بھارت نے سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری

بھارت کی جانب سے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑنے کےبعد پاکستان میں فلڈالرٹ جاری کردیا گیا ۔
ذرائع کےمطابق بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورت حال برقرار ہے، جب کہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔
دریائے سندھ میں سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے جب کہ کالا باغ، چشمہ اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کی سیلابی صورت حال موجود ہے، دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر بھی نچلے درجےکا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے جہلم، چناب، ستلج، راوی اور کابل کے بیشتر اہم مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، چاچڑان شریف اور بے نظیر پل کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ کر 1,539 فٹ تک پہنچ گئی اور ڈیم 89 فیصد بھرچکا ہے،جو گزشتہ سال کے برابر ہے،منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,196 فٹ سے تجاوز کرگئی ہے اور ڈیم 57 فیصد بھرچکا ہے۔
متعلقہ اداروں نے دریاؤں اور نشیبی علاقوں کی صورت حال پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔
کنٹرول روم کےمطابق دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح مزيد کم ہونے لگی ہےاور صورت حال نارمل ہونے لگی ہے،دریائے سندھ میںگڈو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورت حال ہے،وہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 36 ہزار 138 کیوسک جب کہ اخراج 2 لاکھ 99 ہزار 209 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
گڈو بیراج کنٹرول روم کےمطابق دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر 24 گھنٹوں میں 89 ہزار 965 کیوسک کمی واقع ہوئی ہے اور48 گھنٹوں تک گڈو بیراج پر نارمل صورت حال ہوجائے گی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کےمطابق پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کےمطابق ہے، دریائے چناب،جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے، دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے جب کہ کالا باغ میں 3 لاکھ 20 ہزار اور چشمہ میں پانی کا بہاؤ2 لاکھ 74 ہزار ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کےمطابق وزیرآباد ناکہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 3500 کیوسک ہے، نارروال نالہ بسنتر اور نالہ بئین میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب سیف انور جپہ کا کہنا ہےکہ بالائی کیچمنٹس میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ نالوں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے، لاہور، سیالکوٹ، راولپنڈی، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے،مری گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے،
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں جہاں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی، شہریوں سے گزارش ہےکہ موسم و سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں، بچوں کا خاص خیال رکھیں، انہیں دریاؤں اور ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں۔
