آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے پر بھی اربوں روپے کی ادائیگیاں کیوں؟

ملکی توانائی شعبے میں کیپسٹی پیمنٹس ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے، جن میں سے صرف 6 ہزار 121 ارب روپے بجلی کی اصل پیداوار کے تھے، جبکہ 7 ہزار 275 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔ یعنی بجلی گھروں کو دستیاب استعداد برقرار رکھنے کے عوض ایسی بھاری ادائیگیاں کی گئیں، چاہے اس دوران وہ پوری صلاحیت سے بجلی پیدا نہ کر رہے ہوں۔ یہ اعداد و شمار بجلی کے مہنگے نرخ، گردشی قرضے اور توانائی کے موجودہ نظام پر ایک مرتبہ پھر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق پاکستان میں بجلی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2022 سے مالی سال 2026 کے ابتدائی عرصے تک بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
ان ادائیگیوں میں صرف 6 ہزار 121 ارب روپے بجلی کی حقیقی پیداوار کی قیمت تھے، جبکہ 7 ہزار 275 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔ کیپسٹی پیمنٹس وہ ادائیگیاں ہوتی ہیں جو بجلی گھروں کو ان کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض معاہدوں کے مطابق کی جاتی ہیں، چاہے بجلی کی طلب کم ہونے کے باعث وہ اپنی مکمل استعداد سے بجلی پیدا نہ کر رہے ہوں۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بجلی کی اصل خریداری پر آنے والے اخراجات میں بتدریج کمی دیکھی گئی۔ مالی سال 2022 میں بجلی کی خریداری پر 1,400 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے، جو 2023 میں 1,271 ارب روپے، 2024 میں 1,188 ارب روپے، 2025 میں 1,149 ارب روپے اور مالی سال 2026 کے اپریل تک 1,023 ارب روپے تک محدود رہے۔
اس کے برعکس کیپسٹی پیمنٹس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2022 میں ان ادائیگیوں کا حجم 829 ارب روپے تھا، جو 2023 میں بڑھ کر 1,030 ارب روپے ہو گیا۔ 2024 میں یہ رقم بڑھ کر 1,902 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں 1,807 ارب روپے ادا کیے گئے۔ مالی سال 2026 کے اپریل تک بھی آئی پی پیز کو 1,430 ارب روپے سے زائد کیپسٹی پیمنٹس کی جا چکی تھیں۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ بجلی کی پیداوار کی لاگت میں کمی آ رہی ہے، لیکن بجلی کے نظام پر معاہدوں کے تحت واجب الادا کیپسٹی چارجز کا مالی بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی ادائیگیاں بجلی کے مجموعی نرخوں، گردشی قرضے اور صارفین پر مالی دباؤ میں اضافے کی اہم وجوہات میں شمار کی جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، بجلی کی طلب میں اضافہ، ترسیلی نظام کی بہتری اور پیداواری معاہدوں پر نظرثانی کے بغیر کیپسٹی پیمنٹس کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہونا مشکل رہے گا۔ دوسری جانب حکومت پہلے ہی متعدد آزاد بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے اقدامات کا عندیہ دے چکی ہے تاکہ مستقبل میں صارفین پر پڑنے والا مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
