سکروٹنی کمیٹی کپتان کو بچانے کے لئے ننگی ہو گئی

تحریک انصاف کے مبینہ طور پر چھپائے گئے غیر ملکی بینک اکائونٹس کی چھان بین کے لئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کردہ سکروٹنی کمیٹی باقاعدہ پارٹی بن کر پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔ فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کی دستاویزات تک رسائی کی درخواست دوبارہ مسترد کرتے ہوئے سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ درخواست گزار کو اپنے شواہد کی مدد سے ہی اب اس کیس کو ثابت کرنا ہوگا۔
دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی جانبداری کا ثبوت 30 مارچ کو جمع کروائی جانے والی عبوری رپورٹ سے بھی ملتا ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کسی قانونی دلیل کے بغیر پٹیشنر کو تحریک انصاف کے دستاویزات تک رسائی سے انکار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سکروٹنی کمیٹی نے اپنا کام مقررہ وقت میں مکمل کرنے میں ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا ملبہ بھی پٹیشنر اکبر ایس بابر اور ان کے وکیل پر ہی ڈال دیا ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی دستاویزات تک پٹیشنر کو رسائی دینے کے احکامات کے باوجود سکروتنی کمیٹی اس بنیاد پر رسائی دینے سے مسلسل انکار کر رہی ہے کہ تحریک انصاف اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اب کوئی پوچھے کہ کیا سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف کی ہے یا الیکشن کمیشن کی؟
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سالانہ مالیاتی گوشواروں میں چھپائے گئے فارن بینک اکائونٹس کی چھان بین کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے تین سال قبل تشکیل دی جانے والی سکروٹنی کمیٹی نہ صرف مقررہ وقت کے دوران اپنا ٹاسک مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اب اسی کی جانبداری بھی ثابت ہوگئی ہے۔ پٹیشنر اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے جمع کروائے گئے بینک اکائونٹس کی تفصیلات اور دیگر شواہد ایک نظر دیکھنے کی درخواست بھی کمیٹی کی جانب سے بار ہا مسترد کی گئی ہے حالانکہ الیکشن کمیشن ان دستاویزات کو پبلک ڈاکومینٹس قرار دے چکا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سکروٹنی کمیٹی نے حکومتی ہداہات کے برخلاف اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات تک رسائی دے دی تو عمران خان کی چوری پکڑی جائے گی لہٰذا سکروٹنی کمیٹی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
تحریکِ انصاف کے خلاف مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کے کیس میں سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ سربراہ محمد ارشد جو الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا بھی ہیں، نے اب تک کی کارروائی کی 8 صفحاتی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی ہے۔ کمیشن کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس خفیہ رکھنے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ اسی رپورٹ میں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ کمیٹی نے درخواست گزار کو پی ٹی آئی کی بینک اسٹیٹمنٹس دیکھنے کا موقع دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد ارشد نے اپنی رپورٹ میں کسی ایسے قانون کا حوالہ نہیں دیا جو درخواست گزار کی پی ٹی آئی کے اکاونٹس تک رسائی کو روکتا ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ آیا پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی دستاویزات کی نقل درخواست گزار کو فراہم کرنی چاہیے یا نہیں۔
اسکروٹنی کا عمل مکمل کرنے کی تاخیر کا جواز دیتے ہوئے نے کمیٹی نے اپنے اراکین کی دیگر سرکاری ذمہ داریوں کا حوالہ دیا جو جانچ پڑتال کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سکروتنی کمیٹی کی کارروائی کا آغاز 4 اپریل 2018 کو ہوا تھا اور درخواست گزار اکبر ایس بابر لیکن ان کے وکیل نے ہر تاریخ پر اصرار کیا کہ پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی ہر دستاویز کی جانچ پڑتال ان کی موجودگی میں ہو۔اسکروٹی کمیٹی نے درخواست گزار کو دستاویز کی پیروی کرنے کی اجازت دے دی جس کی وجہ سے اسکروٹنی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہوگیا اور بعض اوقات چند صفحات کا جائزہ لینے میں 2 سے 3 گھنٹے لگ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چھ ہفتوں میں سکروتنی کا عمل مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہو سکا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت ملی تھی لیکن اب تیسرا برس چل رہا ہے اور کام مکمل نہیں ہو پایا۔
اس حوالے سے سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ نے جواز پیش کیا ہے کہ کمیٹی کے اراکین اس کام کے علاوہ دیگر ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں، کمیٹی کا ایک رکن ڈپٹی آڈیٹر جنرل ہے جبکہ دیگر اراکین کو عدالتوں میں پیشیوں کے علاوہ، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اکائونٹس کی چھان بین کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں جس کے باعث تحریک انصاف کے فارن اکائونٹس کی سکروٹنی کا عمل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اس بارے میں درخواست گزار اکبر ایس بابرکے وکیل سید احمد حسن شاہ کا کہنا تھا کہ وہ جعلی دستاویزات پر مہر لگانے’ کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی کی دستاویزات تک رسائی کے بغیر درخواست گزار سے کہا گیا کہ وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسکروٹنی کے عمل میں حصہ لیں جو غیر منطقی بات ہے۔
الیکشن کمیشن میں تحریکِ انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے ریکارڈ کی فراہمی سے متعلق اکبر ایس بابر کی درخواست پر 30 مارچ کو ممبر الیکشن کمیشن پنجاب الطاف ابراہیم کی سربراہی میں سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ ڈی جی لاء نے بذات خود کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کی بجائے اپنے نمائندے کے ذریعے اب تک کی کارروائی کی رپورٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی۔‎الطاف ابراہیم نے دورانِ سماعت کہا کہ ‎ہر ٹرانزیکشن کو چیلنج کرتے رہیں گے تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہو گا، ‎اگر 1 شخص کی 8 یا 10 بھی ٹرانزیکشن ثابت ہو جاتی ہیں تو یہ بھی کافی ہے۔ اس پر درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے کمیشن کو بتایا کہ مجھے کوئی بھی کاغذ دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، کہا جاتا ہے کہ کمیٹی میں ہی فائل کو ایک نظر دیکھ لیں۔ اس اعتراض کے جواب میں پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے کمیشن کو بتایا کہ ‎سکروٹنی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وہ پبلک ڈاکیومنٹس نہیں ہیں۔ اکبر ایس بابر کے وکیل نے اس حوالے سے کہا کہ جو مصدقہ کاغذ فراہم کرنے کا معیار میرے لیے ہے، وہی ان کے لیے بھی ہونا چاہیئے۔ ممبر الیکشن کمیشن پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ یہ کام تو اسکروٹنی کمیٹی کا ہے۔ اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ میں نے یہاں تک کہا کہ صرف مجھے میرے آفس میں کاغذات دیکھنے کی اجازت دی جائے، میں کاغذات کسی سے شیئر نہیں کروں گا۔ ممبر الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم قریشی نے سوال کیا کہ کیا ان کے جمع شدہ ڈاکومنٹس آپ کو نہیں ملے؟ اکبر ایس بابر کے وکیل نے انہیں بتایا کہ پی ٹی آئی کے جمع کردہ کاغذات اور جو اسکروٹنی کمیٹی اکٹھا کرتی ہے وہ بھی فراہم نہیں کیئے جاتے۔ ممبر الیکشن کمیشن پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ جو ڈاکیومنٹ آپ نے جمع کروائیں، کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ یہ بھی دیکھیں؟ اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیکریسی آف انفارمیشن کی درخواست مسترد بھی ہو چکی ہے، کمیشن فیصلہ کر چکا ہے کہ جو ڈاکیومنٹ آئے گی وہ اوپن ہو گی۔ممبر الیکشن کمیشن پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے استفسار کیا کہ جو کاغذات آپ فراہم کر رہے ہیں وہ یقیناً سچائی پرمبنی ہوں گے تو دینے میں حرج کیا ہے؟ اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے کہا کہ مجھے سالانہ بنیاد پر کاغذات دیئے جائیں، میں ان کی سمری جمع کرا دوں گا۔ممبر الیکشن کمیشن پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ ان کا حق ہے کہ کاغذات کو دیکھیں، الیکشن کمیشن کبھی بھی مثبت تنقید سے خوفزدہ نہیں ہوتا، یہاں جو باتیں ہوتی ہیں باہر جاکر کچھ اور بن جاتی ہیں۔اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ کمیٹی میں ایسی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہم کبھی بیان نہیں کرتے، کارروائی خفیہ رکھنے کی پی ٹی آئی کی درخواست پہلے خارج ہو چکی ہے، الیکشن کمیشن فیصلے میں کہہ چکا ہے کہ تمام دستاویزات پبلک ہیں، پی ٹی آئی کی جعلی دستاویزات پر ٹھپہ نہیں لگا سکتے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں تمام دستاویزات کھلیں گی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی اکاؤنٹس کو پبلک دستاویزات کہا تھا۔ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے سوال کیا کہ اکبر ایس بابر کو دستاویزات دینے میں حرج ہی کیا ہے؟ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کو قانون اور سپریم کورٹ کے احکامات کو مدِ نظر رکھنا ہے۔ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ اسکروٹنی کئی سال سے چل رہی ہے، اب مکمل ہونا چاہیئے۔ اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور آڈٹ رپورٹ کا تقابلی جائزہ لینا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی لندن اور امریکا کے اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دے رہی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی دبائو کے باعث سکروٹنی کمیٹی الیکشن کمیشن کے احکامات کی روگرادانی کر رہی ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ تحریک انصاف کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button