سیاسی اور معاشی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ نیا الیکشن

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قلیل مدتی حکومت کا سامنا ایک بڑے خوفناک معاشی بحران سے ہے جسے یہ حل کرے تو اسکی سیاسی خود کشی کے مترادف ہے اور اگر ٹالے تو اگلی حکومت کے لیے بڑی مصیبت کھڑی ہو جائے گی لہٰذا موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ حکومت بلا تاخیر نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا عرصہ چار یا سات ماہ تک محدود کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا فی الفور اعلان کرنا ہوگا، انتخابات نومبر میں ہوں یا اگلے برس مارچ میں، اس سے بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا لیکن مسئلے کا حل یہی ہے کہ ان کی تاریخ کا اعلان فوری کر دیا جائے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ لندن میں ن لیگ کے قائد نواز شریف سے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے پارٹی اراکین کی مشاورت کے بعد اتحادیوں کے ساتھ اتفاق رائے سے شہباز حکومت کچھ اہم اعلانات کرنے جارہی ہے۔ ان ممکنہ اہم اعلانات کا تعلق موجودہ حکومت کے چار بڑے مخمصوں سے ہے۔ اول: موجودہ حکومت کی مدت کیا ہو؟ چار ماہ، سات ماہ یا چودہ ماہ؟ لگتا یوں ہے کہ بحث چار ماہ یا چودہ ماہ کے عرصے پر ہورہی ہے۔ اگر یہ حکومت چار ماہ رہتی ہے تو یہ عمران حکومت کے چھوڑے ہوئے معاشی و انتظامی ملبے کا بوجھ اُٹھانے سے بچ سکتی ہے، لیکن اس دوران عمرانی لہر کا غیض و غضب ایک حد تک برقرار رہے گا، البتہ تحریک انصاف کیلئے سو سے زیادہ نشستوں پہ اُمیدوار تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ معیشت کو ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا تو امرِ مجبوری ہے، البتہ اس کا بوجھ نگران حکومت کے سر منڈھا جاسکتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے یا چودہ ماہ کی حکومت کی صورت میں، معاشی دیوالیہ پن سے بچ نکلنے کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور عوام پر بجٹ خسارے کا بوجھ پہلے سے کہیں زیادہ ڈالنا پڑے گا، ایسی صورت میں مہنگائی کی نئی لہر عمران کو کافی بارود فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن انتہائی عمدہ کارکردگی اور متوازن فیصلوں سے معاشی حالات استحکام کی طرف جانا شروع ہو سکتے ہیں اور اگلے سے اگلے بجٹ میں عوام کو تسلی دینے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ لیکن سیاسی طوفان ایسا ہے جس میں عمران خان آئے روز طرح طرح کے آتشی مادے میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ پر بھی حملہ آور ہیں اور فوجی قیادت پر دباؤ بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔ اٹک کے بعد مردان کے جلسے میں تو کپتان نے اپنے خلاف امریکی سازش کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری بھی سلامتی کے اداروں پہ ڈال دی ہے۔ ان کے بقول سابقہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے ذریعہ انہون نے یہ پیغام متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا تھا کہ حکومتی تبدیلی سے معیشت زمین پہ آن گرے گی، لیکن حکومت کی تبدیلی کی سازش کو نہ روکا گیا۔ گویا مقتدرہ کی ’’غیر جانبداری‘‘ دراصل امریکی سازش کی کامیابی کی ضامن بنی۔
عمران خان اب 20 مئی کو اسلام آباد کو یرغمال بنانے کا اعلان کرنے جارہے ہیں اور وہ تب تک وہاں دھرنا یا قبضہ برقرار رکھیں گے جب تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان، چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی، نئے الیکشن کمیشن کا قیام اور موجودہ حکومت برطرف کر کے عبوری حکومت کا اعلان نہیں ہو جاتا۔ حکومت سمیت تمام ادارے عمران کی جارحانہ حکمت عملی کے سامنے پچھلے قدموں پہ ہٹنے کو اس لیے مجبور ہیں کہ معیشت آخری سانسوں پر ہے۔ لہٰذا جو لوگ 14 ماہ کی حکومت کے مدعی ہیں، انہیں پیچھے ہٹنا ہوگا۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ حکومتی عرصہ چار یا سات ماہ سے آگے جائے گا تو پانی سر سے گزر سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کا عرصہ چار یا سات ماہ تک محدود کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا فی الفور اعلان کرنا ہوگا۔ انتخابات نومبر میں ہوں یا اگلے برس مارچ میں، اس سے بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن مسئلے کا حل یہی ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے۔ دوسرا بڑا مخمصہ یہ ہے کہ مالیاتی دیوالیہ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کیا جائے یا نیا معاہدہ کیا جائے۔ لیکن شرائط تو آئی ایم ایف ہی کی ہونی ہیں اور قومی خود مختاری کا علم بلند کرنے والے کپتان نے آئی ایم ایف سے بدترین شرائط پر معاہدے کیے، توڑے اور بد سے بدترین شرائط پر انگوٹھے لگائے۔ اب یہ معاہدے موجودہ حکومت کے گلے پڑگئے ہیں۔ افراطِ زر، روپے کی تیزی سے گرتی قدر، ناقابل برداشت بیرونی و اندرونی خساروں اور قرضوں کا دیو ہیکل بوجھ گزشتہ تین حکومتوں اور عمران حکومت ہی کی دین ہے۔ مختصر مدت یعنی چار ماہ کی صورت میں نرم معاہدہ کیا جاسکتا ہے اور کڑوے فیصلوں کا بوجھ عبوری حکومت کو منتقل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ آئی ایم ایف اس پر تیار ہو۔
امتیاز عالم کے مطابق سات ماہ کی مدت کی صورت میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ البتہ اس بوجھ کو تین چار سال کی مدت کے اضافے کے ساتھ قسطوں میں بانٹ کر غیر مقبول فیصلوں کو چند ماہ کے لیے ٹالا جاسکتا ہے۔ تاہم موجودہ حکومت سے عمران کی نفرت اتنی شدید ہے کہ انہوں نے اس کے قیام کو ملک پر ایٹم بم گرنے سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کے مابین کوئی سیاسی سمجھوتہ کیسے ہوا گا؟ امتیاز عالم کے بقول، موجودہ بحران کی اصل جڑ مالی یا مالیاتی خسارے میں نہیں بلکہ ایک نحیف و دست نگر معیشت کی بودی بنیاد پر ایک لحیم شحیم ریاست کے بالائی ڈھانچے کا بوجھ ہے جس کی بنیادی وجہ یہنہے کہ اہم ترین فیصلہ سازی پر امرا کا قبضہ ہے۔ پاپولسٹ عمران خان اسٹیٹس کو بدلنے کے نعرے تو لگاتے رہے لیکن اصل تبدیلی تب آئے گی جب امرا کا ہر جانب قبضہ ختم کیا جائے گا اور معیشت کو پائیدار بنیاد پر ترقی دیتے ہوئے، عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ بھاری بھرکم پاکستانی ریاست کا بوجھ نحیف معاشی بنیاد پر اتنا ہی ڈالا جائے جتنا یہ سہار سکے۔ یہ حل تو بڑا سیدھا سادہ ہے لیکن طاقتور ادارے اور امرا اس پر عمل درآمد نہیں ہونے فیتے۔
امتیاز عالم کا کہنا یے کہ یہ چھوٹی موٹی اور بڑی کرپشن ختم کرنے کا معاملہ نہیں۔ یہ سماجی کایا پلٹ کا سوال ہے جسے ہماری تینوں حکمران جماعتیں اپنے طبقاتی کردار کے وصف حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ موجودہ حکومت بھی زیادہ سے زیادہ عمران حکومت سے بہتر لیپا پوتی کرپائے گی، لیکن بحران کا منبع اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ انکے مطابق بڑا مخمصہ یہ ہے کہ ایک قلیل مدت مخلوط حکومت کا سامنا ایک بڑے خوفناک معاشی بحران سے ہے جسے یہ حل کرے تو اسکی سیاسی خود کشی کے مترادف ہے اور اگر ٹالے تو اگلی حکومت کو بڑی مصیبت سے دوچار کردے گی۔
