شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندی سے فوٹوگرافرز بیروزگار

ملک بھر میں کرونا وائرس کے باعث شادی بیاہ کے فنکشنز پر پابندی نے جہاں شادی کے ارمان سجائے ہزاروں دولہوں اور دلہنوں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے وہیں ان فنکشنز کی کوریج سے روزگار کمانے والے سینکڑوں فوٹو گرافرز بھی بےروزگار ہو چکے ہیں اور اب فاقے کاٹنے پر مجبور ہیں۔
کرونا وائرس نے انسانی صحت سمیت زندگی کے تمام معمولات کو تو متاثر کیا ہی ہے لیکن لاک ڈاؤن نے لوگوں کو گھروں میں قید ہونے پر مجبور کردیا ہے، مسلسل کاروبار بند رہنے سے ہر طبقہ پریشان ہے، جن دنوں کرونا وائرس حملہ آور ہوا وہ ٹھنڈ کا موسم اور شادیوں کا سیزن تھا، یہ وہ ایام ہوتے ہیں جن میں بازاروں میں خوب گہما گہمی ہوتی ہے، تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہے، جن کو کرورنا وائرس کے دنوں میں بھی شادیوں کے فنکشن کا انتظار رہتا ہے اور وہ ہیں شادی بیاہ کے فنکشنز کی فوٹو گرافی کرنے اور انکی ویڈیوز بنانے والے لوگ۔
لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں میں شادیوں کی تقریبات ملتوی ہونے سے فوٹو گرافرز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پیشہ ور فوٹو گرافرز اب ہر شادی کا لازمی جزو تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے بغیر شادی کا فنکشن نامکمل لگتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریب میں ہر کوئی تیار ہو کر شرکت کرتا ہے تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ فوٹوگرافر اپنے کیمرے کی آنکھ میں اس کی تصاویر ہمیشہ کےلیے محفوظ کرلے۔
اس حوالے سے فوٹوگرافرز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون سے قبل مارچ اور اپریل کے مہینوں کے لیے اُن کے پاس درجنوں فنکشنز کی بکنگ ہوتی تھیں مگر شادیاں ملتوی ہوئیں تو اُن کی بکنگ بھی کینسل ہوگئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں کہ لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا، وائرس کب کنٹرول ہوگا اور شادیوں کے فنکشنز کب دوبارہ شروع ہوں گے۔ ان حالات میں مارکیز اور شادی ہال میں اگلے دو ماہ شادیاں ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔
لاک ڈاون کی وجہ سے شادی ہال بند ہونے سے کئی لوگوں نے گھر پر ہی شادی کی مختصر تقریبات منعقد کرنے کو غنیمت جانا۔ کئی ایک نے تو سادگی سے نکاح کی تقریب منعقد پر ہی شکر کیا۔ مگر شادی کا ایونٹ بڑا ہو یا چھوٹا فوٹوگرافر ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔
لاہور کے ایک فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کے بعد ایک ہفتے تک جن فنکشنز کی بکنگ ہوئی تھی اُنہوں نے گھر پر ہی بلاکر ایونٹ کور کروا لیا تھا مگر گزشتہ پندرہ دنوں سے اُن کو کسی کلائنٹ کی جانب سے کوئی نئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
ان فوٹوگرافرز نے امید کا اظہار کیا کہ رمضان کے بعد حالات بہتر ہو جائیں گے اور اُن کو دوبارہ کام ملنا شروع ہو جائے گا۔ اُنہوں نے حکومت سے بھی اپیل کی کہ اُن جیسے کئی سفید پوش حالات بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، مگر اس دوران ان کی کفالت کی ذمہ داری حکومت کو اُٹھانی چاہیے۔
لاک ڈاون سے متاثر ہونے والا صرف یہی ایک شعبہ نہیں بلکہ ہزاروں دیگر شعبوں کے لوگ بھی اپنے روزگار چھن جانے سے پریشان ہیں۔ بیوٹی پالرز ِسے لے کر گھروں میں کام کرنے والے ملازموں تک، سبھی کو یہی ڈر ہے کہ اگر یہ لاک ڈاؤن کچھ دن اور رہا تو شاید اُن کو افاقے ہی نہ کاٹنے پڑ جائیں کیوں کہ جب کام ہی نہیں ہوگا تو تنخواہیں کون دے گا۔
