ایران کے معاہدے سے متعلق دعوے سفید جھوٹ ہیں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے سامنے آنے والے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے نکات کو مکمل طور پر جھوٹ، جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) کے ابتدائی نکات سامنے آ گئے ہیں، جن میں امریکی افواج کے ایران کے قریبی علاقوں سے انخلا اور ایرانی بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی معلومات مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہیں، عوام کو ان خبروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔امریکی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات ضرور جاری ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد امریکی شرائط، مفادات اور ریڈ لائنز ہوں گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا صرف ایسا معاہدہ قبول کرے گا جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مکمل طور پر روکا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی معاہدے پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
