سینیٹ اور قومی اسمبلی سے بھی پروفیسروارث میرکےحق میں آوازیں بلند


9 جون 2020 کو پنجاب اسمبلی سے معروف دانشوراورصحافی پروفیسر وارث میر کی قومی اور صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پاس ہونے کے بعد اب قومی اسمبلی اور سینٹ سے بھی ان کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
حال ہی میں پنجاب کے بونگے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی جانب سے پروفیسروارث میر کو غدار قرار دیئے جانے کے بھونڈے بیان کی مذمت کا سلسلہ اب طویل ہوگیا ہے۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے منتخب اراکین کی وارث میر کے حق میں منظور شدہ قرار کے بعد اب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے منتخب اراکین بھی بزدار حکومت سے نیو کیمپس انڈر پاس کو دوبارہ پروفیسر وارث میر کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اب سابق وفاقی وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر کے علاوہ ن لیگ کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی نے بھی بد زبان چوہان کی جانب سے پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یاد رہے کہ پروفیسر وارث میر ایک ممتاز اور بے باک دانشور اور صحافی تھے جن کو ان کی صحافتی خدمات اور ضیاء آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز "ھلال امتیاز” سے نوازا تھا۔
پروفیسر وارث میر کی انہی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ایس ایم ظفر نے سینئر صحافی حامد میر کے نام ایک خط میں فیاض چوہان کی بدزبانی کی مذمت کی ہے اور لکھا ہے کہ مجھے بے حد افسوس ہے کہ ہماری سیاست اب اس حد تک گر چکی ہے کہ ایک محب وطن دانشور کو غدار کہنے کے لئے کسی شہادت یا دلیل کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جارہی۔ ایس ایم ظفر نے لکھا کہ میری آپ کے والد وارث میر، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان، نثار عثمانی اور امجد حسین کے درمیان اکثر قومی مسائل پر گفتگو میرے مال روڈ لاہور کے دفتر میں ہوتی تھی۔ میں ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وارث میر جیسے باضمیر اور با کردار پروفیسر، صحافی اور لکھاری ہمارے معاشرے میں ہوں تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ انہوں نے لکھا کے وارث میر نے صحافت میں مولانا ظفر علی خان والی روایت اپنائی اور اپنے وقت کے آمر مطلق کے خلاف آواز بلند کی جس کی بنیاد پر ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان نے انہیں 1988 میں ہیومن رائٹس ایوارڈ (بعد از مرگ) سے نوازا تھا۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ وارث میر کو انکی خدمات کے اعتراف میں یاد رکھا جانا چاہیے کیونکہ جو قومیں اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں انہیں تاریخ میں اس عمل کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
ایس ایم ظفر نے حامد میر کے نام اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ جب پروفیسر وارث میر کو پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے (ضیاء دور میں) بے باک مضامین لکھنے پر ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے یہ تقاضا کیا تھا کہ وہ جامعہ کے سٹاف ممبر ہونے کہ وجہ سے اخبارات میں مضامین نہیں لکھ سکتے تو ان کی جانب سے میں نے جواب دیا تھا۔ ایس ایم ظفر کے مطابق اس جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ پنجاب کا سٹاف ممبر ہونے کے باوجود پاکستانی آئین کے مطابق میں اپنی آزادی ضمیر اور تحریر کا بنیادی حق رکھتا ہوں۔ اس جواب کے بود یونیورسٹی کی انتظامیہ نے میر صاحب کو جاری کردہ نوٹس واپس لے لیا تھا۔
ایس ایم ظفر نے بتایا کہ جب وارث میر کا نام لاہور کینال روڈ لاہور کے انڈر پاس پر سے ہٹایا گیا تھا تو میں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ایک خط لکھا تھا جس میں وارث میر کے نام سے انڈر پاس بحال کرنے کا تقاضہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ اگست 2019 میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کو ٹویٹر پر ان فالو کیے جانے کے کچھ عرصے بعد اچانک ایک رات نیو کیمپس لاہور میں واقع وارث میر انڈر پاس کے بورڈ اتار دیئے گئے تھے اور اسے کشمیر انڈر پاس کا نام دے دیا گیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد 30 اگست 2019 کو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ایس ایم ظفر نے بطور چیئرمین ہیومن رائٹس سوسائٹی ایک خط لکھا اور نیو کیمپس انڈر پاس کا نام وارث میر کے نام پر بحال کرنے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے خط میں ایس ایم ظفر نے پروفیسر وارث میر کی قومی اور صحافتی خدمات پر بھی روشنی ڈالی تھی لیکن مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان کے خصوصی احکامات کی وجہ سے عثمان بزدار نے اس خط کے حوالے سے کوئی کارروائی نہ کی۔ پنجاب اسمبلی کی جانب سے 9 جون کو وارث میر انڈر پاس کی بحالی کے حوالے سے پاس کی گئی قرارداد کے بعد بھی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی نے قومی اسمبلی میں ایک فوری توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے پاکستان کے معروف صحافی اور استاد کے خلاف غداری کے الزامات لگائے ہیں۔ "میں اس معاملے پر فوری بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ وارث میر بے لاگ صحافت کے علمبردار تھے جنہوں نے 25 سال تک شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وارث میر نے آزادی اظہار کی خاطر جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں دھمکیاں اور سختیاں جھیلیں لیکن کلمہ حق کہنے سے پیچھے نہیں ہٹے اور ان کی انہی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے وارث میر کو ہلال امتیاز (بعد از مرگ) سے نوازا تھا ۔ قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے توجہ دلاؤ نوٹس میں کھیئل داس کوہستانی نے لاہور میں کینال روڈ پر واقع انڈر پاس سے پروفیسر وارث میر کا نام مٹانے کی مذمت کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسے دوبارہ پروفیسر وارث میر سے منسوب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں پنجاب کے وزیر فیاض چوہان کی جانب سے وارث میر پر غداری کا فتوی لگانے کی شدید مذمت کرتا ہوں، انھوں نے اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button