کیا سنتھیا کے سہولت کار اسے ڈی پورٹ ہونے سے بچا پایئں گے؟

وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں دس برسوں سے قیام پذیر مشکوک امریکی خاتون سنتھیا رچی کو کسی خاص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے الزامات لگنے کے بعد اب بالآخر اسے 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ سنتھیا کے پاکستان میں اصل سہولت کار اسے ڈی پورٹ ہونے سے روکنے کے لیے حرکت میں آتے ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ملک دشمن تنظیموں کی جاسوسی کا دعویٰ کرنے والی نام نہاد امریکی بلاگر کا پاکستانی ویزا 31 اگست 2020 کو ختم ہو چکا ہے اور پاکستانی حکام نے اس کے ویزے میں مزید توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کا یہ فیصلہ تب سامنے آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا کو پاکستان سے ڈی پورٹ کرنے کی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے پاکستان میں موجود غیر ملکی افراد کی بزنس ویزا پالیسی کی تفصیل طلب کی جس کے تحت امریکی خاتون پچھلے دس سال سے پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو دئیے گئے اپنے تحریری بیان میں سنتھیا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر پشتون تحفظ موومنٹ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بارے میں بھی تحقیق کرتی رہی ہیں اور آئی ایس پی آر کے اسلام آباد دفتر کے ساتھ بھی ان کے مستقل رابطے ہیں۔
سنتھیا رچی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ پچھلے تین مہینے سے لفظی جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور اس نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف خود کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ سنتھیا نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے جنہیں وہ پولیس اور عدالت کے سامنے ثابت کرنے میں اب تک ناکام رہی ہیں۔ اس سے پہلے سنتھیا نے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر بھی نازیبا الزامات لگائے تھے اور بعد میں انکی وضاحت کر دی۔ سنتھیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے وقت تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ رہنے کی وجہ سے وہ وزیراعظم عمران خان سے بھی رابطے میں رہتی ہیں۔
تاہم 2 ستمبر کے روز وفاقی وزارت داخلہ نے سنتھیا کی پاکستانی ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خاتون کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ پندرہ روز کے اندر پاکستان چھوڑ دے۔ یکم ستمبر کے روز اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے بھی سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کی سنتھیا کے خلاف پچاس ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت کرتے ہوئے امریکی خاتون کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی قیادت کے خلاف بیان بازی بند کر دے ورنہ اس کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کی جائے گی۔
اس سے پہلے یکم ستمبر کو ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تو حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پہلے تو حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ امریکی خاتون پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آراورخیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ پراجیکٹس پر کام کر رہی تھیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے اس خاتون کے معاملے میں کبھی کچھ اور کبھی کچھ کہا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ اس حوالے سے اصل پالیسی کیا ہے؟ کیا بیرون ملک سے آ کر کوئی بھی یہاں برسوں قیام کر سکتا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا سنتھیا موجودہ حکومت کے خلاف بھی بیانات دیں تو حکومتی پالیسی یہی ہو گی کہ اسے ایسا کرنے دیا جائے؟ وزارت داخلہ کے نمائندے نے جب عدالت کے سامنے اس حوالے سے ایک آرڈر پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا یہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے؟ کیا کوئی قانون یا پالیسی نہیں ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جو بتائے کہ غیر ملکیوں کے لیے پاکستان کی ویزا پالیسی کیا ہے؟ کل کوئی اور بزنس ویزے پر آ کر وزیراعظم کے خلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟ عدالت نے وزارت داخلہ سے غیر ملکی افراد کے پاکستان میں بزنس ویزا پر قیام کے حوالے سے حکومتی پالیسی طلب کرتے ہوئے ہوئے مقدمے کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی شہری سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے کی درخواست سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما افتخار احمد نے دائر کر رکھی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ امریکی شہری کے پاکستان میں ویزے کی میعاد نہ صرف ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جو ملک کے خلاف ہیں۔ گذشتہ ماہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں جو کہ غیر قانونی یا ملک کے قانون کے خلاف ہو۔ وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سنتھیا رچی کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور ان کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔ یکم ستمبر کے روز کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ وہ وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنچ کریں گے جس میں کہا گیا ہے امریکی بلاگر کا پاکستان میں قیام غیر قانونی نہیں ہے۔ شاید اسی وجہ سے اب وزارت داخلہ کے ترجمان نے اپنا سابقہ موقف تبدیل کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سنتھیا پاکستان میں کسی بھی سرکاری ادارے کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہی ہے۔ تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کے احکامات جاری یونے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ سنتھیا کے اصل سہولت کار اس کو ڈی پورٹ ہونے سے روک پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر سنتھیا کے سہولت کار اب اسے ریسکیو کرنے نہیں آتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں امریکی خاتون کی مزید ضرورت باقی نہیں رہی۔
