سینیٹ الیکشن سے پہلے PTI چاروں صوبوں میں اختلافات کا شکار

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن سے پہلے حکمران جماعت تحریک انصاف چاروں صوبوں میں ٹکٹوں کے معاملے پر شدید اختلافات کا شکار ہو چکی ہے جس سے حیران کن الیکشن نتائج آنے کا امکان پیدا ہو چکا ہے. باخبر پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر پنجاب، خیبر پختونخواہ اور سندھ کے بعد اب بلوچستان میں بھی حکمران جماعت کے لئے شدید مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ ان اختلافات کے باعث بلوچستان میں حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ اور تحریک انصاف تاحال کوئی مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں جبکہ سینٹ کا الیکشن سر پر پہنچ چکا ہے۔
تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے ٹکٹوں کی میرٹ کے برخلاف تقسیم پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی جماعت کی مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت بی اے پی اور تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور مشکلات بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جس کے باعث وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دی ہے کہ سینٹ کا الیکشن بچانے کے لئے ذاتی طور پر مداخلت کریں کیونکہ اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔
سردار یار محمد رند نے اپنے اختلافات پبلک کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں پارٹی کی مرکزی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں پارٹی کی جانب سے جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی اس میں بلوچستان کی نمائندگی ہی نہیں ہے اور یہاں سے ایسے لوگوں کو سینیٹ کے لیے ٹکٹ دیا گیا جن کو اُنھوں نے پارٹی میں کبھی دیکھا ہی نہیں۔ اُنھوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جام صاحب نے تحریک انصاف کو مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ میں ان کی کابینہ کا وزیر ضرور ہوں لیکن پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمانی رہنما ہونے کے باوجود مجھے اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ اس انٹرویو کے بعد کوئٹہ میں سردار یار محمد رند کے ترجمان بابر یوسف زئی نے بتایا کہ پارٹی کے صوبائی صدر نے جن تحفظات کا اظہار کیا تھا پارٹی کی مرکزی قیادت نے ان کا نوٹس لیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے رابطوں کے بعد کوئٹہ میں پارٹی کا اجلاس ہو رہا ہے اور جب تک پارٹی کا اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں آتا وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر سینیٹ الیکشن سے پہلے ان اختلافات کو ختم نہ کیا گیا تو تحریک انصاف کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی رشید بلوچ کے مطابق تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے جو پہلی نامزدگی کی اس کو پارٹی کی صوبائی قیادت نے قبول نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے پہلے کاروباری شخصیت عبد القادر کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔ تحریک انصاف بلوچستان میں عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان کا تعلق بلوچستان سے نہیں بلکہ وہ تحریک انصاف میں بھی کبھی نہیں رہے۔ تاہم عبد القادر نے بلوچستان سے تعلق نہ ہونے کے دعوے کو مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق نہ صرف کوئٹہ سے ہے بلکہ اُنھوں نے تعلیم بھی کوئٹہ سے حاصل کی۔ عبد القادر کی مخالفت کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے پارٹی سے پرانی وابستگی رکھنے والے سید ظہور آغا کو ٹکٹ دیا گیا لیکن رشید بلوچ کے مطابق پارٹی کے پارلیمانی گروپ میں سید ظہور آغا کی نامزدگی کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں۔ ان حالات میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اپنی صوبائی قیادت بالخصوص صوبائی صدر کو سینیٹ کے امیدوار کی نامزدگی کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا تھا جسکا تحریک انصاف بلوچستان کے صدر نے برملا اظہار بھی کیا ہے۔‘ رشید بلوچ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے معاملات پر بات کرنے کے لیے سردار یار محمد رند نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات کی بھی کوشش کی تھی لیکن اُنھیں یہ شکایت ہے کہ اُنھیں ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا گیا جس کے بعد معاملات اور زیادہ خراب ہوئے اور انہیں اپنے اختلافات کا اظہار ایک انٹرویو میں کرنا پڑا۔ دوسری جانب سردار یار محمد رند کے بڑے صاحبزادے سردار خان رند بھی بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد سات ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ سات ممبران کے ساتھ تحریک انصاف کو بلوچستان سے بمشکل ایک جنرل نشست مل سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سردار یار محمد اپنے بیٹے کے لیے تحریک انصاف کی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن ان کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف ان کے بیٹے کی حمایت کرے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے سات ووٹوں میں سے چار ان کے ساتھ ہیں۔ اُنھوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف بلوچستان میں سینیٹ کے حوالے سے اندرونی اختلافات کا شکار ہے جبکہ بڑی اتحادی جماعت بی اے پی کے ساتھ اختلافات کے باعث معاملات طے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مشکلات زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت باپ سے اس بات پر نالاں ہے کہ اس کے بعض قائدین عبدالقادر کی سینیٹ الیکشن کے لیے حمایت کیوں کر رہے ہیں۔
شہزادہ ذوالفقار کے مطابق عبدالقادر کی میدان میں موجودگی کی وجہ سے تحریک انصاف بلوچستان کی صوبائی قیادت کو اپنے ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ ہے۔ تحریک انصاف بلوچستان کی مخالفت کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے ٹکٹ واپس لینے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ارب پتی بلڈر عبدالقادر سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے سے دستبردار ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ اُنھوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ ان کے تجویز اور تائید کنندگان وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جماعت بی اے پی سے تھے۔ تحریک انصاف بلوچستان کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلیٰ جام کمال خان کا عبد القادر کے دفاع کے حوالے سے کہنا ہے کہ عبدالقادر تحریک انصاف اور بی اے پی کے مشترکہ امیدوارتھے۔ وزیر اعلیٰ جام کمال کا یہ مؤقف ہے کہ اگرچہ تحریک انصاف نے عبد القادر کی حمایت کو ترک کیا لیکن باپ انکی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئی۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق عبد القادر کی میدان میں موجودگی سے خود بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار بھی تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ عبدالقادر کی موجودگی میں ان کی کامیابی کے امکانات کافی کم ہوں گے۔
تحریک انصاف بلوچستان اور خود بی اے پی کے اندر سے مخالفت کے باوجود جام کمال کی عبدالقادر کی اعلانیہ حمایت کرنے کے حوالے سے شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ عبد القادر ایک بااثر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نہ صرف عبدالقادر کے بڑے حامی ہیں بلکہ بعض دیگر حلقوں کے بھی وہ قریب سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے باپ میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات ان کی حمایت کررہے ہیں۔
سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے جہاں تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہے وہاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ شہزادہ ذوالفقار کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ پارٹی سے امیدواروں کی بڑی تعداد کے علاوہ باہر سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور اتحادی جماعتوں کی امیدواروں کو قراردیتے ہیں۔ بلوچستان سے باہر سے تعلق رکھنے والی جس امیدوار کو بی اے پی نے ٹکٹ دیا ہے وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خاتون ستارہ ایاز ہیں۔ وہ سینیٹ کے گذشتہ انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا سے کامیاب ہوئی تھیں لیکن گذشتہ سال چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پارٹی ڈسپلن کی مبینہ خلاف ورزی پر اے این پی نے ان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے ستارہ ایاز کو جنرل نشست پر ٹکٹ دیا ہے جبکہ جنرل نشست پر خود باپ کے سیکریٹری جنرل منظور کاکڑ، میر سرفراز بگٹی اور میر اورنگزیب جمالدینی امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ مخلوط حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کا یہ کہنا ہے کہ سینیٹ کے گذشتہ انتخاب میں ووٹ دینے کے بدلے میں بلوچستان عوامی پارٹی نے جنرل نشست پر ان کے امیدوار کی حمایت کے حوالے سے کمٹمنٹ کی ہے۔
دوسری طرف مخلوط حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے صدر میر اسرار اللہ زہری بھی جنرل نشست پر امیدوار ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے بی اے پی ان کی حمایت کرے۔ تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اپنی پارٹی کے امیدواروں اور اتحادیوں کو خوش رکھنا وزیر اعلیٰ جام کمال کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکمران اتحاد کا خیال ہے کہ وہ سینیٹ کی 12 خالی نشستوں میں سے آٹھ نشستیں آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد جن اختلافات اور مشکلات سے دوچار ہے اگر ان پر قابو نہیں پایا گیا تو شاید ان کے لیے اتنی نشستیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکے گا جس کے باعث خود وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی خدشات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال نے تحریک انصاف کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو ایک تجویز کی شکل میں بظاہر مداخلت کے لیے کہا ہے۔
تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کی جانب سے وزیر اعلیٰ جام کمال کو اعلانیہ تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد وزیر اعلیٰ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں جام کمال نے وزیر اعظم کو مشترکہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف نہ صرف بلوچستان اور وفاق میں اتحادی ہیں بلکہ بی اے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سینیٹ کا انتخاب لڑنا چاہتی ہے۔ ’اس اتحاد کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم بلوچستان میں سینیٹ کے حوالے سے ایک مشترکہ پارلیمانی بورڈ قائم کریں جو کہ اس سلسلے میں تجاویز پیش کرے تاکہ بلوچستان میں سینیٹ الیکشن کے دوران عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے ووٹ ضائع نہ ہوں۔‘ جب بی اے پی اور تحریک انصاف کے درمیان اختلاف کے حوالے سے باپ کے سیکریٹری جنرل منظور کاکڑ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی ملکر انتخاب لڑیں اس لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر اعظم کو مشترکہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔ منظور کاکڑ نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے اندر سردار یار محمد رند کے کسی سے اختلاف ہے تو وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button