شرپسند عمرانڈوز کو ہمشیہ کیلئے سیاست سے آؤٹ کرنے کا فیصلہ؟

9مئی کے پر تشدد واقعات میں ملوث عناصر،ان کے ماسٹر مائنڈز کو عوامی نمائندگی کیلئے نا اہل کرانے پرپی ٹی آئی کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے کے ساتھ مشترکہ مشترکہ قانونی ٹیم بنانے پر مشاورت شروع کر دی ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جار ہا ہے کہ الیکشن سے قبل اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر کے ایسے شرپسند عناصر کے الیکشن لڑنے پر مستقل پابندی لگواتے ہوئے انھیں ملکی سیاست سے ہمیشہ کیلئے آؤٹ کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سابق حکمران اتحاد میں شامل پارٹیوں سمیت ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں متضاد مؤقف رکھنے کے باوجود اس بات پر متفق اور متحد ہیں کہ 9مئی کو افواج پاکستان کی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے کرنیوالوں اور ان کے ماسٹر مائنڈ کو عوامی نمائندگی کے لئے نا اہل کروانے کے لئے عملی قانونی جدو جہد کی جائے، اس حوالے سے قانونی ماہرین پر مشتمل مشترکہ قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے،جو متعلقہ قانونی فورمز پر پٹیشن دائر کر کے اس کی پیروی کرے گی ،سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انتخابی منشور میں بھی ان عناصرکو بدترین قانون شکن قرار دینے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف مئی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی کرپشن کیس کے سلسلے میں گرفتاری کے بعد پیش آنے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں نے سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں سمیت 900 سے زائد کارکنوں کو درجن بھر مقدمات میں مرکزی ملزمان قرار دے کر چالان یعنی چارج شیٹس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کراددی ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق 9 مئی کے مقدمات میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی اور 900 سے زائد پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز عمران کشور نے بتایا کہ ہم نے ان افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر الزامات کے تحت لاہور کے مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر درج 14 مقدمات میں سے 12 میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے اور چالان اے ٹی سی میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے نامزد افراد جن میں عمران خان، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزرا میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کے خلاف ’کافی شواہد‘ حاصل کرلیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقدمات میں فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ، صنم جاوید اور پی ٹی آئی کے کچھ دیگر کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا ہے، پولیس افسر نے کہا کہ ان ملزمان کے خلاف شواہد پیمرا، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور فوجی حکام سے موصول ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں درج درجن سے زائد مقدمات میں ڈیجیٹل اور فوٹوگرامیٹرک شواہد کے ساتھ ساتھ ملزمان کے وائس میسجز سے بھی ان پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق ہوگئی۔درج مقدمات کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد نے لاہور میں فوجی تنصیبات، پولیس کی گاڑیوں، دیگر سرکاری و نجی املاک پر حملہ کیا، لاہور کور کمانڈر ہاؤس ، عسکری ٹاور اور شادمان تھانے میں توڑ پھوڑ کے ویڈیو کلپس میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور سینکڑوں کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرا دیے، جس میں انہیں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے سمیت 9 مئی کے فسادات سے متعلق متعدد مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔اسپیشل پراسیکیوٹر سید فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ چالان ان مشتبہ افراد کے جمع کیے گئے تھے، جن سے پولیس نے تفتیش کی، انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش کیا گیا اور پھر جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف چالان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحقیقات تاحال نامکمل ہیں، فرہاد شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کا 9 مئی کے کسی بھی کیس میں جسمانی ریمانڈ نہیں لیا گیا اور نہ ہی دیگر مقدمات میں گرفتاری کی وجہ سے عدالت نے انہیں تاحال طلب کیا۔عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں استغاثہ نے الزام لگایا کہ 9 مئی کو ملزمان کی قیادت میں پُرتشدد مظاہرے ریاست کے خلاف منظم سازش کا حصہ تھے، اس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر سمیت 400 سے زائد ویڈیو شواہد نے ثابت کیا کہ کینٹونمنٹ ایریاز میں فوجی تنصیبات اور احاطے میں حملے قبل سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔تمام مقدمات میں بغاوت اور ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں، چالان کے ساتھ ایف آئی اے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس بھی منسلک کی گئی ہیں، صرف جناح ہاؤس حملہ کیس میں پارٹی رہنماؤں سمیت 368 ملزمان کے چالان جمع کرائے جا چکے ہیں۔
جناح ہاؤس کیس کا چالان 3 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور استغاثہ کے 210 گواہوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے، عسکری ٹاور کیس میں 65 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے اور الزامات کے ساتھ 55 گواہوں کی فہرست جمع کرائی گئی ہے۔گلبرگ تھانے میں درج مقدمے میں 5 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے اور استغاثہ نے 36 گواہوں کی فہرست جمع کرائی ہے۔
