سینیٹ انتخابات :حکمران اتحاد میں دراڑیں آنے کا خدشہ

سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نشست پر حکمران جماعت تحریک انصاف کی بدترین شکست پر حکومتی اتحاد میں دراڑیں پڑنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب ہونے والے اعلی سطحی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کے ارکان کی تعداد 180ہے جب کہ حفیظ شیخ کو 164ووٹ ملے اس لئے یہ سوال اہم ہے کہ حکومتی اتحاد کے 16ووٹ کہاں گئے؟ اسی طرح دو وفاقی وزیروں کے ووٹوں سمیت ضائع ہونے والے7ووٹوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن میں ایک بیلٹ پیپر پر ووٹر نے دستخط کیے، 4 بیلٹ پیپرز پر ووٹرز نے گنتی کے نمبر لکھنے کی بجائے ٹک کیا ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے سینیٹ انتخاب میں 2 بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے نام کے آگے نمبر 1 یا 2 لکھنے کی بجائے صرف 2 لکھا گیا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پولنگ ایجنٹوں کے اصرار پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی گئی، جب کہ ریٹرننگ آفیسر کے مرتب کردہ نتائج پر پولنگ ایجنٹوں نے دستخط کیے یہ امرقابل ذکر ہے کہ اراکین کو امیدواروں کو ایک سے دس تک ترجیحی نمبر دینا ہوتے ہیں اسلام آباد کی نشست پر دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا 4بیلٹ پیپرز پر دو لکھنے کا مطلب ہے کہ ان ووٹوں کو شعوری طور پر ضائع کیا گیا اسی طرح تین ووٹ وفاقی کابینہ کے اراکین کے ہیں جنہیں ضائع کیا گیا۔ اسی طرح کے پی کے میں تحریک انصاف کے 11اراکین نے ووٹ ضائع کیا جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں پولنگ کے دوران غیرحاضر رہی لیکن کے پی کے میں اس نے اپوزیشن کو ووٹ دیا، جماعت اسلامی کے اس فیصلے پر جماعت کے اندر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں ادھر تحریک انصاف کی جانب سے ان معاملات کی تحقیقات کےلیے الیکشن کمیشن جانے کا اعلان کیا جاچکا ہے تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کی ساکھ کو جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا ہے اب اس کا ازالہ آسان نہیں ان کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت نے وفاقی دارالحکومت کی نشست کو زندگی اور موت کا مسلہ بناکر اپنے لیے خود مشکلات پیدا کیں کیوں کہ اگر اس نشست پر بھی معمول کے مطابق انتخابی مہم چلائی جاتی تو ہار جیت کا اتنا فرق نہیں آنا تھا کہ جماعت کی ساکھ داﺅ پر لگ جاتی جہاں تک حفیظ شیخ کا تعلق ہے تو انہیں پنجاب یا کے پی کے کی کسی محفوظ نشست سے الیکشن لڑوایا جاسکتا تھا مگر عمران خان کچن کیبنٹ کے غلط مشوروں سے مار کھاگئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر جب حفیظ شیخ کو وزیرخزانہ بنانے کا دباﺅ تھا تو اس نے وفاق میں حکومت ہونے کے باوجود محفوظ ترین نشست پر سندھ سے الیکشن لڑوایا تھا تاکہ ان کی جیت یقینی ہو اب تحریک انصاف کی حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں کا حفیظ شیخ کو طاقتور ترین وزارت دینے کےلیے دباﺅ ہے تو پی ٹی آئی نے بھی پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی والا راستہ اختیار کیا پیپلزپارٹی نے حفیظ شیخ کو سندھ سے2006میں اور پرویز مشرف حکومت نے 2003میں انہیں مسلم لیگ (ق)کے ٹکٹ پر سندھ سے سینیٹر منتخب کروایا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان کو ان کی کچن کیبنٹ میں شامل وزیروں ‘مشیروں اور دیگر درباریوں نے شرمندہ کروایا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یا تو وزیراعظم کی کچن کیبنٹ واقعی اتنی بے خبر تھی کہ اسے حالات کا ادراک نہیں تھایا انہوں نے شعوری طور پر وزیراعظم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ حفیظ شیخ کی ہار کو عوامی حلقوں میں عمران خان کی ہار مانا جارہا ہے ۔
