پی ٹی آئی کی 5 اگست کی احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام

تحریک انصاف کے 5 اگست کو پشاور میں ہونے والے مجوزہ جلسے کو پارٹی قیادت ایک اہم سیاسی سرگرمی قرار دے رہی ہے، تاہم جلسے کی تیاریوں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض سیاسی حلقوں اور مبصرین کے مطابق جلسہ مہم کو وہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف اس حوالے سے مختلف ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے بعض تاجروں اور شہریوں نے جلسے میں شرکت سے گریز کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کی اولین ترجیح اپنے کاروبار، روزگار اور روزمرہ کے مسائل ہیں۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، امن و امان، صحت، صاف پانی، سڑکوں کی خستہ حالی اور دیگر بنیادی مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں، اس لیے سیاسی سرگرمیوں کے بجائے حکومت کو عوامی فلاح پر توجہ دینی چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی جلسہ مہم زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود دکھائی دے رہی ہے، جبکہ زمینی سطح پر تشہیری سرگرمیاں محدود نظر آ رہی ہیں۔ جمعہ کے روز ہونے والی شدید بارش اور طوفانی موسم کے باعث شہر میں لگائے گئے متعدد بینرز اور پوسٹرز بھی متاثر ہوئے، جس سے انتخابی مہم کی رفتار پر بھی اثر پڑا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کو اس وقت دہشت گردی، امن و امان، مہنگائی اور ترقیاتی منصوبوں میں سست روی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق عوام کی توقع ہے کہ صوبائی حکومت ان مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرے اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر امن کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر اقدامات کرے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف مسلسل تیسری مرتبہ خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے، اس لیے عوام اب کارکردگی کی بنیاد پر جواب چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی 5 اگست کے مجوزہ جلسے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی رہائی مقصود ہے تو اس کا راستہ عدالتیں ہیں، نہ کہ جلسے یا احتجاج۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ ملک میں استحکام اور جمہوری عمل کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک جانب ملک میں یومِ شہدا منایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب جلسوں کے انعقاد پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پشاور کے بعض تاجروں نے بھی جلسے میں شرکت سے معذرت کا اظہار کیا۔ اندرون شہر کے تاجر مسلم خان کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں نے انہیں جلسے میں شرکت کی دعوت دی، تاہم انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عوامی نمائندے صرف سیاسی ضرورت کے وقت رابطہ کرتے ہیں، جبکہ عام دنوں میں بازاروں اور عوامی مسائل سے دور رہتے ہیں۔
اسی طرح بعض شہریوں نے بھی اپنے اہلِ خانہ، خصوصاً نوجوانوں کو جلسے میں شرکت کے بجائے تعلیم، ملازمت اور کاروبار پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ ایک شہری ملک پرویز کے مطابق ان کے بیٹے ماضی میں تحریک انصاف کے جلسوں میں شریک ہوتے رہے، مگر اس بار انہوں نے انہیں جلسے میں جانے کے بجائے اپنے روزگار پر توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ ان کا وقت زیادہ مفید انداز میں استعمال ہو سکے۔
کشمیری عوام کے صبر، تحمل اور برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں: فضل الرحمان
اگرچہ یہ آراء بعض شہریوں، تاجروں اور سیاسی مخالفین کی جانب سے سامنے آئی ہیں، تاہم تحریک انصاف کی جانب سے جلسے کو کامیاب بنانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے جلسے کی حقیقی عوامی شرکت اور سیاسی اثرات کا اندازہ 5 اگست کو جلسے کے انعقاد کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔
