کیا کپتان کے لاڈلے فیصل واوڈا سے سینیٹر شپ چھن جائے گی؟


دہری شہریت کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان کے نظام انصاف کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے پہلے تو اڑھائی برس تک اپنے خلاف دائر نااہلی کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے اور پھر سینیٹ کی نشست پر امیدوار بن کر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر سینیٹر بن جانے کے باوجود دہری شہریت کے معاملے پر غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ان کا سینیٹ میں رہنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ان کے مستقبل کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرنا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل واوڈا دوہری شہریت کیس میں قومی اسمبلی سے استعفے دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں نااہلی سے تو بچ گے لیکن عدالت نے ان کے حلف نامے کو بظاہر جھوٹا قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ چنانچہ قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن 2018 میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بطور نظیر استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان انہیں نااہل قرار دے سکتا ہے جس کے بعد بعد ان کی سینیٹر شپ بھی ختم ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد نے اپنے 3 مارچ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ بادی النظر میں فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں جمع کروایا جانے والا حلف نامہ جھوٹا ہے جس کی انہیں سزا ملے گی۔
فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے کے باعث انھیں قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کا جمع کرایا گیا بیان حلفی بظاہر جھوٹا ہے اور اس پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔
خیال رہے کہ رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد واودا وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، اور انہیں آبی وسائل کی وزارت دی گئی تھی۔
3 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے تیرہ صفحات پر مشتمل اہنے فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں واوڈا کے خلاف نا اہلی کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔ جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے نتائج ہیں۔ دوسری جانب سے درخواست گزار کے وکیل جہانگیر خان جدون نے اعتراض کیا کہ فیصل واوڈا نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے سینیٹ کا ووٹ کاسٹ کیا لہذا جب تک ان کا استعفا منظور نہیں ہوتا، وہ رکن اسمبلی ہی تصور کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن سے نشست خالی ہونے کا نوٹیفیکیشن بھی ضروری ہے جو کہ تاحال جاری نہیں ہوا۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کے خلاف صرف کیس ایس ابھی زیرالتوا ہے؟ جس پر الیکشن کمیشن کے نمائندے نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کا کیس ابھی چل رہا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ دوہری شہریت پر نااہلی تاحیات نہیں ہوتی بلکہ صرف اس الیکشن کی حد تک محدود ہوتی ہے تاہم فیصل واوڈا کی جانب سے جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن ہی فیصل واوڈا کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ فیصل واوڈا 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات کے دن صبح نو بجے پارلیمنٹ آئے۔ پولنگ کے آغاز میں اپنا ووٹ ڈالا اور پھر اس کے فوراً بعد وہ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو گئے۔ دوسری جانب دہری شہریت سے متعلق مقدمے میں ان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کا استعفی جمع کروا دیا۔
یاد رہے کہ درخواست گزار کی طرف سے فیصل واوڈا پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے جب قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے الیکشن کمیشن کے سامنے بیان حلفی جمع کرایا تھا جس میں انھوں نے یہ حلفاً کہا کہ وہ دہری شہریت کے حامل نہیں ہیں تو اس وقت بھی ان کے پاس امریکہ کی شہریت تھی۔ خیال رہے کہ عدالت نے فیصل واوڈا کو 29 جنوری 2020 کو دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس دیا تھا پھر جون میں جواب جمع نا کرانے پر توہین عدالت درخواست میں نوٹس دیا گیا اور متعدد پیشیوں پر التوا حاصل کرنے کے بعد 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات کے روز فیصل واوڈا کے وکیل نے جواب کے بجائے عدالت میں استعفی جمع کرا دیا۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب ان کے خلاف نااہلی درخواست غیر موثر ہو گئی ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے 2018 کے فیصلے میں کہا کہ جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے اپنے نتائج ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سنائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button