سندھ میں آٹا پھر مہنگا

صوبہ سندھ میں سرکاری طور پر گندم کے 100 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ کرنے کے بعد فلور مل مالکان نے آٹے کی قیمت میں اضافی کردیا ہے،7 ماہ میں آٹے کی قیمت میں فی کلو 16 روپے تک اضافہ۔
اضافے کے بعد ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 47 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 48 روپے فی کلو، آٹے کے 10 کلو کے تھیلے کی قیمت 480 روپے سے بڑھ کر 485 روپے ہوگئی جب کہ میدے اور فائن آٹے کی قیمتیں 50 روپے 50 پیسے سے بڑھ 52 روپے 50 پیسے ہوگئیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس گندم کے 100 کلو گرام کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 250 روپے تھی جو اضافے کے بعد 3 ہزار 450 روپے ہوگئی۔ رواں برس اپریل میں ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 33 روپے 50 پیسے فی کلو اور 10 کلو کے تھیلے کی قیمت 340 روپے تھی جبکہ میدہ اور فائن آٹے کی قیمت 36 روپے 50 پیسے فی کلو تھی۔
اپریل تا اکتوبر کے عرصے میں ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں فی کلو ساڑھے 14 روپے، میدہ اور فائن آٹے کی قیمت میں 16 روپے فی کلو جب کہ آٹے کے 10 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت میں 145 روپے اضافہ ہوا۔ اپریل سے لے کراب تک چکی کے آٹے کی قیمت میں 18 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے چیئرمین خالد مسعود نے کہا کہ گندم کے 100 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے اضافے کا مل مالکان کی جانب سے آٹے کی قیمت میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی بوری کی قیمت میں 100 روپے اضافے کو قرار دیا۔چیئرمین سندھ زون نے مزید کہا کہ گزشتہ 6 ماہ سے سندھ کی گندم پنجاب جانے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم مسلسل کم ہورہی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے حال ہی میں گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس سندھ حکومت نے گزشتہ برس کے اسٹاک کی بنیاد پر قیمتوں کا اعلان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button