سوات میں شدید بارشیں،15 ہلاکتیں، کئی مکان تباہ

سوات میں شدید بارشوں سے 15 ہلاکتیں، متعدد زخمی جبکہ کئی مکان تباہ ہو گئے. سوات میں پہاڑی تودہ گرنے سے ایک اہم شاہراہ بند ہو گئی جس کے بعد علاقے میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے حوالے سے آپریشن جاری ہے.
پاکستان میں سرکاری حکام نے بدھ کو بتایا کہ وادی سوات میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب سے 15 افراد ہلاک جبکہ کئی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب سوات میں ریسکیو ٹیمیں اب بھی گذشتہ ہفتے کی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہ کاریوں سے نمٹ رہی ہیں. صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان تیمور خان نے بتایا کہ سیاحت کے لیے مقبول وادی سوات میں گذشتہ رات پہاڑی تودہ گرنے سے ایک اہم شاہراہ بند ہو گئی جس کے بعد علاقے میں پھنسے سیاحوں کو نکالا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ اگست میں ملک کے کئی علاقے مون سون کی شدید بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں صوبہ سندھ کے بعض اضلاع بالخصوص سب سے بڑے شہر کراچی میں صورتحال کافی خراب ہے، جہاں بارشوں سے کم از کم 47 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق جون میں شروع ہونے والے بارشوں کے سلسلے سے اب تک ملک بھر میں کم از کم 176 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔گذشتہ ہفتے کراچی کے کئی علاقوں میں بارش کے بعد پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا اور علاقہ مکین پھنسے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جلد کراچی کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
واضح رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات اور سیلابی صورتحال کے باعث خواتین اور بچوں سمیت مزید 20 افراد جاں بحق جبکہ 2 درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق ضلع مانسہرہ، بٹگرام، بونیر، شانگلہ، کوہستان اور سوات سے ہے۔ ریسکیو 1122 بونیر کے ترجمان تاج محمد کے مطابق بونیر کے چغرزئی ڈویژن میں ایک خاتون اور 2 بچے جاں بحق جب کہ دیگر 3 افراد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں بونیر کے علاقے ریال میں گھر کی چھت گرنے اور مکانات پر پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے زخمیوں کو متاثرہ علاقے سے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال بونیر منتقل کیا تھا۔ اسی طرح ضلع مانسہرہ کی تحصیل اوگئی میں حسین بندہ کے علاقے میں مکان پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق اور دیگر 2 زخمی ہوگئے۔
ضلع بٹگرام کے علاقے راشنگ کے ایک رہائشی محمد نواز کا گھر بھاری پتھروں کے ٹکرانے سے تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ان کی دو بیٹیاں جاں بحق ہوگئیں اور مقامی لوگوں نے کوششیں کرکے لاشوں کو ملبے سے نکالا۔ بٹگرام کے ڈپٹی کمشنر عبدالحمید نے بتایا کہ ضلع بھر میں اب تک 7 مکانات منہدم ہوچکے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 8 لنک اور اہم سڑکیں بلاک ہوگئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی کی اسکیمز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب کوہستان میں ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عارف یوسفزئی نے بتایا کہ بارش کے باعث حادثات میں 10 سے 15 مکانات، ایک مسجد اور مدرسے کو نقصان پہنچا اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تحصیل کے پورے کندیا کی سڑکیں بند ہوگئی ہیں جبکہ مختلف مقامات پر پانی کی فراہمی کی اسکیمز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ضلع شانگلہ میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا اور داموری کے علاقے میں داموری کو باندہ سے ملانے والا پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر بشام، خرم رحمان نے بتایا کہ پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث دریاؤں کے قریب موجود مکانات خالی کرالیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر شانگلہ، عمران حسین رانجھا نے کو بتایا کہ ضلع میں سیلاب کی وجہ سے سڑکوں کو کافی نقصان پہنچا ہے خاص طور پر کرورہ اجمیر سڑک کا ایک کلومیٹر حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔
اس کے علاوہ دیگر بڑے اور لِنک روڈز بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں، محکمہ تعمیرات نے نے سڑکوں کی صفائی کا کام شروع کردیا ہے لیکن مسلسل بارش کام میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریونیو کے عملے کی جانب سے گھروں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، تاہم ضلع کے مختلف حصوں سے مکانات کو ہونے والے نقصانات، سڑکیں بلاک ہونے اور پانی کی فراہمی کی لائنز کو پہنچنے والے نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ علاوہ ازیں سیلاب نے گلگت بلتستان کے متعدد حصوں میں تباہی پھیلائی جب کہ دوسرے روز بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم اور اسکردو روڈ بلاک ہوگیا۔
ڈی سی شگر عظیم اللہ نے بتایا کہ گلگت کے علاقے درگھوشا میں سیلابی ریلے میں 5 مکانات، ایک مسجد اور اسکول بھی بہہ گئے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی تورغر تحصیل کے علاقے جدبا بسی خیل سرئی مٹہ میں پہاڑی تودہ گرنے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 بچوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ حادثے میں جاں حق ہونے والوں میں 6 خواتین اور ایک مرد شامل ہے جبکہ ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اوراب تک 4 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 2 بکرے، ایک گائے مرگئی جب کہ ایک بھینس کو زندہ نکال لیا گیا۔
صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست 2020 سے 3 ستمبر تک ہونے والی بارشوں میں مجموعی طور پر 16 افراد جاں بحق جب کہ 31 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 3 مرد، 5 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں جب کہ دیگر 11 مرد، 9 خواتین اور 11 بچے زخمی ہوئے۔ساتھ ہی گزشتہ 4 روز سے جاری بارشوں کے نتیجے میں اب تک صوبے میں 13 مویشی بھی مرگئے ہیں۔ صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر 94 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 11 مکانات مکمل طور پر اور 83 مکان جزوی طور پر تباہ ہوئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں بارشوں کے باعث گھروں کو نقصان پہنچا اور اہم شاہراہیں بلاک ہوگئیں جب کہ ضلع شانگلہ میں حادثات میں 2 بچے جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 28 اگست کو خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 20 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے تھے۔
