وطنی سیاست دوراہے پر!

 

 

 

 

تحریر : حفیظ اللہ نیازی

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

 

2018ء سے متعارف نظام دوسری کروٹ لینے کیلئے تیار ہے۔ ایسے موقع پر پہلی ترجیح پیپلز پارٹی سے سندھ چھیننا ہے، PTI کی مدد کے بغیر سوچیں بھی نہیں۔ تحریک انصاف کے مسدود راستے کھلے ضرور مگر محدود پیمانے پر۔ کم و بیش ایک سال سے رائے مستحکم ہے کہ نظام نے 2028ء میں کروٹ لینی تھی مگر وہم و گمان میں نہ تھا کہ 2026ء میں آثار بن جائینگے۔ رائے عامہ کی مقتدرہ سے لاتعلقی اور پھر عوام النّاس کا مقتدرہ کے ذاتی مخالف کی زُلف کا اسیر ہونا، دیوانہ اور مرید بن جانا، ایسے حالات میں حکومت زمین سے زیادہ ہوا میں معلق نظر آتی ہے۔ خلقت خدا کثیر تعداد میں ریاست سے لاتعلق محض اس لئے کہ انکا عشق مجازی پابند سلاسل، قید و بند کی صعوبتوں میں گھرا، خلق خدا کی چاہنے ماننے والے ہلکان ہو چکے ہیں۔ اپنے طور یہ حقیقت موجود کہ مقبول قیادت کو پابند سلاسل رکھنا’ لانا ہے جوئے شیر کا‘ ۔

حکومت کو اس بات کا ادراک کہ سیاسی سرمایہ بہہ گیا،اس کیلئے سوہان روح ہے۔ شرح میں کیا شرم! اگر مقتدرہ کا دل مقبولیت کو آن بورڈ کرنے پر پسیج جائے، اس میں حرج ہی کیا ہے۔ حکومتی وزراء کو غیرضروری تکرار کہ’جوڑی سلامت تو اقتدار سلامت‘ مدافعانہ وضاحتی عمل ہے۔ اچھے دنوں میں جب جنرل باجوہ عمران جوڑی کے چرچے چار سُو، مصاحبین، لواحقین، معتقدین کے درمیان عمران خان کی برائی تو ممکن تھی مگر جنرل باجوہ کا نام لینا محال بلکہ وبال جان بن جاتا تھا، انصافی منہ نوچ لیتے تھے ۔ ہائبرڈ نظام ہی نے تو عمران خان کو وزیراعظم بنایا۔ انتہائی ناپسندیدہ کہ جب، اِدھر نظام کا دل اچاٹ ہوا اُدھر وزیراعظم کو پٹخ دیا۔ معاملہ کسی یونین کونسل یا ٹاؤن کمیٹی کا ہوتا تو توجہ نہ رہتی۔ مملکت خداداد اسلامیہ کو ٹاؤن کمیٹی کی طرح ہینڈل کرنا، 25کروڑ لوگوں کو ریوڑ سمجھ کر ہانکنا ، قومیں مٹ جاتی ہیں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ یہ کوئی بلی چوہے کا کھیل نہیں کہ نواز شریف کو زبردستی ہٹا کر عمران خان کو بٹھاؤ، پھر دل بھر جائے تو عمران خان کو ہٹاؤ ، اور آج عمران خان کے آگے دوبارہ پلکیں بچھاؤ، ضرور بچھاؤ مگر ملک کی خبر بھی رکھو۔

پیپلز پارٹی کی سیاست سے اختلاف کرنے والے کروڑوں مگر انکی سیاست بازی کو سراہنے والے بھی کروڑوں ملیں گے۔ پیپلز پارٹی کی بدقسمتی کہ اسٹیبلشمنٹ سے اخلاص کیساتھ کبھی نہیں بن پائی۔ بھٹو صاحب کی سیاسی جماعت بنانے سے پہلے ہی سے باہمی اعتماد کا فقدان وجود پا چکا تھا ۔ میں الذوالفقار کی کہانی کو نظرانداز رکھتا ہوں کہ جس نے خرابیوں کے جھنڈے گاڑے ۔ بینظیر صاحبہ اقتدار سے کوسوں دور رہتیں، جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے باوجود اقتدار نہ لیتیں۔ اگر 1983ء میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل کولن پاول اور اسسٹنٹ سیکرٹری فرینک کارلوسی 1988ء کے انتخابات اور انتقال اقتدار کی رکھوالی نہ کرتے، ایک اور اہم شخصیت رابرٹ اوکلے بھی، جنرل ضیاء الحق کی 17اگست 1988ء کو وفات کے اگلے ہی روز ریگن نے اوکلے کو پاکستان میں امریکی سفیر نامزد کیا۔ اس وقت وہ نیشنل سکیورٹی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ کے سینئر ڈائریکٹر تھے، جنہوں نے بعد ازاں تحریک عدم اعتماد بھی ناکام بنوائی ۔ فاسٹ فارورڈ، 27دسمبر 2007ء کو جب بینظیر کا بہیمانہ طریقہ سے قتل ہوا، اگرچہ آصف علی زرداری کی برداشت اور بردباری کو سب نے سراہا مگر جب انہوں نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگوایا۔ تو ایک گماں یہ بھی کہ زرداری صاحب نے یہ باور کروایا کہ میں ’’پاکستان نہ کھپے‘‘ کا نعرہ بھی لگوا سکتا ہوں ۔

وزیراعظم عمران خان کا دور حکومت، 2019 ء میں پلڈاٹ ( PILDAT ) کا ایک وفد جنرل باجوہ کے ظہرانہ پر مدعو تھا۔ بیشمار اہم باتوں سے صَرف نظر ، جنرل باجوہ نے ایک موقع پر فرمایا کہ نواز شریف اتنا ہی محب وطن ہے جتنا میں ہوں، مگر آصف علی زرداری کی وفاداری کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ چنانچہ وطنی اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کا جب بھی گٹھ جوڑ ہوتا ہے تو مفادات اور موقع پرستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی نے مقتدرہ کے مقابلے میں ہمیشہ اپنے کارڈز انتہائی مہارت سے استعمال کئے۔ فروری 2024 ء کے الیکشن کا اعجاز، پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر مسلم لیگ ن کی حکومت کا قیام ناممکن تھا۔ یقین کی ہر حد کو چُھو کرکہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کو صدر پاکستان، چیئرمین سینٹ کی پوزیشن آفر کرنا، اسٹیبلشمنٹ کیلئے سوہان روح تھا مگر طوعاً و کرہاً کیا۔ جب آپ ایک صفحہ کا آغاز ہی باہمی اعتماد کے فقدان سے کریں تو آگے مسئلہ کیسے حل ہونا تھا ۔ کڑوی گولی نگلی گئی کہ کوئی بڑا کام NFC ایوارڈز، پانی کی تقسیم کا مسئلہ یا پروجیکٹ 33صوبے پر حمایت مل جائے گی۔ پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں کو سیراب و سرسبز کرنے کا 100/150 بلین ڈالرز کا منصوبہ سامنے آیا تو وطنی طول و عرض میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مقتدرہ کا دُکھ کہ پیپلز پارٹی نے منصوبہ ناکام بنایا۔

ریاست کا گِلہ اور غصہ کہ پیپلز پارٹی نے اتنا بڑا پروجیکٹ سبوتاژ کیا۔ مان نہیں سکتا کہ 6 نہروں پر ریاست کو جو ہزیمت اُٹھانا پڑی، اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہوگا۔ 6 نہروں پر ریاست کی پسپائی اپنے طور ایک علیحدہ جامع تفصیلی موضوع، کسی اور وقت پر۔ صوبوں کی تقسیم در تقسیم یا انتظامی اکائیوں کو قابل عمل بنانا یا آج کی تاریخ تک اس پروجیکٹ کی حمایت غیرسیاسی لوگوں تک محدود، ہائی برڈ نظام کے نمائندگان یا DG ISPR کی طرف سے آئی ہے، کسی سیاست جماعت بشمول حکومتی پارٹی مسلم لیگ ن کو اسکی حمایت حاصل نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری جو کمال دانائی سے آر یا پار کی سیاست اور ریاست کو زچ رکھنے کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ کل اپوزیشن رہنماؤں کو ملنے کے بعد انہوں نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ کشمیر کے الیکشن پر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کئے جائیں ، وگرنہ ہم حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوئی تو شہباز شریف ایوان کا اعتماد کھو بیٹھیں گے؟

دلچسپ صورت حال سپریم کورٹ کا دو ٹوک فیصلہ کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں میں جیل سے الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، گردش ایام اچنبھے کی بات نہیں۔ تحریک انصاف کے قائدین تاثر عام کر رہے ہیں کہ انکی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو گئی ہے۔ میرے لئےیہ کہنا قبل از وقت کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کسی واضح لائحہ عمل پر متفق ہوں گے۔ البتہ آج کی تاریخ میں ایک بات میں ٹھوک بجا کر کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سے چناؤ کی صورت میں ریاست تحریک انصاف کو ترجیح دے گی اور تحریک انصاف کے پاس بھی دو چوائسز کہ مقتدرہ کیساتھ جائے یا پیپلز پارٹی کی انگلی پکڑے ، فیصلے کی گھڑی آن کھڑی ۔ عمران خان کو ریاست اتنا ہی محب وطن سمجھتی ہے جتنا نواز شریف کو مگر بدقسمتی سے دونوں کو بنفس نفیس حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ دیوار پر بہت کچھ کندہ ، پیپلز پارٹی پر کڑا وقت ضرور، اگر احتیاط نہ برتی گئی تو مملکت کا سیاسی بحران بڑھ جائے گا ۔

قارئین کرام توجہ درکار! پیپلز پارٹی کو دھکا دینا ٹھہر گیا تو پھر خدارا ! تحریک انصاف کو ہر صورت کروفر کیساتھ عمران خان کی قیادت میں متحرک کرنا ہوگا کہ کراچی تا چترال کثیر تعداد میں خلقت خدا فی الحال عمران خان کیساتھ دکھائی دیتی ہے ۔

 

 

Back to top button