انتخابی دباؤ میں آ کر ایران سے معاہدہ نہیں کریں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مڈٹرم الیکشن کی کوئی پرواہ نہیں، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے میں امریکا کسی قسم کی جلد بازی نہیں کرے گا

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ سیاسی دباؤ یا انتخابات کی وجہ سے جلد فیصلہ کریں گے، تاہم ایسا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ان کی اولین ترجیح امریکا کے مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ انتخابی فائدہ۔ وہ اس حوالے سے آئندہ مڈٹرم انتخابات کے دباؤ کو بھی اہمیت نہیں دیتے۔

سی این این کے مطابق امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا ابھی تک ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حتمی معاہدے سے پہلے تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر ایران اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرتا ہے تو امریکا پابندیوں میں نرمی سمیت دیگر امور پر غور کر سکتا ہے، تاہم ہر فیصلہ امریکی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایرانی میڈیا میں گردش کرنے والی مبینہ مفاہمتی دستاویز کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران معاہدے، خطے کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر امریکی انتظامیہ میں مسلسل مشاورت جاری ہے، جبکہ عالمی برادری بھی سفارتی پیش رفت اور ممکنہ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Back to top button