ملک میں فوری نئے صوبوں کا قیام نا ممکن کیوں؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس، نظامِ حکومت اور سیاسی اصلاحات سے متعلق حالیہ بیان نے ملک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی کراچی اور گوادر کو وفاق کے انتظام میں دینے کی تجویز نے اس بحث کو مزید وسعت دے دی ہے۔
خیال رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں نئے انتظامی یونٹس تشکیل نہیں دیے جائیں گے، نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی اور نہ ہی حکومتی نظام مؤثر انداز میں چل سکے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان صرف میرٹ، شفاف نظام اور روزگار کے مساوی مواقع چاہتے ہیں، اس لیے وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کریں۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اگر "کاکروچ دوبارہ اکٹھے ہو گئے” تو پورا نظام دوبارہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، اس لیے وقتی سیاسی اقدامات کے بجائے دیرپا اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اس بحث کو مزید تقویت اس وقت ملی جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کراچی اور گوادر جیسے اہم معاشی اور اسٹریٹجک شہروں کو وفاق کے انتظام میں دینے کی تجویز پیش کی۔ تاہم اس تجویز پر بھی فوری طور پر آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے گئے کہ آیا موجودہ آئین کے تحت ایسا ممکن ہے یا اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا طریقہ کار آئین میں واضح طور پر درج ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر نہ کوئی نیا صوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی علاقے کی انتظامی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر محسن نقوی کو محسوس ہوتا تھا کہ موجودہ نظام مؤثر نہیں تو انہوں نے گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران کابینہ میں یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھایا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت خود نظام کو ناکام قرار دے رہی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔نیئر بخاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام پر واقعی سنجیدہ پیش رفت مطلوب ہے تو سب سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ مطالبہ کئی برسوں سے موجود ہے۔
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے محسن نقوی کے بیان کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی موجودہ نظام کو ناکام سمجھتی ہے تو وزیر داخلہ کو یہی مؤقف پارلیمنٹ میں سرکاری پالیسی بیان کی صورت میں پیش کرنا چاہیے تھا۔ان کے مطابق اگر یہی بات اپوزیشن کرتی تو اس کی نوعیت مختلف ہوتی، لیکن ایک وفاقی وزیر کا اپنے ہی نظام پر سوال اٹھانا دراصل حکومت کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظام کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی جمہوری نظام کو تسلسل کے ساتھ چلنے ہی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق مختلف ادوار میں سیاسی جماعتیں بنائی اور توڑی جاتی رہیں، حکومتیں گرائی اور قائم کی جاتی رہیں، اس لیے صرف نظام کو ناکام قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔انہوں نے محسن نقوی کے "کاکروچ” والے بیان پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ کن عناصر کی طرف اشارہ کر رہے تھے، کیونکہ سیاسی قیادت کی تربیت کا نظام بھی ماضی میں کمزور کیا گیا۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرا کے مطابق اگر وزیر داخلہ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو انہیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ خود اسی حکومت کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے تو اس کی ذمہ داری پوری کابینہ پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کئی بار وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم رہ چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی طویل عرصے سے اقتدار کا حصہ رہی ہے، اس لیے اگر کابینہ کا ایک اہم رکن ہی نظام پر عدم اعتماد ظاہر کرے تو وزیراعظم کو اس پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔رؤف کلاسرا نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جنرل جہانگیر کرامت کے ایک بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا تھا، لہٰذا اس معاملے پر بھی وزیراعظم کی وضاحت ضروری ہے۔
سینئر تجزیہ کار منصور علی خان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث کئی برسوں سے جاری ہے اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بڑے صوبوں میں محدود سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے انتظامی تقسیم ضروری ہے۔تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نئے صوبے بھی قائم ہو جائیں تو کیا انہی بااثر خاندانوں کا اثر و رسوخ نئے صوبوں میں بھی برقرار نہیں رہے گا؟ان کے مطابق صرف نئے صوبے بنا دینا مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ اس کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی حکومتوں کا استحکام اور حقیقی سیاسی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔منصور علی خان نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقوں میں نئے صوبوں کے معاملے پر مستقبل میں ریفرنڈم کرانے کی تجویز زیرِ غور ہونے کی باتیں گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری اعلان یا تصدیق موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مارشل لا جیسے امکانات نظر نہیں آتے، البتہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلیوں پر بحث ضرور جاری ہے۔

 

پیپلز پارٹی اور فوج کے تعلقات خراب کیوں ہو رہے ہیں؟

آئینی ماہرین کے مطابق پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام، نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل یا کسی علاقے کو وفاق کے انتظام میں دینا صرف آئینی ترمیم، پارلیمنٹ کی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے اس نوعیت کی کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے۔ مبصرین کے بقول محسن نقوی کے بیان نے ملک میں انتظامی اصلاحات، نئے صوبوں، اختیارات کی تقسیم اور نظامِ حکومت پر ایک نئی قومی بحث ضرور چھیڑ دی ہے، تاہم اس بحث سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ صرف سیاسی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اگر واقعی انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لیے آئینی تقاضوں، پارلیمانی اتفاقِ رائے، مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف گورننس اور جامع سیاسی اصلاحات کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ بصورت دیگر یہ بحث بھی ماضی کی طرح سیاسی بیانات تک محدود رہنے کا خدشہ رکھتی ہے۔

Back to top button