سینیٹ سے بھی سروسز ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

سینیٹ میں بھی آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے. چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سنیٹر ولید اقبال نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ائیر فورس 1953 اور پاکستان نیوی ایکٹ 1961 ترمیمی بلز پر قائمہ کمیٹی دفاع کی رپورٹس ایوان میں پیش کیں جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے سروسز ایکٹ ترمیمی بلز کو ایوان میں شق وار منظوری کے لیے پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بلز کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دیا جبکہ ترمیمی بلز کی منظوری کے خلاف جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔تاہم ایوان بالا میں پاکستان آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔
8 جنوری کو ہونے والے سینیٹ اجلاس کا سب سے اہم معاملہ سروسز ایکٹ ترامیمی بلز کی منظوری کے لیے رائے شماری تھا، جہاں مذکورہ بلز کی شق وار منظوری لی گئی۔
واضح رہے کہ ایوان بالا میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بلز پیش کیے گئے۔ مذکورہ ترامیمی بلز کو پاکستان آرمی( ترمیمی) بل 2020، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020 اور پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020 کے نام دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ 7 جنوری کو قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹ ترامیمی بلز 2020 کی منظوری کے بعد انہیں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں گئے تھے، جہاں اس کی منظوری دی گئی تھی۔ بعد ازاں آج اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی ایکٹس ترامیمی بلز کو پیش کیا گیا، جہاں اس پر شق وار منظوری لی گئی اور ایوان میں موجود اراکین نے کثرت رائے سے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے عنوان سے کی جانے والی قانون سازی کے نتیجے میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 برس ہوجائے گی۔
اس کے ساتھ مستقبل میں 60 برس کی عمر تک کی ملازمت کے بعد ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کا استحقاق وزیراعظم کو حاصل ہوگا جس کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے۔
منظورکردہ بل کے مطابق آرمی ایکٹ میں دفعہ 8 اے، بی، سی، ڈی، ای، ایف شامل کیے جائیں گے جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور عمر کے حوالے سے دفعہ 8 سی کہتی ہے کہ: اس ایکٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی جنرل کی مقررہ ریٹائرمنٹ کی عمر اور مدت ملازمت کی کم از کم عمر کا اطلاق چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی کی مدت، دوبارہ تعیناتی اور توسیع کے دوران نہیں ہوگا اور اس کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 سال ہوگی۔ اس عرصے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف، پاک فوج میں جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
دفعہ 8 اے (بی) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کے لیے شرائط و ضوابط کا تعین صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر کریں گے۔
دفعہ 8 بی (ٹو) کے مطابق اس ایکٹ یا کسی اور قانون میں موجود مواد، کسی حکم یا کسی عدالت کے فیصلے، تعیناتی، دوبارہ تعیناتی، چیئرمین کی توسیع، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، یا اس سلسلے میں کسی کو تعینات کرنے کی صوابدیدی کو کسی عدالت میں کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا‘۔
خیال رہے کہ 28 نومبر کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اگلے 6 ماہ تک پاک فوج کے سربراہ ہوں گے اور اس دوران حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سے آرمی چیف کی توسیع اور تعیناتی پر قانون سازی کرے۔
