پلیٹلیٹس پھر گر گئے’ نواز شریف کی حالت تشویشناک

سابق وزیراعظم نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور ان کے خون میں موجود پلیٹلیٹس کی تعداد 45 ہزار سے اچانک کم ہو کر 25 ہزار پر آ گئی ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ 27 اکتوبر بروز اتوار کو انکے پلیٹلیٹس میں صرف 24 گھنٹوں میں بیس ہزار کی کمی آگئی۔ ہفتے کی رات کو پلیٹ لیٹس کے میگا یونٹس لگنے کے بعد نواز شریف کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد 45 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور اس مرض کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی ادویات ان کے پلیٹلیس کو تیزی سے ختم کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ اگر میاں نواز شریف کو دل کے مرض کے لیے ادویات کا استعمال روک دیا تو ان کے انھیں دل کا دورہ پڑنے کا خدشہ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق میاں نواز شریف کو جمعرات کی شام دل کا معمولی دورہ بھی پڑا تھا۔
تفصیلات کے مطابق نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں ایک بار پھر کمی آ گئی ہے اور ان کے گردوں کے فنکشن بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی صحت تاحال تشویشناک اور غیر مستحکم ہے اور ان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈسچارج نہیں کیا جا رہا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کی طبعیت بحال کرنے کے لیے ان کا علاج جاری ہے۔ اس وقت میاں نواز شریف کی دیکھ بھال کے لئے ان کی صاحبزادی مریم نواز نواسے جنید صفدر گھر اور اور مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب موجود ہیں۔ سرکاری میڈیکل بورڈ نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاج کے لئے کسی دوسرے اسپتال مت جائیں کیونکہ کسی بھی دوسرے ڈاکٹر کے لیے ان کی بیماری کو سمجھنے میں وقت لگے گا۔ کہا جارہا ہے کہ نواز شریف بھی فی الحال چند دنوں کے لئے سروسز ہسپتال لاہور میں ہی سرکاری میڈیکل بورڈ کی زیرنگرانی علاج کروانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت قدرے بہتر ہے اور ان کے پلیٹلیٹس آج مستحکم ہیں۔پروفیسر محمود ایاز نے کہا کہ جب تک علاج مکمل نہیں ہو جاتا نواز شریف یہاں ہی ہیں، نواز شریف نے کسی اور جگہ جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔
خیال رہے کہ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس سے مسلم لیگ ن کے قائد کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستیں بھی منظور ہو چکی ہیں جس کے بعد وہ اپنی مرضی کے اسپتال میں علاج کروا سکتے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر میاں نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تو وہ رائیونڈ میں واقع شریف میڈیکل سٹی منتقل ہوجائیں گے جبکہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت اور شریف فیملی کی خواہش ہے کہ میاں نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک چلے جائیں تاہم نواز شریف نے اس حوالے سے تاحال آمادگی ظاہر نہیں کی۔
