نوازشریف سروسز سے شریف میڈیکل کمپلیکس جائیں گے

سابق وزیراعظم نوازشریف چاہتے ہیں کہ اگلے چند روز میں ان کی حالت بہتر ہوجائے تو وہ سروسز ہسپتال سے اپنے رائیونڈ والے گھر کے قریب واقع شریف میڈیکل کمپلیکس میں داخل ہوکر اپنا بقیہ علاج کروائیں. تاہم اگر ان کی حالت بہتر نہ ہوئی تو پھر بیرون ملک علاج کی آپشن پر غور کیا جائےگا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت اور شریف فیملی کی جانب سے میاں نواز شریف کی منت سماجت کی گئی کہ وہ علاج کے لئے بیرون ملک جانے پر آمادگی ظاہر کردیں تاہم یہ نوازشریف نے ایسا کرنے سے واضح انکار کیا۔ جس کے بعد شریف میڈیکل کمپلیکس اور حمید لطیف ہسپتال میں منتقلی کا آپشن رکھا گیا جس پر میاں نواز شریف نے شریف میڈیکل کمپلیکس جانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جب میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہوگئی تو انہیں شریف میڈیکل سٹی منتقل کردیا جائے گا۔
میڈیکل بورڈکے ارکان کی جانب نواز شریف کی فیمیلی سے کہا گیا ہے کہ وہ نوازشریف سے کم سے کم ملاقات کریں۔ میڈیکل بورڈکے ارکان نے مریم نواز اور شہبازشریف سے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کونوازشریف سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔علاوہ ازیں میڈیکل بورڈکے ماہرین نے نواز شریف کی ہارٹ اٹیک کی علامات نارمل آنے پر بھی اطمینان کا اظہارکیا ہے تاہم نواز شریف نے امراض خون کے ماہر ڈاکٹرطاہر شمسی سے مسلسل رابطے اور نجی طور پر علاج کرانے کی یقین دہانی بھی لی ہے، نواز شریف نے میڈیکل بورڈکے تمام اراکان کا انتہائی شکریہ بھی اداکیا۔میڈیکل بورڈ کے بعض اراکان سے بات چیت میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بیرون ملک نہیں جاؤں گا اور اپنے ہی ملک میں علاج کو ترجیح دوں گا۔ دریں اثنا سابق وزیراعظم نوازشریف کو خون کی بیماری کی تشخیص کرنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی واپس کراچی پہنچ گئے تاہم وہ میاں نواز شریف کے علاج کے لیے قائم کیے گئے میڈیکل بورڈ کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔
میاں نواز شریف کی علاج کے لئے لندن جانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، تاہم ملک کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے میاں نواز شریف کسی صورت پاکستان چھوڑنے پر رضامند نہیں اور وہ اسے اپنی سیاسی موت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شریف میڈیکل ل کمپلیکس منتقل ہونے کے بعد بھی میاں نواز شریف مکمل طور پر صحتیاب نہ ہوئے اور اسی اثناء مریم نواز کو بھی ضمانت مل گئی تو ممکنہ طور پر نوازشریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ پاکستان سے باہر جانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاہم اس کے امکانات انتہائی محدود ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button