سیالکوٹ واقعہ کے مجرموں کو سزا ملے گی یا الیکشن کا ٹکٹ؟


سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو قتل کے بعد نذر آتش کر دینے والوں کے بارے میں اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا واقعی اس کے سفاک قاتلوں کو سزا ملے گی یا پھر اگلے انتخابات میں انہیں تحریک لبیک کا ٹکٹ ملے گا؟ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سری لنکن شہری کے قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس کے قاتلوں کی اکثریت کا تعلق تحریک لبیک سے تھا جس پر شدت پسندی کے الزامات کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔ حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان یہ پابندی نہ ہٹاتے اور لبیک کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دیتے تو شاید سیالکوٹ کا اندوہناک سانحہ پیش نہ آتا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد حکومت نے اس کے سربراہ علامہ سعد رضوی کو بھی رہا کر دیا تھا۔ رہائی کے بعد سعد نے لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب کوئی طاقت انکا راستہ نہیں روک سکتی اور لبیک کے کارکنان ملک بھر میں اگلے الیکشن کی تیاری کریں۔ دوسری جانب حکومتی جماعت تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کی الیکشن انڈرسٹینڈنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں عوامی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ٹی ایل پی سے تعلق رکھنے والے انسانیت کے سفاک مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا یا اگلے الیکشن میں انھیں ٹکٹ دیا جائے گا؟
سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے اپنی تازہ تحریر میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود کہتے ہیں کہ سری لنکا کے شہری کو مرتے دم اندازہ ہو گیا ہو گا کہ نہ یہ شہر وہ شہر ہے، نہ یہ صوبہ وہ صوبہ ہے، نہ یہ ملک وہ ملک ہے جس کا ذکر پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں ملتا ہے۔
سری لنکا کے شہری ’پریا نتھا کمارا‘ دس برس قبل جب پاکستان آئے ہوں گے تو انھوں نے یقیناً پاکستان کے متعلق کچھ تحقیق کی ہو گی، کچھ وکی پیڈیا پر پڑھا ہو گا، کچھ گوگل سرچ کی ہو گی، پانچویں جماعت کے نصاب میں شامل معاشرتی علوم کی کتاب کا مطالعہ کیا ہو گا، آئینِ پاکستان پر نظر دوڑائی ہو گی، پاکستانی قوانین کا جائزہ لیا ہو گا۔ ان تمام معلومات کو یکجا کر کے انھوں نے نتیجہ نکالا ہو گا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، یہاں کے لوگ امن کے خواہاں اور مہمان نواز ہیں، یہاں کے آئین کے مطابق اقلیتیوں کو ان کے تمام انسانی حقوق حاصل ہیں، یہاں کا قانون کسی بے گناہ پر ظلم کی اجازت نہیں دیتا، یہاں کی اکثریت اس مذہب سے تعلق رکھتی ہے جسے امن کا مذہب کہا جاتا ہے، جس کے پیغمبر، نبی آخر الزماں، ’رحمت اللعالمین‘ کہلاتے ہیں، یہاں حقوق العباد کا خیال رکھا جاتا ہے، نفرت کے شعار کی ممانعت ہے، یہاں کی حکومت ٹورازم کو فروغ دے کر اپنی ثقافت اور اقدار سے دنیا کو متعارف کرنا چاہتی ہے۔
بقول عمار مسعود، پریا نتھا کمارا نے پنجاب کے بارے میں یہی سنا ہو گا کہ یہاں کے لوگ کھتی باڑی کرتے ہیں، بھنگڑے ڈالتے ہیں، ہیر وارث شاہ پڑھتے اور حقے کا کش لگا کر اپنے دن کو تمام کرتے ہیں، یہ آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، سب صوبوں کا بڑا بھائی ہے۔ طاقت کا سرچشمہ ہے، سیاسی تحریکیں یہیں سے جنم لیتی ہیں، یہیں سے کلچر اور تہذیب کا انشراح ہوتا ہے، یہ موسیقی کے گھرانوں کا دیس ہے، یہ محبت کرنے والوں کی دھرتی ہے، یہ ساتھ نبھانے کی قسمیں کھانے والوں کا علاقہ ہے، یہ ہیر اور رانجھے کی بستی ہے، یہ سوہنی مہنیوال کا دیس ہے، یہ وارث شاہ، شاہ حسین، سلطان باہو، میاں محمد بخش اور بلھے شاہ کا وطن ہے، یہ روشن آرا بیگم کا میزبان اور نور جہاں، عنایت حسین بھٹی اور طفیل نیازی کی تانوں پر گنگناتا صوبہ ہے۔
عمار مسعود کے مطابق پریانتھا کمارا نے سیالکوٹ کے بارے میں بس اتنا جانا ہو گا کہ یہ صنعت و حرفت کا مرکز ہے۔ یہ کھیلوں کے سامان کے لیے معروف ہے، یہاں کا بنا فٹ بال ’فیفا‘ کی طلب ہے، یہاں کے بنے بیٹ کی دنیا بھر میں مانگ ہے، یہاں کی بنی گیند ہوا میں سرعت سے رخ پلٹتی ہے۔ اس شہر میں شاعر بزرگ علامہ اقبال کا جنم ہوا، یہی شہر فیض احمد فیضؔ جیسے تخلیق کار کا مسکن بنا، یہ شہر اپنے کھابوں اور لہجے کے حوالے سے معروف ہے، یہاں بچہ بچہ بزنس کے امور سے واقف ہے، ایکسپورٹ اور امپورٹ کے بین الاقوامی قوانین سے آگاہ ہے۔ یہ انہی دلیروں کا شہر ہے جو جسم سے بم باندھ کے دشمن کے ٹینکوں سے بھڑ گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پریا نتھا کمارا نے جب پاکستان کا سفر اختیار کیا ہو گا تو ان کی اہلیہ نیروشی دسانیا کے نے انھیں اپنے مذہب اور مسلک کے تحت دعاؤں سے رخصت کیا ہو گا، سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکاسا سر ی لنکا کے شہری پریا نتھا کمارا کو ذاتی طور پر نہیں جانتے ہوں گے مگر کسی اکنامک سروے سے انھیں اطلاعات مل گئی ہوں گی کہ ایک سری لنکن شہری ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے کی خاطر دوست ملک پاکستان کی جانب عازم سفر ہو چکا ہے، سری لنکن ٹیم پر حملے کی وجہ سے ’پریانتھا کمارا‘ کی حفاظت کی فکر تو ہو گی مگر اس بات سے اطمینان ہو گیا ہو گا کہ اب وہاں ریاست مدینہ بن چکی ہے، اب استحصال اور خوف کا دور بیت گیا اب شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ پھر سری لنکا کے وزیر اعظم نے سوچا ہو گا کہ پریا نتھا کمارا اس ملک میں جا رہے ہیں جہاں کے لوگوں کو سب سے زیادہ آنکھوں کا عطیہ سری لنکا کی جانب سے ملتا ہےلیکن یہ بصارت کی بات ہے بصیرت کا معاملہ کچھ اور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار
لیکن بقول عمار مسعود، پریا نتھا کمارا کو اپنے بدن کی ہڈیاں چور چور کرتے ہجوم کو دیکھ کر اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ وہ ملک نہیں جس کے آئین کی کتاب انھوں نے پڑھی تھی، زندہ جلتے انسان کے ساتھ سیلفیاں لیتے جنونیوں کو دیکھ کراندازہ ہو گیا ہو گا یہ وہ پنجاب نہیں جس کے بارے میں انھوں نے سنا تھا، ان کی لاش کی بے حرمتی کرتے دیوانوں کو دیکھ کر ان کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ وہ شہر نہیں جس کا ذکر انہوں نے سنا تھا۔
انھیں اپنے جلتے وجود کے ساتھ یہ سمجھ آ گئی ہو گی کہ اب یہ وہ ملک ہے جہاں ان سے بھی معاہدے کیے جاتے ہیں جنھیں دہشت گرد کہا جاتا ہے، جہاں جنونیوں کے خلاف ججوں کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے ہیں، یہ وہ ملک ہے جہاں اے پی ایس میں ذبح کیے جانے والے بچوں کے والدین آج تک انصاف کی تلاش میں در در پھر رہے ہیں جہاں ان جتھوں کے آگے قانون بھی بےبس، آئین بھی سرنگوں اور ریاست بھی خاموش ہے۔ لہذا یہ سوال کرنا بے جا نہیں ہو گا کہ ان حالات میں کیا پریانتھا کمارا کے قاتل اور انسانیت کے مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا یا اگلے الیکشن میں انھیں ٹکٹ دیا جائے گا؟

Back to top button