قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

 

 

 

 

تحریر : عامر خاکوانی

بشکریہ : روزنامہ وی نیوز

 

ہر سال 14 اگست کو سول اعزازات کی فہرست جاری ہوتی ہے اور اکثر لوگ اسے بغیر پڑھے آگے گزر جاتے ہیں۔ اس بار مگر فہرست میں 2 نام ایسے تھے کہ نظر ان پر ٹھہر گئی۔ ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو۔ دونوں بمبئی کے پارسی ڈاکٹر، دونوں بھارتی شہری، اور دونوں اس دنیا سے رخصت ہوئے مدت گزر چکی۔ پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز ان دو ایسے لوگوں کے نام ہوا جنہوں نے کبھی اس ملک میں قدم رکھا نہ اس کی شہریت لی۔ ان کا احسان بس اتنا تھا کہ انہوں نے ایک مریض کا راز رکھا۔ ایسا راز جس نے شاید پاکستان کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

 

وہ مریض قائداعظم تھے

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، جو ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک ایسا راز تھا جسے کئی مورخ 20ویں صدی کے اہم ترین رازوں میں شمار کرتے ہیں۔ اگر قائداعظم کی بیماری کا علم ان کے سیاسی مخالفین اور برطانوی حکمرانوں کو ہو جاتا تو شاید تقسیم ہند مؤخر ہو جاتی اور پاکستان کا قیام خطرے میں پڑ جاتا۔

 

اس اعلان کی اصل اہمیت اعزاز نہیں۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے پہلی بار سرکاری سطح پر تسلیم کر لیا کہ قائداعظم قیام پاکستان سے پہلے ہی مہلک مرض میں مبتلا تھے، انہیں اس کا علم تھا، اور یہ بات دانستہ چھپائی گئی۔ یہ کسی بلاگر ، یوٹیوبر، ٹک ٹاکر کا انکشاف نہیں بلکہ ایک طرح سے اب ریاستی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اسی جگہ سے وہ سارا مقدمہ زمین بوس ہو جاتا ہے جو برسوں سے ہمارے ہاں چل رہا ہے۔ بی بی سی اردو نے بھی اپنی ایک حالیہ اسٹوری میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔

 

جون 1946 کا ایکسرے

تاریخی حقائق کے مطابق مئی 1946 کے آخری دنوں میں شملہ میں قائداعظم کو ایک بار پھر برونکائٹس نے آ لیا۔ قائد کی طبعیت زیادہ بگڑی تو فاطمہ جناح نے فوراً ان امراض کےسپیشلسٹ ڈاکٹر پٹیل کو بلوایا۔ پٹیل نے مریض کو دیکھا تو ہوش اڑ گئے۔ ڈاکٹر نے قائد کو مجبور کیا کہ وہ بمبئی ریلوے اسٹیشن پر استقبالی ہجوم کا سامنا نہ کریں۔ انہیں سیدھا اسپتال لے جایا گیا جہاں ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے پھیپھڑوں کا ایکسرے لیا۔ رپورٹ دیکھ کر دونوں ڈاکٹروں کا فیصلہ تھا کہ تپ دق پھیپھڑوں کو کھا چکی ہے اور بیماری اس مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہیں۔ ان کا اندازہ تھا کہ مریض کے پاس ایک، زیادہ سے زیادہ 2 برس ہیں۔

 

اب ذرا تاریخ ملا کر دیکھیے۔ جون 1946۔ پاکستان ابھی وجود میں نہیں آیا۔ کوئی گورنر جنرل ہاؤس نہیں، کوئی وزیراعظم نہیں، کوئی اسٹیبلشمنٹ نہیں، حتیٰ کہ ایوب خان بھی منظر سے غائب۔ تشخیص کرنے والے دو بھارتی ڈاکٹر ہیں۔ تو پھر جون 1946 میں بمبئی میں پکڑی جانے والی بیماری کو 1948 کی پاکستانی سازش کیسے کہا جا سکتا ہے؟

 

2 صحافی اور ایک خفیہ فائل

اس راز کو دنیا کے سامنے لانے والے 2 مغربی صحافی تھے، لیری کولنز اور ڈومینک لیپیئر۔ سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وہ اپنی مشہور کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے لیے تحقیق کر رہے تھے۔ بمبئی پہنچے تو ڈاکٹر پٹیل نے انہیں ایک فائل دکھائی جس پرایم اے جناح لکھا تھا۔

 

ڈاکٹر ڈیبو تب تک وفات پا چکے تھے، چنانچہ کولنز نے ان کی بیٹی ہومی سے رابطہ کیا جو والد کے کلینک میں کام کرتی رہی تھیں۔ ہومی نے بھی وہی تفصیل بیان کی جو پٹیل بتا چکے تھے۔یوں گواہی ایک نہیں، 2 معتبر ذرائع سے آئی۔

 

سنہ 1975 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں لکھا ہے کہ پٹیل نے اپنے دوست اور مریض محمد علی جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر کام کا بوجھ کم نہ کیا، آرام نہ کیا اور سگریٹ نہ چھوڑے تو ان کے پاس ایک 2 برس سے زیادہ نہیں۔

اس کے بعد کا منظر آپ تصور میں لا سکتےہیں۔ ڈاکٹر پٹیل کے مطابق یہ خبر سن کر قائداعظم کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔ بیماری سے زرد پڑے ان کے چہرے پر ذرا سی جنبش تک نہ ہوئی۔ انہوں نے دوٹوک کہہ دیا کہ سینی ٹوریم کے بستر پر لیٹ جانے کے لیے اپنی زندگی کی جدوجہد چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کتاب کے مصنفین کے الفاظ میں، قبر کے سوا کوئی چیز انہیں اس کام سے نہیں ہٹا سکتی تھی جسے وہ اپنی زندگی کا مقصد بنا چکے تھے۔

 

اس کے بعد ہر 2 ہفتے بعد ڈاکٹر پٹیل خاموشی سے انجیکشن لگاتے، مریض توانائی سمیٹتا اور واپس میدان میں جا کھڑا ہوتا۔ کیبنٹ مشن، ڈائریکٹ ایکشن ڈے، وائسرائے سے ملاقاتیں، سب اسی حالت میں۔

 

اس کہانی میں ایک کردار کا ذکر الگ سے ہونا چاہیے، محترمہ فاطمہ جناح کا۔ ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو نے اپنا طبی راز محفوظ رکھا، مگر اس راز کو قائداعظم کی روزمرہ زندگی اور سیاسی دنیا کے درمیان دیوار بنا کر رکھنے والی شخصیت ان کی بہن تھیں۔

 

قائداعظم نے بیماری کیوں چھپائی؟

دراصل 1946 میں محمد علی جناح صرف ایک سیاسی لیڈر نہیں، مسلم لیگ کی سب سے بڑی علامت اور اس کی مرکزی قوت تھے۔ ان کی بیماری کی خبر مذاکرات کی میز پر ایک نیا عنصر بن جاتی۔ مخالفین جان جاتے کہ جس شخص سے انہیں معاملہ کرنا ہے، شاید اس کے پاس وقت کم ہے۔ سیاست میں بعض اوقات چند ماہ بھی تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔

 

ماؤنٹ بیٹن کا رنگ کیوں اڑا؟

فریڈم ایٹ مڈنائٹ کا سب سے دھماکہ خیز حصہ وہ ہے جب لیپیئر نے یہ ساری تفصیل خود لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے رکھی۔ہندوستان کے آخری وائسرائے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ ہانپنے لگے، بار بار کہا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا اور پھر وہ جملہ کہا جو اب تاریخ کا حصہ ہے کہ اگر مجھے اس وقت یہ سب معلوم ہوتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ میں آزادی دینے کا فیصلہ کئی ماہ کے لیے مؤخر کر دیتا اور پاکستان وجود میں نہ آتا۔

 

یاد رہے کہ یہ اعتراف کسی پاکستانی مورخ کا نہیں، اس شخص کا ہے جو تقسیم کا سارا نقشہ اپنے ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔

 

کتاب کے مطابق یہ راز اتنی مضبوطی سے رکھا گیا کہ برطانوی خفیہ سروس تک اس کی بو نہ پا سکی۔ سوچیں، وہ برطانوی انٹیلی جنس جو ہندوستان کی رگ رگ سے واقف تھی، جس کے مخبر ہر جماعت کے اندر بیٹھے تھے، وہ یہ نہ جان سکی کہ جس آدمی سے وہ الجھ رہی ہے اس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہیں۔ وجہ 2 ڈاکٹروں کی زبان بندی اور پیشہ ورانہ دیانت تھی۔

 

تو سازش کہاں ہے؟

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ ہمارے ہاں ایک بیانیہ ہر چند ماہ بعد سر اٹھاتا ہے کہ قائداعظم کو زیارت بھیجنا سازش تھی، انہیں دانستہ امور مملکت سے الگ کیا گیا۔ حال ہی میں مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی کچھ ایسی بات کی، اور سوشل میڈیا پر تو ویوز کی خاطر بار بار یہی تماشا چلتا رہتا ہے۔

 

میں سمجھتا ہوں کہ ایسا بیانیہ بنانا دراصل خود قائداعظم کی توہین ہے۔

 

یہ بیانیہ ہمیں کیا بتا رہا ہے؟ یہ کہ وہ شخص جس نے پوری کانگریس، پورے برطانوی راج اور اپنی جماعت کے اندرونی اختلافات کو تن تنہا سنبھالا، جو گورنر جنرل تھا اور ملک کی سب سے بڑی طاقت رکھتا تھا۔ وہ چند لوگوں کے ہاتھوں زیارت کے پہاڑوں میں دھکیل دیا گیا اور خاموشی سے مان گیا؟ جو زندگی بھر اپنے فیصلے خود کرتا رہا، وہ آخری دنوں میں اپنی رہائش تک کا فیصلہ خود نہ کر سکا؟ یہ کہنے والے آج تک نہیں بتا سکے کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور ڈوریاں کس کے ہاتھ میں تھیں؟

ویسے اب تو یہ سوال ہی بے معنی ہو گیا ہے۔ بیماری کوئی سنہ 1948 کی دریافت نہیں تھی۔ ڈاکٹر پٹیل نے سنہ 1944 میں معائنہ کیا تو بلڈ پریشر تقریباً 90 تھا، مریض نحیف تھا، سینے میں درد اور کھانسی کی شکایت تھی۔ اکبر ایس احمد لکھتے ہیں کہ سنہ 1938 سے قائداعظم مسلسل اپنے اعصاب اور جسمانی قوت پر بے پناہ دباؤ کی شکایت کر رہے تھے۔ یہ سارا زمانہ اس ملک کے وجود میں آنے سے پہلے کا ہے۔ جو مرض قیام پاکستان سے 9 برس پہلے دستک دے چکا ہو، اس کا الزام پاکستان کے کس ادارے پر دھرا جائے؟

 

بیمار نہیں، صرف تھک جاتا ہوں

ہیکٹر بولیتھو نے اپنی کتاب جناح، کریئٹر آف پاکستان میں ایک منظر لکھا ہے جسے پڑھ کر دل عجیب سا ہو جاتا ہے۔ فروری 1948 میں قائد کے دیرینہ پارسی دوست جمشید نسروانجی انہیں کراچی میں گورنمنٹ ہاؤس کے باغ میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک بینچ تک پہنچے، جہاں وہ نیم غنودگی میں بیٹھے تھے۔ قائد نے آنکھیں کھولیں اور کہا، میں بہت تھک گیا ہوں جمشید، بہت تھک گیا ہوں۔

 

اسی فروری کی ایک صبح دی اسٹیٹس مین کے سابق مدیر ایان اسٹیفنز ان سے ملنے گئے۔ ملاقات کے آخر میں قائد نے کہا، لوگ کہتے ہیں کہ میں بیمار رہا ہوں، میں بیمار نہیں تھا، میں صرف تھک جاتا ہوں۔

 

یہ کسی بھولے بھالے بزرگ کا جملہ نہیں۔ یہ اس آدمی کا سوچا سمجھا بیان ہے جو ساڑھے 3 برس سے وہ راز اٹھائے پھر رہا تھا۔ اسٹیفنز نے بعد میں لکھا کہ اس وقت کسی کو احساس تک نہ تھا کہ پاکستان کا معمار موت کے سفر پر ہے۔

 

یہی نکتہ ہماری سازشی تھیوریوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ بیماری چھپانا کسی اور کا فیصلہ نہیں تھا، خود قائد کا فیصلہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر مخالفین کو خبر ہو گئی تو وہ لڑنے کے بجائے انتظار کرنے لگیں گے، تاریخیں آگے کھسکائیں گے، اور پھر مسلم لیگ کی قیادت میں سے کسی نسبتاً کمزور آدمی کے ذریعے سارا خواب بکھیر دیں گے۔ یہ خدشہ خیالی نہیں تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کا اپنا اعتراف اسے سچ ثابت کر چکا ہے۔

 

جہاں تک صحت کی تباہی کا تعلق ہے، اس میں بھی کسی سازش کی گنجائش نہیں۔ کریون اے ان کا پسندیدہ برانڈ تھا اور روزانہ 50 سگریٹ ان کا معمول۔ ڈاکٹروں نے بار بار منع کیا، انہوں نے ایک بار بھی سنجیدگی سے نہ مانا۔ آدمی نے اپنے پھیپھڑے اپنی مرضی سے ایک مقصد پر خرچ کیے۔ اس میں کسی اور کو ملوث کرنا اس قربانی کو چھوٹا کرنا ہے۔

 

آخری بات

ان 2 ڈاکٹروں کے بارے میں دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل کو سنہ 1962 میں پدم بھوشن دیا تھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ایک دن سرحد کے اس پار کا ملک بھی انہیں اعزاز دے گا، اور اس کام پر جو انہوں نے کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں، محض ایک ڈاکٹر کے ضابطہ اخلاق کے تحت کیا تھا۔

 

میں سمجھتا ہوں کہ اس سارے قصے کا سبق سیدھا سا ہے۔ ہم نے پچھلی کئی دہائیوں میں یہ عادت پال لی ہے کہ ہر واقعے کے پیچھے ایک خفیہ ہاتھ ڈھونڈتے ہیں۔ اس عادت نے ہمیں یہ نقصان پہنچایا کہ ہم اپنے بڑوں بلکہ بانیان پاکستان کو بھی فاتح کے بجائے مظلوم کے طور پر دیکھنے لگے۔

قائداعظم کے ساتھ یہ سلوک سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ وہ اس تاریخ کے شکار نہیں تھے، وہ اسے لکھنے والوں میں سے تھے۔ یہ کام انہوں نے ان پھیپھڑوں کے ساتھ کیا جو ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔

 

11 ستمبر 1948 کو جب وہ رخصت ہوئے تو آزادی کو بمشکل ایک برس ہوا تھا۔ بمبئی کے ڈاکٹروں کا اندازہ لفظ بہ لفظ درست نکلا۔

 

اس لیے آئندہ جب کوئی کہے کہ زیارت بھیجنا سازش تھی، تو اس سے بس ایک سوال کیجیے کہ جون 1946 میں بمبئی کے اس ایکسرے روم میں سازش کون کر رہا تھا؟

 

Back to top button