شدت پسندوں سے معاہدے حکومت نہیں، عوام بھگتیں گے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ تحریک لبیک جیسی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے حکومت نے نہیں بلکہ اس ملک کے عوام نے بھگتنا ہیں لہذا ایسے فیصلے کرنے سے پہلے ان کے نتائج پر اچھی طرح غور کرلینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ریاست نے جگہ چھوڑی تھی اور آج بھی ریاست ہی پیچھے ہٹ رہی ہے۔ کل بھی عہد طاقت سے تھا آج بھی وعدہ اختیار سے ہی ہے۔ کل بھی سمجھوتے عوام نے بھگتے تھے، اب بھی سمجھوتہ عوام ہی بھگتیں گے کیونکہ نہ ماضی میں ہم نے سیکھا تھا اور نہ ہی ماضی سے ہم کبھی سیکھیں گے۔
بی بی سی کے لیے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ خوف کے موسم میں بے یقینی کی فصل ہی بوئی اور کاٹی جاتی ہے اور طاقت کے ایوانوں میں طاقت سے ہی بات ہوتی ہے البتہ ریاست اور عوام کا تعلق کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے جس کی خبر اور پرواہ کسی کو نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ریاست کا تصور عوام اور عوام کا تصور حکومت سے منسلک ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان حکومت پُل کا کام دیتی ہے، مگر ریاست اب محض چند اداروں کا نام ہے اور پُل محض ایک استعارہ۔ ریاست اور عوام آمنے سامنے ہوں تو حکومتیں تماشا نہیں دیکھتیں اور نہ ہی ریاست لاتعلق رہ سکتی ہے۔
بقول عاصمہ ہم ایک مرتبہ پھر اُسی صورتحال کے شکار ہیں جہاں عوام تماش بین اور ان دیکھی طاقتیں تماش گیر ہیں۔ ہم ایک بار پھر دوراہے پر ہیں اور پُرانے گھسے پٹے سکرپٹ پر مبنی فلم دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب تو پہلے بھی دیکھا جاتا رہا ہے، منتخب حکومتیں ہوں یا ’چنتخب‘، علی الاعلان حکومت ہو یا ہائبرڈ، جمہوری ہو یا غیر جمہوری، آمریت ہو یا فاشسٹ نظام، نہ ہمارا طریقہ کار بدلا نہ ہی ہمارا انداز۔
فرق صرف یہ ہے کہ ہائبرڈ کا تجربہ ذرا پہلی بار ہوا ہے، اسی لیے پہلے ایک صفحے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور پھر آدھے کا اور اب وہ صفحہ یہاں وہاں اُڑتا پھر رہا ہے اور پکڑائی ہی نہیں دے رہا۔ پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہونے والے اب دست و گریباں جبکہ ہستی کا سامان اب وجہِ وجود اختلاف بن رہا ہے۔ خوف تو اس بات سے ہے کہ جس قدر نزدیکیاں تھیں دوریاں کہیں شکوے شکایات میں اور خوبیاں خامیوں میں نہ بدل جائیں اور ہنڈیا بیچ بازار میں نہ پھوٹے۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ کہ کالعدم تحریک لبیک نے چھٹا دھرنا دیا ہے، ہر دھرنے کے بعد تحریک لبیک کے ہاتھوں کوئی نہ کوئی معاہدہ ضرور آیا۔ ہر معاہدے میں ریاست ایک قدم پیچھے ہٹتی دکھائی دی، کبھی پیسے بانٹنے کے مناظر تو کبھی حساس ادارے کے افسر کے دستخط، کبھی فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کا معاملہ تو کبھی لفظ ’کالعدم‘ ہٹانے کی کوشش۔ اب کی بار مگر سر بہ مہر لفافے میں کیا ہے، بتایا تو نہیں گیا مگر عنوان بتا رہا ہے کہ تحریر کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس خفیہ معاہدے کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا تو اہل سیاست و دانش کو ہوش آیا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ یہ تاریخی دستاویز بالکل منظر عام پر آنی چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ تاریخ اس تاریخی دستاویز کو کیا نام دے گی؟ بقول عاصمہ سوال یہ ہے کہ یہ معاہدہ حکومت نے کیا ہے یا اسٹیبلشمینٹ نے؟ اگر حکومت مذہبی جماعت کو قومی دھارے میں لانا چاہتی تھی تو اس میں چھپانے کی کیا بات ہے؟ اب کل کو گذشتہ معاہدے کی طرح وزیراعظم نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تو حکومت کی رِٹ قائم کرنے کی رَٹ لگانے والے وزرا کس منھ سے عوام کے پاس جائیں گے؟ انکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا کیا ہے، وہ تو پہلے بھی یو ٹرن کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دیتے ہیں۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ بہتر تو یہ ہو گا کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ان معاہدوں کو کتاب کی شکل دے دی جائے اور اُس پر ’خفیہ دستاویز‘ تحریر کر دیا جائے۔ پہلے اور آخری صفحے پر صرف ریاست کی رٹ تحریر کر دی جائے جبکہ درمیان کے صفحوں کو خالی چھوڑ دیا جائے تاکہ آنے والی تمام حکومتیں یہ کتاب ان گروہوں کے سُپرد کر دیں جو اپنی مرضی کی تحریر اور معاہدے ان پر رقم کر لیں۔
کیسا معاہدہ، کس کا معاہدہ۔۔۔ وزیراعظم سے ملا کوئی اور معاہدہ کیا کسی اور نے، تحریر کسی اور کی خط ملا کسی اور کا، سر آئینہ کوئی اور تھا پس آئینہ کوئی اور۔۔۔ بقول عاصمہ، وزیراعظم کو سمجھ تو آ گئی ہو گی کہ بلی نے ابھی درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا۔ وہ دوست جو جاننا چاہتے ہیں کہ خفیہ معاہدے میں کیا ہے وہ جان لیں کہ علی الاعلان معاہدے سے اُنھیں کیا ملا جو خفیہ معاہدے سے کچھ حاصل ہو جائے گا۔ جان لیجیے کہ پہلے بھی ریاست نے جگہ چھوڑی تھی اور آج بھی ریاست ہی پیچھے ہٹی ہے۔ کل بھی عہد طاقت سے تھا آج بھی وعدہ اختیار سے ہی ہے۔ کل بھی سمجھوتے عوام نے بھگتے تھے، اب بھی سمجھوتہ عوام ہی کریں گے۔ نہ ماضی میں ہم نے سیکھا تھا نہ ماضی سے ہم کبھی سیکھیں گے۔
