سوشل میڈیا نے پاکستان میں طنز و مزاح کا انداز کیسے بدلا؟

پاکستان میں طنز و مزاح کی تاریخ کافی پرانی ہے جس نے ادبی رسالوں اور کتابوں سے ہوتے ہوئے ریڈیو، ٹی وی، اور سٹیج تک کا سفر طے کیا۔ لیکن اب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ورلڈ پر مقبولیت حاصل کرنے والے سٹینڈ اپ کامیڈینز نے پاکستان میں طنزو مزاح کے انداز کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ سالوں میں پاکستانی سوشل میڈیا پر کئی نوجوانوں نے خود کو بطور سٹینڈ اپ کامیڈین اور مزاح نگار منوایا ہے جو معاشرے کے سنجیدہ مسائل کی نشاندہی مزاحیہ انداز میں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
علی گل پیر بھی ایسے ہی ایک معروف سٹینڈ اپ کامیڈین ہیں جو پاکستانی سوشل میڈیا کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکے ہیں۔ زبردست ممکری کی صلاحیت رکھنے والے علی گل پیر کے مطابق یہ پاکستان کا کلچر ہے، ہمارے ساتھ جو برائیاں ہو رہی ہیں اس پر ہم لطیفے بنا کر ہنستے ہیں، یہ ہمارا سیلف ڈیفینس میکینزم ہے۔ ماضی میں مزاح نگاری کے موضوعات روز مرہ کے معاملات رہے ہیں مگر اب سوشل میڈیا پر کامیڈی کے موضوعات تبدیل ہوئے ہیں اور سیاست پر زیادہ فوکس ہوگیا ہے خصوصا عوام کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد۔ اس حوالے سے علی گل پیر کا کہنا ہے کہ ’موضوعات تبدیل تو نہیں ہوئے لیکن ان میں کچھ اور اضافہ ہو گیا یے جیسے کہ مہنگائی، کرپشن، بجلی، پانی اور گیس کا بحران۔ ماضی میں پی ٹی وی کے پروگرام ففٹی میں کامیڈی کے زیادہ تر موضوعات سماجی ہوتے تھے جبکہ اب یہ سماجی اور سیاسی ہوگئے ہیں۔ علی کے مطابق ’ہمارے موضوعات کی معاشرے سے مشابہت ہے۔ اگر آپ کے گھر میں گیس نہیں آ رہی اور میں کوئی سیاست دان بن گیا، کوئی کریکٹر بن گیا اور اس پر کوئی مذاق کر دیا تو آپ اس پر ہنسیں گے۔‘
نطالیہ گل جیلانی بھی ایک سٹینڈ اپ کامیڈین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیڈین سماج کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میری حال ہی میں شادی ہوئی جو ایک کووڈ شادی تھی، اس پر میں نے ایک سٹینڈ اپ خاکہ بنایا جسے لوگ اپنی زندگی سے جوڑ سکتے تھے۔ میں نے بتایا کہ شادی میں کسی نے شکایت نہیں کی کیونکہ بوٹیاں بہت زیادہ تھی اور لوگ صرف چودہ تھے۔ آپ سوچیں جب کسی شادی میں بوٹیاں کم ہو جائیں تو خاندان کافی ناراض ہو جاتا ہے۔ اس طرح کہانی بیان کرتے ہیں چاہے پھر آپ ایک جملہ بھی بولتے ہیں تو لوگ اس میں مشابہت پاتے ہیں۔ نطالیہ گل کہتی ہیں کہ یہ کامیڈین پر منحصر ہے کہ وہ کس انداز میں بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ ’سیاست یا سماج کے بارے میں۔ اگر مجھے سیاست کے بارے میں کم معلوم ہے تو میں اس کے بارے میں مزاح نہیں کروں گی لیکن مجھے کرکٹ کے بارے میں پتا ہے تو میں نے اس پر مزاح کیا ہے۔ ایک اور سوال پر نطالیہ کا کہنا تھا کہ آج بھی سوشل میڈیا پر وائرل کامیڈی وہی ہے، صرف میڈیم تبدیل ہو گیا ہے۔ پہلے ایک ہی سرکاری چینل ہوتا تھا جس میں ریاست سے منظور شدہ کامیڈی آتی تھی اس میں بھی شعیب منصور، انور مقصود اور معین اختر کی افزائش ہوئی اور وہ بڑے کامیاب بنے۔ لیکن آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے چہرے خود کو منوا رہے ہیں۔
مرتضیٰ چوہدری بھی ایک سٹینڈ اپ کامیڈین ہیں جو ٹی وی پر سیاسی طنز و مزاح کے پروگرام کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 سال ٹی وی کیا اور آجکل ڈیجیٹل ویڈیو کرتے ہیں لیکن یہ بھی ریگولر نہیں ہے تاہم اس کا جو ریسپانس ہے وہ 20 گنا زیادہ ملتا ہے۔
مرتضیٰ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تک رسائی ہر کسی کے پاس ہے۔ سمارٹ فونز آ گئے ہیں جبکہ اس کے برعکس ٹی وی کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ وقفہ آتا ہے تو تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اس لیے لوگ ڈیجیٹل پر زیادہ چیزیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ ڈیجیٹل پر ٹی وی کی چیز ڈالتے ہیں تو اس کا ریسپانس اتنا نہیں آتا کیونکہ دونوں کے کام میں فرق ہے۔ اس میں آپ کو ایک ایسی ٹیگ لائن دینی ہے، ایک ایسی بات کرنی ہے کہ دیکھنے والا آپ کی طرف آ جائے پھر آپ نے اس کو گرفت میں رکھنا ہے۔ اس میں زیادہ ششکے بازی، گرافک بازی، آوازیں، ہیڈ لائن یہ سب کچھ دینا پڑتا ہے ٹی وی میں یہ معاملہ نہیں تو یہ مشکل ضرور ہے۔ مرتضی چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر رات کو پروگرام نشرر مکرر ہو تو کالیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ نے کیا بول دیا۔ وزیر اعظم ہاؤس سے فون آ رہے ہیں تو اب ہمیں لگتا ہے کہ اب آپ کے پاس ایک ہی پلیٹ فارم ہے جو کہ ڈیجیٹل میدیا ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ ہم جیسے لوگ اس سینسر شپ سے گزر چکے ہیں۔ آج ہم اس وجہ سے ٹی وی نہیں کر پا رہے کیونکہ جس طرح کی سختی ہو رہی ہیں اس سے ایک صحافی بھی پریشان ہے، ایک طنز و مزاح والا بھی پریشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں وزیراعظم کی ایک تقریر سن رہا تھا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ ٹی وی والے مائیک لے کر لوگوں کا ردعمل لینے جاتے ہی کیوں ہیں؟ لہذا جب کسی حکمران کی یہ اپروچ ہو تو پھر آپ کے پاس تو ڈیجیٹل میڈیم ہی رہ جاتا ہے، جسے کہ پاکستان میں سنسر شپ نے سب سے زیادہ فروغ دیا ہے۔
مرتضیٰ چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔ ٹی وی میں ایک ایڈیٹر ہوتا تھا، مواد ایڈٹ کرنے والا ہوتا تھا، سینسر پالیسی ہوتی تھی، ہر کسی کی ایک مہارت ہوتی تھی اور ایک چیز فلٹر ہو کر بہتری کی طرف جاتی تھی۔ اب بڑا مشکل کام ہے۔ آپ نے ایک چیز سوچی اور کسی سٹوڈیو یا سیٹ اپ میں ریکارڈ کی۔ کوئی سینسر یا ایڈٹ کرنے والا نہیں ہے۔ آپ نے کچھ ایسی باتیں بھی کر دیں جو نہیں ہونی چاہیے تھیں یہاں آپ سیلف سینسر شپ سے بھی آگے بڑھ گئے۔ اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں لیکن سچ بولنے کے لیے رسک تو لینا پڑتا ہے۔
