سینئر صحافی عامر میر کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

ایف آئی اے کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کے بعد گوگلی نیوز کے سی او عامر میر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں گرفتار کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو وہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا پورا صحافتی کیریئر پاکستان کے مفادات کی نگہبانی کی انتھک کوششوں سے عبارت ہے لہذا مجھ پر یہ الزام لگانا کہ میں نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف کچھ کیا ہے، انتہائی لغو اور بودا الزام ہے۔ عامر میر کا کہنا تھا کہ میں اس عزم کا اظہار کرتا ہوں کہ پاکستان کے مفادات کی نگہبانی اور پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہر صورت جاری رکھوں گا۔
تفصیلات کے مطابق عامر میر معمول کے مطابق جیسے ہی گھر سے آفس کیلئے نکلے انھیں گاڑی سمیت اغواء کر لیا گیا اور لاپتہ ہونے کے 5 گھنٹے بعد ایف آئی اے نے ان کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی تاہم عامر میر کو کس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ صحافی عامر میر جنگ، دی نیوز، جی این این سمیت مخلتف ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں میں سینئر پوزیشنز پر کام کر چکے ہیں تاہم آج کل وہThe Uncensored Mediaکے سلوگن کے ساتھ گوگلی نیوز کے نام سے اپنا سوشل میڈیا چینل چلا رہے ہیں جس پر مخلتف خبریں اور تجزئیے پیش کئے جاتے ہیں۔ گوگلی نیوز عام طور پر وہ خبریں اور تجزئیے پیش کرتا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا پر پابندیوں کے باعث نہیں چلایا جاسکتا، علاوہ ازیں گوگلی نیوز پر آئین و قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے بیانیئے کا بھی کھل کر اظہار کیا جاتا ہے۔
سینئر صحافی عامر میر کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پرRelease Amir MirاورJournalism Not Crimeٹرینڈ کر رہا ہے اور سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے سینئیر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سچ لکھنے اور بولنے والوں کی زبان بندی کافی عرصے سے جاری ہے عامر میر کی گرفتاری آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہے۔
سینئر صحافی عامر میر کی گرفتاری کے بعد حامد میر نے ٹوئٹر پر خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی عامر میر کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے علی الصباح گرفتارکیا گیا۔ انہوں نے ان کا لیپ ٹاپ اور فون بھی قبضے میں لے لیا جبکہ ہمیں بھی ان کے بارے میں معلومات پانچ گھنٹوں بعد ملی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل صحافی عمران شفقت کو بھی لاہور میں ایف آئی اے نے انکی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ جو بھی ہو رہا ہے پاکستانی عوام کے سامنے ہے ایف آئی اے نے عامر میر کو حراست میں لیکر ایک دفعہ پھر سب کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کا میڈیا کتنا آزاد ہے ؟
حامد میر نے پریس فریڈم کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا کہ صحافی عمران شفقت نے کچھ عرصہ قبل میرے حق میں ایک وی لاگ کیا تھا اور عامر میر کا اتنا جرم کافی ہے کہ وہ میرا بھائی ہے دونوں کو آج ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے اگر مقصد مجھے خاموش کرانا ہے تو انشأاللہ میری آواز آپ زیادہ زور سے سنیں گے۔ پکڑنا ہے تو آؤ مجھے آ کر پکڑو ۔
چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سینئیر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لینا قابل مذمت ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ جو اس حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف آواز بلند کرے، اس کے خلاف جبر کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں،
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ عامر میر لاہور کے ایک بہادر صحافی ہیں، ایف آئی اے ان کو اپنی بیجا حراست سے فوری رہا کرے،انھوں نے کہا کہ اگر یوٹیوب کے ایک وی لاگ سے سرکار کو خطرہ محسوس ہورہا ہے تو اس حکومت کی بنیادیں بہت کمزور ہیں، بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو کچلنا بند کریں، یہ جمہوریت ہے، کوئی آمرانہ دور نہیں
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سینئر صحافی عامر میر اور ولاگر عمران شفقت کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ صحافیوں کی گرفتاری انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔ ایسے واقعات ملک کے لئے باعث رسوائی ہیں۔صحافی برادری سے اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔
نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے سینئیر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں دو صحافیوں کا اغوا نہایت ہی تشویشناک ہے۔صحافی برادری کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اس میں کوتاہی مجرمانہ ہے۔ تنقید کرنے پر کسی کو غائب کردینا غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ کس کس کو چپ کرائیں گے؟ اب تو پورا ملک بول رہا ہے۔یہ حرکتیں آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ افسوس!
مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سینئر صحافی عامرمیر اور ولاگر سید عمران شفقت کو اغوا کرکے لیجانا ایف آئی آئی اے کی کھلی غنڈہ گردی ہے جو انتہائی قابل مذمت، تشویشناک اور باعث افسوس ہے۔ عمران صاحب کے براہ راست حکم پرگرفتاریاں ہونا ثبوت ہے کہ یہ حکومت غیرجمہوری ، آمرانہ و فسطائی سوچ کی مالک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی وصحافتی ناقدین کو دباو میں لانے کے لئے اپنے اختیارات کا غیرقانونی استعمال کیاجارہا ہے۔ فاشسٹ حکومت میں صحافیوں، قلم کاروں اور اظہار رائے کے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے سچ بولنے پر ڈٹے باضمیر افراد کا غائب کیاجانا، گھروں کے باہر صحافیوں کو گولیاں مارنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عامر میراور عمران شفقت کو فوری رہا کیاجائے۔ عمران صاحب اور ان کے کرائے کے ترجمان سچ بولنے والے صحافیوں پر غصے میں ہیں۔ عمران صاحب کتنے سچ بولنے والوں کو گھروں سے اٹھائیں گے، ہر گھر سے سچ کی آواز بلند ہورہی ہے۔ حکومت اپنی آئینی وقانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں سینئرصحافی اور وی لاگر عمران شفقت کو بھی لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے اغواء کر لیا گیا۔عمران شفقت ایک صحافی ہیں جو مختلف چینلز کے ساتھ بطور رپورٹر بھی منسلک رہ چکے ہیں جبکہ آج کل وہ اپنے یوٹیوب چینل ‘ ٹیلنگز وی عمران شفقت’ پر تجزئیے اور تبصرے پیش کرتے تھے۔ اپنی خبروں اور تبصروں کی بنیاد پر انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بھی سمجھا جاتا ہے۔
سینئیر صحافی ابصار عالم نے توئٹ کیا کہ پاکستان کے دل لاہور سے آج صبح دو سینئر صحافیوں عامر میر اور شفقت عمران کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔دونوں کو سچی خبریں دینے کا بہت شوق تھا۔
صحافی رضوان رضی نے سینئر صحافی عامر میر کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عامر میر، جو پاکستان کے ہر اغوا ہونے والے فرد کے لئے آواز اٹھایا کرتے تھے، آج ان کے لئے ٹویٹ کرتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ عامر میر پر ریاستی تشدد کا یہ سفر ان کے والد پروفیسر وارث میر سے جاری ہے۔
راجہ وسیم نے لکھا کہ ظالمو،باز آ جاؤسرکاری دہشتگردی بند کروسرکاری اغواء بند کروقوم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تو تمہیں کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی
