سوات میں دوبارہ فوج تعینات کیے جانے کا امکان

سوات میں تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی واپسی کے بعد بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں شہر کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ چنانچہ اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امن عامہ بہتر بنانے کے لئے ایک مرتبہ پھر سوات میں فوج تعینات کر دی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا خصوصا ًسوات کے عوام نہ صرف تحریک طالبان کے جنگجوؤں سے تنگ ہیں بلکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز سے بھی نالاں ہیں۔ سوات میں ایک سکول وین پر ہوئے حالیہ جان لیوا حملے نے اس علاقے میں طالبان کے دوبارہ فعال ہونے کو کنفرم کر دیا ہے۔ سوات میں طالبان کی واپسی کے خلاف کئی روز سے ہزاروں لوگ مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جب پاکستان کے حسین ترین مقامات میں سے ایک سوات کی وادی طالبان کے زیر قبضہ تھی، جنہوں نے وہاں جابرانہ اقدامات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم پر بھی مکمل پابندی لگا دی تھی۔ سوات کا علاقہ جس کی سرحد پڑوسی ملک افغانستان سے بھی ملتی ہے، اب شاید بہتر طور پر نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ایک دہائی قبل جب ملالہ پندرہ برس کی تھیں، تو طالبان نے انہیں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ سوات میں خواتین کے تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والی ملالہ یوسف زئی طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف ایک توانا آواز تھیں۔ طالبان نے 2012 میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملالہ کو سیکولرازم کو فروغ دینے کی پاداش میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
سوات کی وادی تحریک طالبان پاکستان کا ایک مضبوط گڑھ رہی ہے۔ پاکستانی طالبان کا افغان طالبان سے براہ راست تو کوئی تعلق نہیں مگر وہ ایک ہی جیسے نظریات رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے سوات سے خاتمے کے لیے پاکستانی فوج نے وہاں 2009 میں ایک بڑا فوجی آپریشن بھی کیا تھا۔ لیکن اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ملالہ یوسف زئی نے بیان دیا ہے کہ تب سے اب تک پاکستان میں صورتحال نہیں بدلی اور سوات کے عوام آج بھی طالبان کے ہاتھوں گولیاں کھا رہے ہیں۔ سوات میں پشتون قوم پرست اور دیگر سیاسی جماعتیں حکومت پر طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرنے کا الزام لگا رہی ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ یہ صورت حال سوات کو دوبارہ دہشت گردی کا شکار بنا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بہت سے شہری حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مخالف ہیں۔ ٹی ٹی پی نے 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کر کے 132 کم سن طلبا کو ہلاک کر دیا تھا۔ حکومت طالبان کی سوات میں قابل ذکر تعداد میں موجودگی کے حالیہ خدشات کو مسترد کرتی ہے۔ تاہم گزشتہ برس مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے پولیس پر حملے کے بعد ان قیاس آرائیوں میں تیزی آ گئی تھی کہ سوات میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی خواہش مند ٹی ٹی پی کی علاقے میں واپسی ہو گئی ہے۔
اس سے پہلے سال 2009 میں فوجی آپریشن کے اختتام کے بعد سے سوات میں کاروبار پھل پھول رہا تھا اور مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں نے بھی اس خوبصورت وادی کی سیر کے لیے آنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے 9 سالہ اقتدار کے دوران اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور بظاہر حکومت طالبان عسکریت پسندوں کیساتھ نرمی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
