شادی ہالز ایس او پیز: کیا اب شادیوں کی تقاریب پہلے جیسی ہوں گی؟

پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر ملک بھر میں 13 مارچ سے تمام شادی ہالز بند کر دیے گئے تھے، تاہم اب حالات بہتر ہونے پر حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں دوبارہ کھول دیا جائے۔
دیگر کاروباروں اور صنعتوں کی طرح شادی ہالز اور مارکی بزنس سے منسلک افراد کےلیے بھی حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں، جن پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تقریب میں آنے والے مہمانوں اور شادی ہالز انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔ شادی ہالز مالکان کا کہنا کہ جو ایس او پیز حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اُن پر تقاریب میں شرکت کرنے والے افراد کے تعاون کے بغیر عمل کرنا بیحد مشکل ہو گا۔ مشورہ کرنے کی غرض سے باہم سر جوڑ کر بیٹھے شادی ہالز ایسوسی ایشن کے ممبران کا اس موقع پر ایک ہی سوال ہے اور وہ یہ کہ مرد حضرات سے تو ہم ماسک کی پابندی کروا لیں گیں لیکن خواتین سے کس طرح اس پر عمل کروایا جائے گا؟۔ شادی ہالز ایسوسی ایشن کے ایک ممبر کا کہنا ہے کہ اب تمام سختیاں شادی ہالز والوں پر ہوں گی کیوں کہ ہم تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ ماسک پہن لیں، کسی کے ساتھ زبردستی تو نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہزاروں روپے پارلر میں میک اپ پر خرچ کرنے والی خواتین تو شاید ماسک نہیں پہنیں گی۔ ابھی تک اس مسئلے کا حل نا تو شادی ہالز کے مالکان نکال سکے ہیں اور نا ہی حکومتی حلقوں کی جانب سے انہیں اس مسئلے کا کوئی حل بتایا گیا ہے۔
اس حوالے سے بیشتر خواتین کا کہنا تھا کہ اگر تو ہمیں ماسک کا استعمال کرنا ہے تو اس کےلیے صرف آنکھوں کا اچھا سا میک اپ کرنا ہی کافی رہے گا جب کہ بہت سی ایسی خواتین بھی تھیں جن کی رائے میں پارلر سے مہنگا میک اپ کروانا اور پھر ماسک پہن لینا پیسے ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ چند خواتین کی یہ رائے سامنے آئی کہ ایس او پیز پر عملدرآمد صرف چند روز کےلیے ہی ممکن ہو سکے گا اور پھر حالات معمول پر آ جائیں گے۔ تاہم کئی خواتین نے یہ کہا کہ شادی کی تقریب پر میک اپ کرنا تو لازمی ہے کیوں کہ تقریب میں تصاویر بھی تو بنوانی ہوتی ہیں۔
کورونا کے باعث شادی تاخیر کا شکار ہونے پر ایک دلہن کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والے اور سسرال والے شادی خاصی دھوم دھام سے کرنا چاہتے تھے جس کےلیے انہوں نے ایک سال پہلے سے ہی تیاری شروع کر دی تھی۔ تاہم اب ہمیں اپنے سب ارادے تبدیل کرنے ہوں گے کیوں کہ کورونا کے خوف کے ساتھ ساتھ اب ایس او پیز کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے شادی ہالز اور مارکی مالکان کےلیے جاری کردہ ایس او پیز کچھ یوں ہیں:
• تمام شادی ہالز میں 50 فیصد مہمانوں کی گنجائش کو کم کیا جائے گا، یعنی پانچ سو مہمانوں کی گنجائش والے ہال میں اب ڈھائی سو مہمانوں کے انتظام کرنے کی اجازت ہوگی
• سماجی فاصلے کو ہال میں یقینی بنایا جائے گا، جس کو پورا کرنے کےلیے کرسیوں اور صوفوں کا درمیانی فاصلہ زیادہ رکھا جائے گا
• تقریب میں شریک ہر شخص بشمول ہال انتظامیہ کے ممبران کا ماسک پہننا لازمی ہوگا
• ہال میں داخل ہونے والے ہر شخص کا درجہ حرات چیک کرنا ہال انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی
• تقریب میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے پر بھی پابندی ہو گی
• ہال میں کسی بھی تقریب کے شروع ہونے سے پہلے اسے سینیٹائز کرنا انتظامیہ پر لازم ہوگا
• تقریب کم سے کم وقت میں اختتام کرنے پر زور دیا گیا ہے
• آگاہی کےلیے ہالز میں جگہ جگہ کورونا سے بچنے کےلیے احتیاطی ہدایات اور ایس او پیز آویزاں کرنا ضروری ہوگا
• ہال کے داخلی دروازے اور ہال کے اندر جگہ جگہ ہینڈ سینیٹائزر رکھنا اور اس کا استعمال کرنا ضروری ہوگا
ان ایس او پیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے لاہور میں ایک شادی ہال کے مالک کا کہنا تھا کہ ان تمام ایس او پیز پر عملدرآمد سے ہمارے خرچے بڑھ جائیں گے۔ ہال کو ہر تقریب کے بعد سینیٹائز کرنا، لوگوں کو ماسک فراہم کرنا، اپنی لانڈری کو ہر تقریب کے بعد دھلوانا اور دیگر ہدایات پر عمل کرنے کےلیے ہمارا مزید خرچہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب جب ہم 50 فیصد مہمانوں کی تعداد کم کریں گے تو خود ہی اندازہ لگا لیں کہ جتنا ہم کماتے تھے اب اس کا آدھا کما سکیں گے اور جو کمائیں گے وہ اخراجات کی مد میں صرف ہو جائے گا۔ اسی دوران شادی ہالز مالکان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہالز کو بند کرنے کے اوقات کار کو بڑھایا جائے۔
اس بارے میں گفتگو کرتے ہونے ایک شادی ہال کے مالک کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کےلیے ہمیں تقریب کو مکمل کرنے کےلیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہالز کو بند کرنے کے اوقات بھی رات دس بجے سے بڑھا کر کم از کم 11 بجے کر دینے چاہییں۔
شادی ہالز اسوسی ایشن پنجاب کے صدر محمد خالد کے مطابق پاکستان میں تقریباً 18 سے 20 ہزار شادی ہالز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث یہ انڈسٹری چھ ماہ تک بند رہی جس سے اسے اتنا تقصان پہنچا کہ لوگ قرضوں میں ڈوب گئے اور انہیں ہالز اور مارکیاں بند کرنا پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے بہت سے ایسے دوست ہیں جنہوں نے کرائے پر جگہ لے کر مارکی اور ہالز کھول رکھے تھے۔ مشکل حالات کے باعث بہت سے لوگوں نے اپنے گھر اور جائیدادیں بیچی ہیں۔ جب کہ کچھ مالکان نے کرایہ نا دینے کی وجہ سے اپنی جگہیں خالی کروا لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے یہ درخواست ہے کہ اگر اب یہ انڈسٹری کھول دی گئی ہے تو ہمیں کچھ نا کچھ ریلیف ضرور دیا جائے تاکہ ہم اپنے حالات کو بہتر کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button