکھتے ہیں۔ رشید بلوچ نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا جن اراکین کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے ان میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جنکا تعلق باپ پارٹی سے ہے۔ تاہم بی این پی عوامی بھی اپوزیشن کا ساتھ دے سکتی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر سینئیر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس وقت وزیر اعلیٰ اور ان کے مخالفین کے درمیان اعصاب کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ لیکن بلوچستان میں یہ پہلا موقع نہیں، ماضی میں بھی مخلوط حکومتوں کے باعث وزرا اعلیٰ دباﺅ میں رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صادق سنجرانی کی صلح کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو سکیں گی کیونکہ اسوقت وزیر اعلیٰ بلوچستان کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ حزب اختلاف سے زیادہ ان کی اپنی جماعت کے ناراض لوگوں کی وجہ سے ہے۔

Back to top button