ڈپٹی کمشنر ہی آذربائیجان سے واپس لا دیں

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا

قوم اب کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھتی۔ اب سب سیاسی جماعتوں نے اپنے ورکرز کو سمجھا دیا ہے کہ کرپشن کے سوال پر آپ نے گھبرانا نہیں بلکہ سوال کرنے والے کے گلے پڑ جانا ہے کہ آپ کا اس کرپشن سے کیا لینا دینا‘ ہم جانیں اور جن پر الزام ہے وہ جانیں‘ آپ کیوں بیگانی شادی میں دیوانے بن رہے ہیں۔ یہ رویہ حال ہی میں دیکھنے کو ملا جب ہمارے دوست ٹی وی اینکر شہزاد اقبال نے رانا ثناء اللہ سے ان کے اس الزام پر سوال کیا کہ اُن کے بقول سندھ میں پیپلز پارٹی نے تین ہزار ارب کی کرپشن کی اور سارا پیسہ دبئی بھیجا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ اُلٹا شہزاد اقبال پر ناراض ہو گئے کہ آپ کا اس معاملے سے کیا لینا دینا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مقتدرہ کے کہنے پر آپ لوگ یہ باتیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ الزام میڈیا نے نہیں لگایا کہ سندھ کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے این ایف سی کے نام پر دیا گیا پیسہ دبئی پہنچ گیا ہے۔ یہ الزام آزاد کشمیر میں الیکشن سے ایک دو روز قبل وفاقی حکومت کے اس ذمہ دار وزیر نے لگایا ہے جو ملک کا وزیرِ داخلہ اور صوبائی وزیرِ قانون بھی رہ چکا ہے اور اب بھی ایک اہم عہدے پر فائز ہے۔ تو کیا عوام اور میڈیا کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اگر تین ہزار ارب کی کرپشن ہوئی ہے تو وہ پیسہ کس کا تھا‘ وہ ملک سے باہر کیسے بھیجا گیا؟ رانا صاحب جن تین ہزار ارب روپے کی بات کر رہے ہیں‘ وہ دس ارب ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ ماہ پہلے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا تھا کہ ملک سے تقریباً سو ارب ڈالر باہر نکل گیا ہے۔ باہر نکلنے سے ان کی مراد منی لانڈرنگ تھی۔ اس ملک میں ایک کام آرام سے ہو رہا ہے اور کرنے والے حکومتی عہدیدار ہیں‘ چاہے وہ سیاستدان ہوں یا بیورو کریسی۔ ایک طرف قرضوں کی شکل میں ڈالر ملک میں آ رہے ہیں تو دوسری طرف سیاستدان‘ بیورو کریسی اور دیگر طبقات وہ ڈالر روپے کے عوض مارکیٹ سے خرید کر مبینہ طور پر بیرونِ ملک بھیج رہے ہیں۔ جس سو ارب ڈالر کی بات وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی وہ ملک کی تین چار سال کی ترسیلاتِ زر کے برابر بنتے ہیں‘ یا یوں کہہ لیں کہ تین سال کی برآمدات کے برابر۔
اس وقت ملک پر تقریباً 150 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے۔ مقامی بینکوں کا قرض تقریباً 82 ہزار ارب روپے ہے‘ جس پر اس سال تقریباً آٹھ ہزار ارب روپے سود ادا کرنا ہے جبکہ کُل حکومتی آمدنی کا تخمینہ تقریباً 16 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔ 16 ہزار ارب میں سے آٹھ ہزار ارب سود میں جائے گا اور جو ڈالر برآمدات‘ زرِمبادلہ یا قرض کی شکل میں آ رہے ہیں‘ وہ ہمارے اعلیٰ طبقات‘ مبینہ کرپشن سے اکٹھے کیے گئے پیسے سے خرید کر باہر بھیج دیں گے۔ پھر خواجہ آصف بتاتے ہیں کہ بیورو کریٹس بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ جو پوچھتے ہیں کہ قرضہ کہاں گیا اور کہاں خرچ ہوا‘ وہ تسلی رکھیں کہ قرض خرچ تو ہوا ہے لیکن صرف فائلوں میں‘ یا پھر اگر ایک ارب روپے کا منصوبہ تھا تو اسے پانچ ارب روپے کا دکھایا گیا اور ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر بقیہ کھا پی گئے یا ان کے ڈالر خرید کر باہر بھیجوا دیے گئے۔ ابھی پچھلے دنوں قومی اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کا اجلاس تھا جس کی صدارت کراچی سے ایم این اے سید حفیظ الدین کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سندھ کے ایک منصوبے سے تین ڈپٹی کمشنرز اربوں روپے ہڑپ کر بیرونِ ملک چلے گئے ہیں۔ یہ فنڈز انہیں حیدرآباد سکھر موٹر وے کی زمین کی خریداری کیلئے دیے گئے تھے۔ وہ باری باری یہ پیسہ کھاتے رہے۔ اس وقت ایک مفرور ڈپٹی کمشنر آذربائیجان میں مزے کی زندگی گزار رہا ہے۔ آذربائیجان پاکستان کا دوست ملک ہے۔ کسی ادارے نے زحمت نہیں کی کہ وہ آذربائیجان حکومت کو درخواست کر کے مفرور ڈی سی کو واپس لائے‘ پیسے ریکور کرائے اور اسے سزا دلائے۔ وہی بات کہ یہ کام کون کرے گا اور کیوں کرے گا۔ اگر رانا ثنا اللہ کی بات مان لی جائے تو پھر ہر دوسرا افسر یا سیاستدان یہی کام کر رہا ہے اور اگر وہ ڈپٹی کمشنر کو آذربائیجان سے واپس لاتے ہیں تو کل کو یہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گا کہ ہر کرپٹ مفرور ہو جائے گا‘ پھر اسے بھی یونہی واپس لایا جائے گا۔ ویسے حیرانی ہوتی ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک شہباز شریف الیکشن میں تقریریں کرتے تھے کہ وہ آصف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی رقم واپس لائیں گے‘ انہیں لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے والد میاں فاروق نواز شریف کے دوسرے دور میں اٹارنی جنرل تھے۔ انہوں نے سوئس حکومت کو خط لکھا تھا کہ پاکستان سے لوٹے تقریباً ساٹھ ملین ڈالر جو جنیوا کے بینکوں میں ہیں انہیں حکومتِ پاکستان کو واپس کیا جائے۔ اس کیلئے احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمن نے جنیوا میں باقاعدہ وکیل ہائر کیے تھے۔ عالمی مخبروں کو بھی دستاویزات کی فراہمی کیلئے لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل جسٹس (ر) قیوم نے سوئس حکومت کو ایک خط لکھا کہ ہم اپنے دعوے سے دستبردار ہو رہے ہیں کہ وہ ساٹھ ملین ڈالر پاکستان کے ہیں۔ اس کیس پر ہی افتخار چودھری نے بعد میں خط نہ لکھنے پر وزیراعظم گیلانی کو گھر بھیجا تھا۔ نواز شریف کے دور میں جب بینظیر بھٹو کے وارثوں نے سوئٹزر لینڈ میں ان کی شہادت کے بعد یہ رقم کلیم کی تب بھی نواز شریف نے جنیوا میں وکیل کرایا تھا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں رحمان ملک‘ جو ڈائریکٹر ایف آئی اے تھے‘ نے نواز شریف کے لندن فلیٹس کی انکوائری کرائی۔ پہلی دفعہ نواز شریف خاندان کا ان فلیٹس سے تعلق اس رپورٹ میں سامنے آیا تھا جس میں ان فلیٹس کی تصاویر بھی تھیں۔ اب بدلتے حالات میں شہباز شریف کو انہی زرداری صاحب نے وزیراعظم بنوایا جن کا پیٹ پھاڑ کر انہوں نے پیسہ ریکور کرانا تھا۔ اور شہباز شریف نے انہی زرداری صاحب کو صدر بنوایا جنہیں انہوں نے لاڑکانہ میں گھسیٹنا تھا۔ میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ سیاست کے نام پر اتنا صبر اور حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ گالیاں کھا کر بھی بدمزہ نہیں ہوتے۔ جو دن رات آپ پر تبرا پڑھتے ہیں‘ اگلے دن آپ ان کے ساتھ ہی مسکراتے ہوئے فوٹو کھنچواتے ہیں اور اسے اپنی سیاسی بُردباری اور بصیرت کا نام دیتے ہیں۔
ہمارے دوست میجر (ر) عامر اکثر اپنے صحافی دوستوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ بدلحاظی کا نام انہوں نے پروفیشنلزم رکھا ہوا ہے۔ جہاں یہ بدلحاظ ہو جاتے ہیں وہاں کہیں گے کہ کیا کریں یہ ہمارا پروفیشن ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے بھی یہی کچھ اپنا رکھا ہے۔ جب کوئی الیکشن قریب آئے گا تو ایک دوسرے پر دنیا بھر کے الزامات لگائیں گے‘ کچھ سچے کچھ جھوٹے‘ اور الیکشن کے بعد ایک دوسرے کو کرپٹ کہنے والے مل بیٹھ کر عہدے بانٹ رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے کو ووٹ ڈال کر صدر اور وزیراعظم بنا رہے ہوں گے۔ اگر کوئی اینکر تین ہزار ارب کی کرپشن کا سوال پوچھ لے تو الٹا اس پر ہی ناراض ہو جائیں گے کہ آپ کا اس معاملے سے کیا لینا دینا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ میڈیا یا عوام کا تین ہزار ارب کی کرپشن سے کچھ لینا دینا نہیں یہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن کم از کم اُس ڈی سی کو تو آذربائیجان سے واپس لایا جا سکتا ہے جو سندھ کے منصوبے سے اربوں روپے لوٹ کر وہاں مفرور ہے۔ یا یہ بھی سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور بیورو کریسی کا ذاتی مسئلہ ہے ‘ ہم عوام اس بیگانی شادی میں دیوانے کی طرح ناچنے کی کوشش نہ کریں؟

Back to top button