آزاد کشمیر الیکشن میں نون لیگ کو فتح کیسے ملی؟

آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے نے سیاسی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ میرپور اور کوٹلی سے آنے والے نتائج نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری دلا دی ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ کیا یہ نتائج ن لیگ کی واضح اکثریتی حکومت کی نوید ہیں؟ کیا احتجاجی سیاست اور مخالف بیانیہ عوام نے مسترد کر دیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال، اگر ن لیگ کامیاب ہوتی ہے تو آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج نے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ میرپور اور کوٹلی میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ آئندہ حکومت سازی کے حوالے سے بھی اپنی پوزیشن انتہائی مضبوط بنا لی ہے۔ ابتدائی نتائج اور انتخابی رجحانات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے اور اسے حکومت بنانے کے لیے کسی اتحادی جماعت کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔

ابتدائی اندازوں کے برعکس، دیگر جماعتیں خصوصاً آئی پی پی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکیں، جس سے مسلم لیگ (ن) کا راستہ مزید ہموار ہوگیا۔ اگر دوسری جماعتیں چند نشستیں بھی جیت لیتیں تو اتحادی حکومت کے امکانات پیدا ہو سکتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

سیاسی مبصرین کی توجہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے جس بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلائی، ویسی سرگرمی گلگت بلتستان کے انتخابات میں کیوں نظر نہیں آئی؟ وہاں نہ مرکزی قیادت نے بڑے جلسے کیے، نہ انتخابی مہم میں وہ جوش دکھائی دیا جو آزاد کشمیر میں دیکھنے کو ملا۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں بھی قابلِ ذکر نشستیں حاصل کیں، جس سے یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ آیا وہاں انتخابی حکمت عملی دانستہ محدود رکھی گئی تھی یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی مصلحت کارفرما تھی۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کے انتخابات میں کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنے بھی اہم سیاسی موضوع رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی انتخابی مہم میں اس معاملے پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا اور متعلقہ مطالبات سے ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے مجموعی طور پر اس معاملے پر سخت اور واضح مؤقف برقرار رکھا۔ ابتدائی انتخابی نتائج سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ عوام نے احتجاجی بیانیے کے بجائے انتخابی عمل اور استحکام کو ترجیح دی۔

انتخابات کے پہلے مرحلے کا پرامن انعقاد بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ان عناصر کی حکمت عملی کو دھچکا پہنچا جنہوں نے انتخابی عمل کو متاثر کرنے یا ملتوی کرانے کی کوشش کی تھی۔ مہاجر نشستوں کے حوالے سے جاری بحث کے باوجود ووٹرز کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا، جس سے انتخابی نظام پر اعتماد کا اظہار بھی سامنے آیا۔

اب تمام نظریں باقی دو مرحلوں کے انتخابات پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ مختلف علاقوں میں سیاسی مقابلہ مختلف نوعیت کا ہوگا، تاہم موجودہ رجحانات مسلم لیگ (ن) کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ مظفرآباد سمیت کئی حلقوں میں بھی پارٹی بہتر پوزیشن میں نظر آتی ہے، جبکہ راولاکوٹ میں مقابلہ نسبتاً سخت ہو سکتا ہے۔

حکومت سازی کے ساتھ ساتھ سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوتی ہے تو آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟ پارٹی کی جانب سے تاحال کسی امیدوار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث کئی نام زیرِ گردش ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس مرتبہ پارٹی کسی نئے چہرے کو وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔

 

جاپان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، متعدد لا پتہ

مجموعی طور پر پہلے مرحلے کے نتائج نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مسلم لیگ (ن) نہ صرف واضح اکثریت حاصل کر سکتی ہے بلکہ آزاد کشمیر میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں بھی آ جائے گی۔

Back to top button