کیا کپتان نے بالآخر ترین کورگڑا لگانے کا فیصلہ کرلیا؟

اپوزیشن رہنماؤں کے یک طرفہ احتساب کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد کپتان حکومت کی ایما پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بالآخر عمران خان کی اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین، ان کے بیٹے، داماد اور سیکرٹری کے گرد شکنجہ تنگ کردیا ہے اور انکے خلاف منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور خرد برد کے سنگین الزامات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔
ایف آئی اے لاہور کی درج کردہ ایف آئی آر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی ، خردبرد اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایف آئی آرکے متن میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے جعلسازی سے تین ارب 14 کروڑ روپے ایک بند فیکٹری کو منتقل کیے جس کا مقصد اپنے اہل خانہ کو فائدہ پہنچانا تھا۔ یہ رقم 2011-12 میں فاروقی پلپ ملک لمیٹیٹد کمپنی کو منتقل کی گئی۔ بند فیکٹری میں پیسے لگاکر تین ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ ایف آئی آر میں جہانگیر ترین کے داماد ولید اکبر فاروقی، شاہد اکبر فاروقی اور کمپنی سیکریٹری محمد رفیق کو بھی ملزم نامزد کیاگیا۔باقاعدہ مقدمہ درج ہونے کے بعد جہانگیر ترین نے اپنا پراناموقف دہراتے ہوئے کہا ہےکہ میرے خلاف تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔میرے خاندان کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں اور ہم باقاعدگی سے بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ہم نے مکمل ایمانداری سے بزنس کیا جو کہ خسارے میں چلا گیا۔ انکا کہنا یے کہ انہون نے کسی ڈائریکٹر کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا۔ ہمارے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے اور ایف آئی اے کو دکھا دیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک بھیجوائے گئے تمام فنڈز قانونی طورپر بھیجے گئے۔ ہم نے یہاں انکم ٹیکس ادا کیا، اور بینکنگ چینلز کے ذریعے قانونی طریقے سے فنڈز باہر بھیجوائے۔ جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ یہ کیس انکو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی مہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے چینی اچانک مہنگی ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا تھا ، چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور مونس الٰہی کی کمپنیوں کو ہوا ہے، جس کے بعد اس انکوائری کمیٹی کی تفصیلات لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کے جرم میں ایف آئی اے کے ایک افسر کو برطرف کردیا گیا، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ پر شوگر کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کا الزام تھا، سجاد باجوہ چینی بحران اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ کرنے والی ٹیم میں شامل تھے، ان پر شوگر مل مالکان کو رپورٹ لیک کر کے انہیں فائدہ دینے کا الزام تھا جس پر انہیں معطل کیا گیا تھا، ان پر محکمانہ انکوائری بٹھائی گئی تھی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سجاد باجوہ نے شوگر مل مالکان سے بھاری رقم لے کر انہیں شوگر انکوائری کی تفصیلات فراہم کیں۔
یاد رہے کہ جب شوگر سکینڈل میں جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو وہ بیرون ملک چلے گئے تھے جس کے کچھ عرصے بعد پاکستان واپس آئے تو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے واپس آئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ کپتان اور ترین کے مابین دوریاں ختم ہو گئی ہیں تاہم ایف آئی اے کی جانب سے ترین کے خلاف کاروائی شروع کیے جانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کپتان نے اپوزیشن کی تنقید کا دباؤ لیتے ہوئے اپنی سابقہ اے ٹی ایم کو بھی رگڑا لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل عمران خان نے اپنے سابقہ دست راست اور ماضی میں کپتان کی اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین کو مکمل طور پر فارغ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ترین کا تحریک انصاف سے کسی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ ایک انٹرویو میں اینکر منصور علی خان نے عمران خان سے جہانگیر ترین کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر ان کا کوئی عہدہ نہیں ہے اور اب پی ٹی آئی سے بھی ان کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ شوگر سکینڈل میں ترین کے خلاف انکوائری کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ میں اداروں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کروں گا، جو بھی کرپشن میں ملوث ہو گا اسے سزا ملے گی۔ جہانگیر ترین پر الزامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انھیں یہ الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو خیر شوگر کیس چل رہا ہے لیکن مجھے افسوس ہوتا ہے کیونکہ جہانگیر میرے بہت قریب تھے اور وہ اب بھی کہتے ہیں کہ میں بالکل بے قصور ہو۔
اب ترین کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سےپاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے دوران جہانگیر ترین کی جانب سے سرکاری شیئر ہولڈرز کی پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں ان کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکے سے 3 ارب 14 کروڑ روپےفاروقی پلپ ملز لیمیٹڈ کو منتقل کیے جو ان کے بیٹے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ 1991 میں فاروق خاندان نے قائم کی تھی لیکن 1997 میں آزمائشی طور پر چلانے میں ناکامی پر بند کردی گئی تھی۔ بعدازاں 08/2007 میں جب فاروق خاندان سے رشتہ داری کے بعد ترین نے منصوبےکے تحت کمپنی کا انتظام سنبھال لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین نے شاہد سلیم رانا کو اس دیوالیہ ہوجانے والی مل کا سی ای او تعینات کیا اور نہ صرف سال 2009 میں 39 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی بلکہ پاک برونائی انویسٹمنٹ کنسورشیم سے ایک ارب 40 کروڑ روپے قرض لینے کے لیے جے ڈی ڈبلیو کو ایف ایم ایل کا ضمانت کنندہ بھی بنایا۔ ایف آئی آے کا کہنا تھا کہ یہ بات معلوم ہونے کے باوجود کہ ایف پی ایم ایل عملی طور بند ہوچکی ہے اور اپنے اثاثے فروخت کررہی ہے جے ڈی ڈبلیو کی 2010 میں کی گئی سرمایہ کاری نہ تو واپس لی گئی نہ اسے مالی سال 2011 میں دکھایا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق درحقیقت جہانگیر ترین ایف پی ایم ایل کو سال 2012 کے بعد بھی جے ڈی ڈبلیو سے فنڈز ٹرانسفر کرتے رہے اور سال 2014 تک اضافی ایک ارب 48 کروڑ روپے منتقل کیے۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ایف پی ایم ایل میں کسی کاروباری سرگرمی کے بغیر جے ڈی ڈبلیو کے سربراہ جہانگیر ترین اس میں اپنی کمپنی کے فنڈز ٹرانسفر کرتے رہے اور 2015 میں بھی اسے ایک ارب 10 کروڑ روپے منتقل کیے بعدازاں جے ڈی ڈبلیو نے اپنے تمام ایڈوانسز اور سرمایہ کاری کو نقصان میں قرار دے دیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ منتلقی واضح طور پر جعلی سرمایہ کاری تھی جو بالآخر جہانگیر ترین اور ان کے اہلِ خانہ کے ذاتی فوائد پر منتج ہوئی۔
