سویلینز کا فوجی عدالت سے کورٹ مارشل کالا قانون ہے


چند ماہ پہلے ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہو کر رہائی پانے والے معروف قانون دان کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کو گرفتار کر کے ان کا کورٹ مارشل کرنے اور ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے قانوں کو انسانیت کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے آئینی ترمیم کے ذریعے فوری طور پر ختم کیا جائے کیوں کہ ایسا ظالمانہ اور غیر منصفانہ قانون دنیا کے کسی بھی ملک میں نافذ نہیں ہے۔
لا پتہ افراد کے کیسز لڑ کر شہرت حاصل کرنے والے کرنل انعام کا کہنا ہے کہ یہ قانون دراصل سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان نے اپنا خلاف ممکنہ فوجی بغاوت کو کچلنے کے لیے نافذ کیا تھا جو آج دن تک رائج ہے اور سویلینز کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ملک کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان 1965 کی جنگ تاشقند میں مذاکرات کی میز پر ہار کر واپس پلٹے تو ان کے خلاف نفرت کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ملک پر قابض ڈکٹیٹر کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں اس کے خلاف فوج میں بغاوت نہ پھیل جاٸے لہذا اس نے قومی رہنماٶں کو دبانے کے لیے فوری طور پر دو آرڈینینس جاری کیے جن کے تحت آرمی ایکٹ میں بزریعہ ترمیم (d)(1) 2 متعارف کر کے یہ اختیار حاصل کر لیا کہ فوج کسی بھی حکومت مخالف شخص کو فوج میں حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے کے الزام پر نہ صرف گرفتار کر سکتی ہے بلکہ اسکی تفتیش بھی دیے کرے گی اور ایسے شخص کا مقدمہ بھی فوجی عدالت میں ہی چلایا جاٸے گا۔ مذید یہ کہ اس معاملہ میں اعلی عدالتیں بھی مداخلت نہیں کر سکیں گی اور نہ ہی کوٸی عدالت ان کی اپیل سن سکے گی۔
کرنل انعام کے مطابق یہ ایک ایسا اندھا قانون ہے جس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں موجود نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اسراٸیل اور ہندوستان کی فوج کے پاس بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی سویلین کو گرفتار کر کے اس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلاٸیں اور اسے کسی بھی ملکی عدالت میں پیش نہ کریں۔ کرنل انعام الرحیم کے مطابق انگریز نے 1923 میں برصغیر میں سیکرٹ ایکٹ نافذ کیا اس ایکٹ کے دفعہ 12 کے تحت بھی فوج سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف گرفتار کر سکتی تھی اور فوج کے لیے لازم تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد بغیر کسی تاخیر ان کو مجسٹریٹ کی عدالت یا قریبی پولیس سٹیشن کے حوالے کیا جاٸے گا۔ اور یہی بات آٸین پاکستان کے آرٹیکل (2)10 میں تحریر ہے کہ کسی بھی شخص کو گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے کے اندر قریبی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جاٸے گا اور اگر اس کو زیرحراست رکھنے کی ضرورت ہو تو صرف مجسٹریٹ کی تحریری اجازت سے زیرحراست رکھا جا سکتا ہے۔
کرنل انعام نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی آرمی ایکٹ میں متعارف شدہ ترمیم (d)(1) 2 کو فی الفور ختم کیا جاٸے جس کی کسی بھی جمہوری ملک میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 51 میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے جرم کی وجہ بتاٸے 24 گھنٹے سے ذیادہ قید رکھے گا اسے دو سال تک کی سزا دی جاٸے گی۔ لہذا ضروری ہے کہ آرمی ایکٹ کی اس شق پر پوری طرح عملدرآمد کروایا جاٸے اور جن لوگوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے ان کو آرمی ایکٹ کے مطابق قرار واقعی سزا دی جاٸے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسیاں آئے دن منہ اٹھا کر معصوم لوگوں کو اسی قانون کی آڑ میں اٹھا کر لے جاتی ہیں اور پھر مہینوں اور سالوں انہیں اہنی تحویل میں رکھتی ہیں لہذا اس غیر انسانی قانون کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button