سپریم کورٹ ججز کمیٹی میں یوتھیا ججز کی اکثریت کیسے ختم ہوئی؟

صدر پاکستان آصف زرداری نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کرتے ہوئے ججز کمیٹی کی ہئیت تبدیل کر دی ہے تاکہ عمران خان کے حمایتی ججز کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔ پہلے اس کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس فائز عیسی کر رہے تھے جبکہ باقی دو اراکین سینیئر ترین ججز تھے، یعنی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر۔ یہ دونوں جج ہونے کو باوجود کھلم کھلا عمران خان کی تحریک انصاف کی سائیڈ لے رہے تھے جس کا ایک بڑا ثبوت مخصوص نشستوں کے کیس میں دیا جانے والا 8 ججز کا فیصلہ تھا جسے حکومت کی جانب سے آئین دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔ اب ججز کمیٹی چیف جسٹس فائز عیسی، سینئر ترین جج منصور علی شاہ اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہو گی، یعنی جسٹس منیب اختر کی اس کمیٹی سے چھٹی ہو جائے گی اور چیف جسٹس انکی جگہ اپنی مرضی کا جج نامزد کرنے کے بعد دو ایک کی اکثریت حاصل کر لیں گے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2 کی ذیلی شق نمبر ون کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی کیسز بھی مقرر کرے گی اور انہیں سننے کے لیے بینچ بھی تشکیل دے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ضروری تھا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری پریکٹس اینڈ پرسیجر ایکٹ پر دستخط کر چکے ہیں، اس آرڈیننس کے تحت جو بھی کیسز آئیں گے ان کی سماعت شروع کرنے سے پہلے تحریری طور پر بتانا ہوگا کہ یہ کیس عوامی اہمیت کا حامل کیوں ہے؟ ترمیم کے بعد اب جو بھی آرڈر سپریم کورٹ پاس کرے گی اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کیس کے دوران جج جو کچھ بولیں گے اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا اور وہ عوام کو دستیاب ہو گا، اس سے کیسز کے پروسس میں شفافیت آئے گی اور لوگ دیکھ سکیں گے کہ ججز کی جانب سے کیا ریمارکس پاس کیے گئے ہیں، اب جو کیس بھی پہلے آئے گا وہ پہلے سماعت کے لیے مقرر ہوگا، جو کیس وقت میں پہلے آیا وہ پہلے مقرر ہوگا اور یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کسی کیس کو قطار طوڑ کر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

عطا تارڑ کے مطابق سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے ساتھ سینئر ترین جج موجود ہوں گے تو اس میں تبدیلی کی گئی ہے، اب اس کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے، سینئر جج ممبر ہوں گے اور جو تیسرے رکن ہیں وہ سپریم کورٹ کے جج میں سے کسی ایک کو وقتا فوقتا شامل کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر تیسرے ممبر موجود نہیں ہوتے تھے تو کیسز تاخیر کا شکار ہوتے تھے، جیسے 63(اے) کا کیس ہے اس پر کام نہیں ہوسکا، تو اس کے حوالے سے کوئی فیصلہ آنا چاہیے تھا آئین کی بالا دستی کے لیے، لیکن یہ آج تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا، تو اس لیے یہ تبدیلی کی گئی ہے۔

Back to top button